تازہ ترین

دیوانی

افسانہ

تاریخ    21 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


حبیب ہمراز
اُس کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔کہاں رہتی تھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد وہ بد حواس ہو چکی تھی۔لوگ اس کو دیوانی پاگل فقیر نی یا درویش سمجھتے۔گاؤں گاؤں پھرنا اس کا معمول بن چکا تھا۔جہاں جو کچھ ملتا کھا جاتی نہیں ملا تو قناعت۔یوں ہی شب و روز گذر جاتے البتہ پرانے کپڑے جمع کرنا اور پہننا اُس کا محبوب مشغلہ تھا۔اوپر سے نیچے تک کپڑوں میں ڈھکی چھپی رہتی۔جو کپڑا چیتھڑوں میں تبدیل ہوتا تو کسی سے مانگ کر لاتی اور اپنے آپ کو ڈھکا کرتی ۔۔۔آخر تھک ہار کر ایک گاؤں میں رُک گئی۔ ٹانگیں جواب دے چکی تھیں۔اسلئے آگے نہیں بڑھ سکی۔ایک بوڑھے چنار کے نیچے ڈھیرا ڈالا۔بچوں کیلئے ایک کھیل بن گیا۔شام تک گاؤں کے بچے اس کے اِرد گرد گھیرا ڈالے بیٹھتے۔کبھی کوئی منچلا ایک آدھ پتھر بھی پھینکتا۔کوئی دیوانی، کوئی پاگل اور کوئی درویش بھی کہتا۔وہ پاگلوں کی سی باتیں اور حرکتیں کرتی رہتی تھی۔
بہت مدت ہوئی گاؤں کی عورتوں کو لگا کہ یہ درویش ہے۔چند عورتیں اسکے پاس اپنی بپتا سنانے کے لئے آئیں اور اُس سے دُعااور تبرُک کی گذارش کرنے لگیں۔روز بروز یہ سلسلہ بڑھتارہا۔کبھی کسی کی حاجت اتفاقاً پوری ہوجاتی تو وہ دوسری عورتوں میں ڈھنڈورا پیٹتی کہ اُسکے پاس جانے سے میری حاجت پوری ہوگئی۔گاؤں کے چند خدا ترس افراد نے چنار کے نیچے اسکے لئے ایک جھونپڑی بنائی۔۔۔اب سکولی طالبات امتحان میں کامیابی کیلئے دُعاؤں کی گزارش کرنے لگیں۔امتحان کے دنوں میں یہ رش اور زیادہ بڑھ گیا۔
دو بہنیں سلمیٰ اور سعدیہ دسویں اور آٹھویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھیں۔وہ بھی دیگر طالبات کے ساتھ آتی رہتیں۔لیکن عجب بات یہ تھی کہ یہ دو بہنیں سب طالبات کے نکل جانے کے بعد بھی کچھ دیر اور ٹھہر جاتیںاور اُس کو خصوصی دُعاء کیلئے کہتیں۔ایک دن دیوانی نے دیوانگی کے بغیر اُن سے پوچھا،’’تم یہاں اتنی دیر تک کیوں ٹھہرتی ہو؟‘‘۔۔۔انہوں نے جواب دیا ،’’آپ نے ہم پر کوئی جادو کیا ہے۔ہمارے پیر واپسی کیلئے اُٹھ نہیں سکتے۔۔‘‘دیوانی زار و قطار رونے لگی اور کہا۔نہ میں کوئی دیوانی ہوں نہ درویش ہوں اور نہ جادوگرنی۔میں ایک مُصیبت زدہ  بد قسمت عورت ہوں۔جس کا بسا بسایا گھر اُجڑ گیااور میں حواس کھو بیٹھی۔ تم پھُول جیسی بیٹیوں پر کیوں جادو کروںیا بُراسوچوں۔آپ نے میرا کیا بگاڑا ہے۔دونوں بہنیںحیران ہوئیں اور اُسکی دلخراشی کیلئے معافی مانگی۔دیوانی نے اب زور دیکر کہا،بیٹیو میری زبان پھِسل گئی۔اب خدارا اِس راز کوفاش مت کرناورنہ یہ ٹھکانہ بھی میرے ہاتھ سے جائے گااور میں کہیں کی نہ رہ جاؤں گی۔سلمیٰ نے کہا،مجھے پہلے ہی اندازہ ہوچکا تھاکہ تم نہ دیوانی ہو نہ پاگل ہو۔اب رخصت دو ہم کل پھر آئیں گی۔۔۔۔ضرور آنا۔۔۔ دیوانی نے کہا۔گھر آکر باپ نے انہیں روز کی طرح دیر سے آنے پر ڈانٹااور فقیرنی کو بھی بُرا بھلا کہا۔تو سلمیٰ نے کہا ۔۔۔بابا ہم ماں کے پیار کی پیاسی ہیںنا۔اس لئے جہاں بھی ہمیں کوئی ماں جیسی عورت ملتی ہے،ہم اسکو ماں کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اس لئے ہمیں دیر ہوتی ہے۔اُن کا والد کمال بٹ آبدیدہ ہوگیا لیکن اُن کو تاکید کی۔۔۔تم بالغ لڑکیاں ہو،دیر تک  باہر رہنا نا مناسب ہے۔کل سے میرا رویہ مختلف ہوگا۔لیکن دوسرے دن دونوں بہنیں دیر تک جھونپڑی میں ٹھہری رہیں۔آج انہوں نے اسکے لئے کھانا بھی بناکے لایا تھا۔انہوں نے اُسکے منہ ہاتھ دھوئے اور بال سنوارے۔تب تک اندھیرا چھانے لگا۔کمال بٹ بہت غُصے میں اندر آیا۔اُس نے تہیہ کیا تھا کہ اب وہ اس پاگل عورت کو بھی دو چار سنائی گا۔وہ اندر آگیا۔دیوانی حیران و ششدر کھڑی ہوگئی۔۔۔کمال بٹ ہکا بکا رہ گیا۔دونوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔کمال بٹ پُکار  اُٹھا,,رضیہ تم۔۔تم رضیہ ہو۔سچ مچ۔۔اوہ  میرے خداکہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ہوں ۔ہاں کمال صاحب میں رضیہ ہی ہوں،سلمیٰ اور سعدیہ حیران ہو گیں ۔۔۔رضیہ یہ دونوں تمہاری بیٹیاں ہیں۔رضیہ! ایک چھوٹی سی بھول پر تم نے اتنی بڑی سزا دی۔ماں کے مرنے کے بعد میں تمہیں در در گلی گلی ڈھونڈھتا  رہا۔تھک ہار کر دونوں بیٹیوں کو جھوٹ بولا کہ تمہاری ماں مر گئی ہے، رضیہ نے کہا ۔۔۔کمال صاحب وہ چھوٹی سی بھول نہیں تھی۔ آپ اور آپکی ماں نے یہ بیٹیاں پیدا ہوتے ہی گھر سے گھسیٹ کر مجھے باہر پھینکا تھا ۔میں کیسے واپس آتی۔ میکے میں سہارا نہ ملنے کی وجہ سے وہاں سے بھی نکلی۔شاید میں حواس کھو بیٹھی تھی۔کمال شرمندہ ہوا۔سلمیٰ اور سعدیہ نے ماں کو گھر لایا۔ سبھی کی آنکھوں سے اشکوں کا سِیلِ رواں جاری تھا۔
���
تارزوہ سوپور،موبائل نمبر؛889903944
 

تازہ ترین