غزلیات

تاریخ    21 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


کسی کو پُرمسّرت دیکھ کر  جلنا نہیں ہوتا
دلِ مومن میں کینہ کو کبھی پلنانہیں ہوتا
 بڑے ہی قاعدے سے پیش رو کی جانچ ہوتی ہے
یہاں ہر تیز رو کے ساتھ ہی چلنا نہیں ہوتا
ہمارے حوصلے کا امتحان لیتی ہے یہ دنیا
پشیماں ہوکے ہم کو ہاتھ پھر ملنا نہیں ہوتا
فلک چُھوتے عزائم ہوں،دلِ زندہ ہو سینے میں
غموں کی برف میں اس شخص کو گُھلنا نہیں ہوتا
عبث ہے زندگی کی بھیک ہردم مانگتے رہنا
سنا ہےموت کے اوقات کو ٹلنا نہیں ہوتا
عزیمت اور حکمت کا جو دامن تھام لیتی ہے
تو ایسی قوم کے سورج کو پھر ڈھلنا نہیں ہوتا
یہ دنیا چند روزہ بائولوں کا کھیل ہے بسملؔ
کسی دانا کواس میں پُھولنا پِھلنا نہیں ہوتا
 
 خورشید بسملؔ
تھنہ منڈی راجوری
موبائل نمبر؛9622045323
 
 
 
خواب  ملتے نہیں خیالوں سے ؟
پوچھے ہے وہ خراب حالوں سے
شہر کا شہر ہے چراغاں آج
تیرگی پھیلے گی اُجالوں سے
اب سنبھلنا بھی تھا بہت ہی محال 
کون بچتا پری جمالوں سے
شکر ہے تُو ملا مجھے ورنہ
عمر ٹھہری تھی کتنے سالوں سے
کن جوابوں کا منتظر ہوں میں
کام نکلا کسے سوالوں سے
ہجر والوں نے بھی سکوں پایا
کچھ حوالوں سے کچھ مثالوں سے
میں بھی ہوں  اُس کو بھولنے بیٹھا 
وہ بھی اب خوش ہے کتنے سالوں سے
 
راقمؔ حیدر
حیدریہ کالونی شالیمار(حال بنگلور و)
موبائل نمبر؛9906543569
 
 
نظر کسی سے ملی ہے شاید
تبھی غزل اک ہوئی ہے شاید
 
میں جس گلی میں بھٹک گیا تھا
یہی وہ یارو گلی ہے  شاید
        
فلک سے اُترے ہیں چاند تارے
پھر اُن کی محفل سجی ہے شاید
        
ہوا کی خوشبو بتا رہی ہے
یہ اُن کو چھوکر چلی ہے شاید
 
میں غیر کے عیب گن رہا ہوں
مرے ہی اندر کمی ہے شاید
 
دھواں بدن سے اُٹھا ہے اؔحمد
لو ! آگ دل میں لگی ہے شاید
 
احمد اؔرسلان کشتواڑی
موبائل نمبر;؛7006882029
 کمل محلہ کشتواڑ
 
 
جنونِ دل نہ ہو جب تک تو لغزش بھی نہیں ہوتی
فرشتوں سے کبھی کوئی غلطّی ہی نہیں ہوتی
 
بُلاتا ہے ہمیں تو اپنی محفل میں مگر دلبر! 
بُلا کر بھول جانے کی یہ خُو اچھی نہیں ہوتی
 
کسی کے وعدئہ فردا پہ جینے کے نہیں قائل 
وہ جن کی قسمتوں نے بھی وفا کی ہی نہیں ہوتی
 
یہ صیادوں کی بستی ہی نہیں ہوتی اگر ہمدم! 
سرِ مقتل پرندے کی دُعا ٹھہری نہیں ہوتی
 
 حیاتِ جاوداں پانے کی کوشش ہم نہیں کرتے
مگر ایسا نہیں ہے دل میں خواہش ہی نہیں ہوتی
 
