قدریں

افسانہ

تاریخ    21 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


ایف آزادؔ دلنوی
چھوٹی بہو کے قدم دہلیز کے اندر پڑتے ہی روایت علیؔ اور شفقت بیگم کے بُشرے گلاب کی طرح کھل اُٹھے۔ دونوں خوشیوں سے جُھوم رہے تھے  کیونکہ گھر میں ایک تعلیم یافتہ بہو آئی تھی۔ روایت علی اپنی ثقافت ‘ رسم ورواج اور رہن سہن کے طور اطوارکو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ آنے والی نسلیں اپنے کلچر کے اثاثے کومحفوظ رکھیں۔روایت علی کے گھر میں وہ ہر ایک چیز موجود تھی جو صدیوں سے ان کے کلچر سے جڑی ہوئی تھی۔ بڑی بہوبہت فرمانبردار تھی سسر کے ایک ایک حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس گھر میں ہشاش بشاش زندگی گزار رہی تھی۔ غالباًوہ اس طرز زندگی کو خوب انجوائے کر رہی تھی اور صبح سے شام تک کام میں مصروف رہتی۔کھانا پکاتی ‘پوریاں بناتی ‘ صفائی ستھرائی کرتی۔وہ ہر کام اکیلی کرتی۔چھوٹی بہوکے آنے پر وہ سوچ رہی تھی کہ اب وہ کام میںاس کا ہاتھ بٹائے گی اورزندگی خوشی خوشی گزرے گی۔چھوٹی بہو پیشے سے لکچرار تھی۔اس لحاظ سے گھر میںاُس کی بڑی توقیر ہونے لگی۔سُسر کے حکم کے مطابق بڑی بہو روز ہی کھانا چھوٹی بہو کے کمرے میں لے جاتی، جہاں وہ اپنے میاں کے ساتھ کھانا کھاتی جو اس کا ہم پیشہ تھا اور یہ سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا ۔ پھر ایک صبح چھوٹی بہو ڈیوٹی پر جانے کے لئے تیاری کررہی تھی تو بڑی بہو آکر بولی۔
’’چھوٹی بہو کھانا ٹفن میں بھر دوں یا کھا کے جائو گی۔‘‘
اس پر وہ قدرے تیز لہجے میں بولی۔ ’’یہ بھی کھانے کا کوئی وقت ہے ۔ٹفن میں بھردو۔‘‘
’’ٹھیک ہے چھوٹی بہو۔‘‘
چھوٹی بہو تیار ہوکر کچھ دیر کے لئے کمرے میں انتظار کرتی رہی۔ کھانے کا ٹفن کمرے میں نہیں پہنچا تو وہ تیز تیز قدموں سیڑ ھیاں اُترتے ہوئے جانے لگی تو بڑی بہو نے آواز دی۔
’’چھوٹی بہو کھانے کا ٹفن کیچن میں رکھا ہے لیتی جانا۔‘‘
اور وہ لابی کو جھاڑو مار کربچھائی کی سلوٹیں دور کرنے لگی۔ یہ چھوٹی بہو پر سخت نا گوار گزرا ۔وہ غصے سے شرابور ہو کر کار میں بیٹھ کر چلی گئی۔کچھ ہی دیر بعد بڑی بہو کیچن میں آئی تو کھانے کا ٹفن جوں کا توں پڑا دیکھ کرتیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے باہر نکلی مگر چھوٹی بہو چلی گئی تھی۔وہ ساس کے کمرے میں جاکر اُسے بولی
’ماں جی چھوٹی بہو۔۔۔!!!‘‘
وہ جلدی میں بات کاٹتے ہوئے بولی۔’’کیا ہوا چھوٹی بہو کو۔‘‘
’’ماں جی چھوٹی بہو کھانے کا ٹفن ساتھ لینا بھول گئی ہے۔‘‘
شفقت بیگم کچھ پریشان ہوکر بولی ۔’’کھانے کا ٹفن اُس کے کمرے میں لے گئی تھی نا۔‘‘
چھوٹی بہو ہچکچا کر بولی۔’’ماں جی میں نے اُسے کہا تھا کہ جاتے وقت کیچن سے ٹفن لیتی جانا۔‘‘
’’او ہو۔۔۔بڑی بہو ۔ ٹفن اُس کے کمرے میں جا کر دے آتی تو تیری کون سی ذات کم ہوجاتی۔ابھی تو اُس کے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اُتری ہے۔اب دن بھر بھوکی رہے گی۔‘‘
روایت علی ؔ کمرے میں موجود تھے، اُس نے مداخلت کر تے ہوئے کہا۔’’تم جائو بڑی بہو۔‘‘
