تازہ ترین

۔2برسوں میں ٹرانسپورٹ صنعت کو5ہزارکروڑ کا نقصان

اعلانات کے باوجود ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو کوئی سرکاری امدادنہیں دی گئی: ویلفیئر ایسوسی ایشن

تاریخ    22 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//وادی میں ٹرانسپورٹ صنعت کو گزشتہ 2 برسوںکے دوران قریب5ہزار کروڑ روپے کے نقصان سے دو چار ہونا پڑا۔5اگست 2019کے بعد بغیر کال ہڑتال کے نتیجے میں وادی میں 150دنوں تک کاروباری و ٹرانسپورٹ سرگرمیاں تھم گئی جبکہ کرونا لاک ڈائون کے5ماہ کے دوران بھی کلی طور پر ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بند ہوئی،جس نے اس خستہ حال صنعت کی رہی سہی کسر کو  پورا کیا۔ ٹرانسپورٹ انجمنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس مارچ سے کرونا کیسوں کے انکشاف اور بعد میں مسلسل5 ماہ تک لاک ڈائون کے دوران مجموعی طور پر انہیں2888 کروڑوپے کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا۔ان کا کہنا ہے کہ5اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے نتیجے میں بھی ٹرانسپورٹ کو16ارب11کروڑ60لاکھ روپے کا نقصان ہوا تھا۔سرینگر جموں شاہراہ کے بار بار بند ہونے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل میں خلل کے نتیجے میں بھی اس شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف کا کہنا ہے کہ 5اگست کے بعد اس  شعبے کو قریب50ارب کے نقصانات سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ وادی میں مجموعی طور پر60ہزار مسافربردار گاڑیاں موجود ہیں،جن میں32ہزار ٹیکسی و سومو گاڑیاں،6ہزار ٹاٹا گاڑیاں یا منی بسیں،12ہزار آٹو رکھشا اور بسیں شامل ہیں،جن کے ساتھ ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں، مالکان اور دیگر عملہ سمیت4کنبے ایک گاڑی پر منحصر ہے اور مجموعی طور پر2لاکھ کنبے ٹرانسپورٹ پر منحصر ہے،تاہم اعلانات کے باوجود بھی ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو سرکاری امداد سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جن دنوں میں گاڑیاں چلتی ہیں،ان دنوں میں بھی انہیں طرح طرح کے ٹیکسوں کی ادائیگی کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ شیخ محمد یوسف کا کہنا ہے کہ کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن نے جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر کے نام ایک مکتوب بھی روانہ کیا،جس میں انہیں ٹرانسپورٹ صنعت کو امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری خستہ ہوچکی ہے اور بیشتر گاڑی مالکان اب اپنی گاڑیوں کو فروخت ہی کرنا چاہتے ہیں۔کشمیر گڈس ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے صدر محمد صدیق رونگہ کا بھی کہنا ہے کہ مال بردار ٹرانسپورٹ کو نا قابل برداشت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس سرینگر جموں پر گاڑیوں کی نقل و حرکت کو کئی کئی روز تک بند کیا گیا ۔رونگہ نے کہا کہ رہی سہی کسر موسم سرما میں شاہراہ کے بار بار بند ہونے کے نتیجے میں پوری ہوئی،جس کی وجہ سے4ہزار کروڑ روپے سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔رونگہ نے کہا کہ گزشتہ2برسوں کے دوران ٹرانسپورٹ ٹیکسوں میں نا قابل برداشت اضافہ ہوا،جبکہ روڑ ٹیکس( ٹوکن) میں صد فیصد اضافہ ہوا۔ انکا کہنا تھا کہ سرینگر جموں شاہراہ کو ہمہ وقت قابل نقل و حمل بنانے کیلئے مربوط پا لیسی مرتب کرنے کو ترجیج دی جانی چاہے۔محمد صدیق رونگہ جو کشمیر اکنامک الائنس کے ترجمان اعلیٰ بھی ہیں،کا مزید کہنا تھا کہ ٹرانسپورت انڈسٹری کو بچانے کیلئے حکام کو ٹھوس،موثر اور قابل عمل منصوبہ سازی کرنے کی ضرورت ہے۔