متاعِ غم میں ڈوبی زندگی کو جینا سیکھا ہے
جو سچ پوچھوتو اب کوئی بھی مشکل ہی نہیں ہوتی
 
وہ جتنی ہم نے کاٹی ہے گناہوں کی سزا عذراؔ
کسی کے بھی گناہوں کی سزا اتنی نہیں ہوتی
 
عذرا ؔحکاک
 سرینگر،bintegulzaar@gmail.com
 
 
نرگساں کیسے کہوں ہار پڑا
میں تمہیں دیکھ کے بیمار پڑا
 
سہل تھا بوسۂ افلاک مگر
ایک ہی آن میں دشوار پڑا
 
کون تھا اپنے سوا کوئی نہیں
وہ میں تھا بیچ سَرِ رہِ یار پڑا
 
نیکیاں ساتھ نہیں،کچھ بھی نہیں
سر ترے در پہ گنہگار پڑا
 
بات دل کی ہی رکھی تھی میں نے 
دل ہی اب در پے آزار پڑا
 
دارِ لیلیٰ کی خبر قیس کو تو دیدو
راہ میں ہوتا نہیں کوئی دیدار پڑا
 
شہرِ دل سے جو گُریزاں ہے خرد
بس کہ پاشاؔ ہے گرفتار پڑا
 
احمد پاشاؔ جی
اسسٹنٹ پروفیسر 
شعبہء اردو ہندوارہ کالج
 
 
دل سے ہم نے جسے جدا نہیں سمجھا
وہ ہمیں قابلِ اعتناء نہیں سمجھا
 
ہم سے کروائیں حاجتیں پوری
پر ہمیں کو حاجت روا نہیں سمجھا
 
کھیلیں وہ اِس سے، مرضی ہے اُن کی
ہم نے دل کو کھلونا نہیں سمجھا
 
یاد کر لے گا جب ملے گی تنہائی
وہ کہ جس نے ہمیں اپنا نہیں سمجھا
 
صورتؔ ساماں تھا اُسکے بہلاوے کا
حیف دل کیوں یہ عندیہ نہیں سمجھا
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
 
 
چل آ بجھے ہُوے دل کو ذرا ہوا دے
سوئی ہوئی اُمنگوں کو پھر سے اب جگادے
 
ہرہرگلی کی نکڑ پہ بیٹھا ہے اک شکاری
اب تو مجھے بھی اپنی آغوش میں چُھپا دے
 
برسوں سے بیٹھ کے ہوں اُلفت میں تیری پیاسا
نم دیدہ آنکھوں سے تو بس جام اِک پلادے
 
آنکھیں ترس گئی ہیں دیدار کو تمہارے 
گوتیری طرح مجھ میں تو نگّری نہیں ہے
 
خاشاک و خس ہوں لیکن تو ہی اِسے سجادے
اک بار راستے میں آکر دیا جلا دے
 
ہر ایک درپہ تجھ کو جاتا ہوں مانگنے میں
میری دعائوں کا اب کچھ تو مجھے سِلا دے
 
راشدؔ فلک کو تکتا رہتا ہے رات بھر کیوں؟
اک بار نظریں اپنی وہ چاند سے ملا دے
 
راشد اشرف
کر الہ پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9622667105
 
 
اچھا سا کوئی وقت ہو شروعات کریں گے
ڈھونڈینگے خود کو خود سے کوئی بات کریں گے
مانا کہ ہیں دُنیا میں بہت رنجشیں، پھر بھی
آئوتو سہی ٹھیک یہ حالات کریں گے
ایسا نہیں کہ ہوں نہیں شہرت کا میں قائل
چپُ چاپ سے لیکن ہم کمالات کریں گے
آوئو تو سہی اب کے ہوائوں کے دوش پر
کچھ تذکرئہ فکر و خیالات کریں گے
اشعار میں رمیضؔ پروتا ہے تمہیں آج
تیرے ہی نام لفظوں کی سوغات کریں گے
 
رمیضؔبٹونی
بٹونہ گاندربل
موبائل نمبر؛9419629933
 

تازہ ترین