تازہ ترین

خطہ چناب کے جنگلات میں آتشزدگی کی وارداتوں کا سلسلہ جاری

بڑے پیمانے پر سبز سونے کو پہنچا نقصان، سیول سوسائٹی ممبران فکر مند

تاریخ    22 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


اشتیاق ملک
 ڈوڈہ //وادی چناب کے جنگلات میں آئے روز آگ کی پراسرار وارداتیں پیش آرہی ہیں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سبز سونے کو نقصان پہنچ رہا ہے اور جنگلی جانوروں کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ ادھر ماحولیات پر کام کر رہی تنظیموں نے آگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سماج کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے اور اعلیٰ حکام سے سخت اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پچھلے تین ہفتوں سے ڈوڈہ، بھدرواہ، بھلیسہ ،کشتواڑ و رام بن کے مختلف علاقوں میں آتشزدگی کی پراسرار وارداتیں پیش آرہی ہیں جس کے نتیجے میں جنگلات کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔سیول سوسائٹی ممبران نے جہاں عام لوگوں کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے وہیں محکمہ و جنگل مافیا کو بھی نشانہ بنایا ہے۔سیول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ جہاں کئی مقامات پر زمیندار اپنی کھیتوں میں آگ لگاتے ہیں اور وہ کوسوں دور پھیل کر جنگل کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے وہیں بیشتر وارداتیں جنگل مافیا پیڑ پودوں کے ناجائز کٹاؤ کے نشانات مٹانے کے لئے آگ لگاتے ہیں۔صدر ایجوکیشنل اینوائر منٹل سوشل سپورٹس و کلچرل سوسائٹی بھلیسہ غلام حسین میر نے آگ کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ و بھدرواہ ڈویڑنوں میں آگ کی پراسرار وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد جنگلات ریگستان میں تبدیل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل بھدرواہ کے نیرو رینج میں آگ کئی روز تک جاری رہی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سبز سونے کو نقصان پہنچا تاہم محکمہ و عوام کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا۔انہوں نے کہا کہ دو روز قبل بھلیسہ و پنگل بلاکوں کے مختلف کمپارٹمنٹس میں آگ لگ گئی ہے۔میر نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آگ زنی کرنے سے احتیاط کریں اور ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو اپنی چوری مٹانے کے لئے ان وارداتوں میں ملوث ہیں۔سرپنچ منیر احمد شیخ نے آتشزدگی کی پراسرار واردات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر مقام گندوہ سے کچھ ہی دوری پر دو روز سے آگ جاری ہے لیکن محکمہ آگ پر قابو پانے میں ناکام ہوا ہے۔اس سلسلہ میں جب کشمیر عظمیٰ نے ڈویژنل فارسٹ آفیسر بھدرواہ چندر شیکھر سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ محکمہ کی ٹیمیں ہر بلاک میں متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر وارداتیں زمینداروں کی وجہ سے پیش آرہی ہیں۔ڈی ایف او نے مقامی انتظامیہ و سیول سوسائٹی ممبران سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر کو بے نقاب کریں جو جنگلات کو نقصان پہنچانے کی غرض سے آگ لگاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو بھی افراد ان میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی. ڈی ایف او نے عوام سے بھی آگ نہ لگانے کی اپیل کی ہے۔