اور اُس کے جاتے ہی بیوی سے بولے۔’’دن بھر بے چاری کام کرتی رہتی ہے اور تم ہو کہ قینچی کی طرح زبان چلاتی رہتی ہو۔آپکے ایسے رویے سے گھرکے حالات بگڑ جائیں گے۔‘‘  
روایت علی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ۔ ’’کئی ہفتے گزر گئے ایک بار بھی چھوٹی بہو نے کیچن میں بیٹھنے کی زحمت کی ہے۔ کب تک بڑی بہو اُس کے کمرے میں کھانا پہنچاتی رہے گی ؟‘‘
شفقت بیگم بولی ۔’’میری بہو بہت سمجھدار ہے۔ لیکچرار ہے اپنی ذمہ داری خود سمجھے گی ۔آپ فکر نا کریں ۔‘
شام کے وقت  شفقت بیگم حال چال پوچھنے چھوٹی بہو کے کمرے میں چلی گئی۔ حال چال پوچھنے کے بعد بولی ۔
’’چھوٹی بہو تم ٹفن ساتھ لینا بھول گئی تھی  دوپہر میں کچھ کھا پی لیا تھا۔‘‘
’’ماں جی میں نے چائے لی تھی ۔‘‘
’’ پھر تو تمہیں بہت بھوک لگی ہوگی۔چلو کیچن میں آکے کھانا کھا لو۔‘‘
اس پر وہ کچھ تند لہجے میں بولی ۔ماں جی میں نے اب تک کبھی کیچن میں  کھانا نہیں کھا یا ہے۔کھانا یہاں ہی بھجوا دیجئے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘‘
شفقت بیگم کو بہو کا یہ طرز تکلم بہت ناگوار گزرا مگر چپی سادھنے میں ہی عافیت سمجھی ۔
کچھ وقت گزر نے کے بعد چھوٹی بہو نے ایک موقع پر اپنی ساس سے کہا۔’’ ماں جی دو تین مز دور بلوا لیجئے گھر آنگن کی صفائی کر وانی ہے‘‘
شفقت بیگم کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی اور دوسرے ہی دن گھر میں مزدور بلوا  لئے۔چھوٹی بہو نے گھر کے اندر اور باہر کی چیزیں دکھا کر کہا۔
’’ان سب چیزوں کو یہاں سے ہٹا دو۔‘‘
مزدور کام کرنے لگے اور چھوٹی  بہو کے حکم کے مطابق ان چیزوں کو گھر کے پیچھے کھودے گڑ ھے میں پھینکنے لگے ۔روایت علی نے اپنی ثقافت سے جڑی چیزوں کو جب مزدوروں کو ہٹاتے ہوئے دیکھا تو آگ بگولہ ہوگئے اور اُنھیں بلا کر کہا ۔
’’روایت علی کا گھر ثقافت گھر کے طور پر جانا جاتا ہے میں نے اپنی ثقافت سے جڑی ہر ایک چیز کو یہاں محفوظ کرکے رکھا ہے اور تم ان چیزوں کو تہس نہس کر رہے ہو۔ ہر ایک چیز کو اپنی اپنی جگہ پر واپس رکھ آئو۔‘‘
اتنے میںچھوٹی بہو نے آکر کہا ۔’’بابو جی یہ فرسودہ چیزیں ہیں ان کو گھر سے ہٹوا دیجئے۔نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔ٖٖٖٖٖ!!!
’’نہیں تو۔۔۔۔۔۔کیا ۔۔۔‘‘
’’میں اس عجائب گھر میں نہیں رہوں گی۔‘‘
یہ سنکر روایت علی کے پائوں تلے زمین کھسکنے لگی اور سوچ میں پڑ گئے ۔’’یہ نئی جنریشن تو اپنی ثقافت ‘اپنے کلچر کی ذرا بھی لحاظ نہیں کرتی ہے یہ اس کو تہس نہس کرنے پر تلی ہے اور تو اور بڑوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں کرتی ۔‘‘وہ نرم لہجے میں چھوٹی بہو کو سمجھانے لگے۔
’چھوٹی بہو! یہ چیریں ہماری ثقافت‘ہمارے کلچر سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ ماضی کے پل پل کی یاد دلاتی ہیں۔‘‘ 
’’بابو جی گھر کے اندر یہ فرسودہ چیریں سجا کے رکھی ہیں اور باہر ایک طرف اصطبل ‘ ایک طرف گائو خانہ ۔ہماری جنریشن اس کو لائیک نہیں کرتی۔‘‘
چھوٹی بہو ! اپنی ثقافت ‘اپنے کلچر کی حفاظت کرنا آپ کی بھی ذمہ داری ہے کیونکہ آپ پڑھی لکھی ہو۔‘‘
’’او۔۔۔۔نو۔۔یہ میں ہر گز نہیں کر سکتی ۔ کچھ دنوں کے اندر یہ سب چیزیں یہاں سے ہٹائی نہیں گئیں تو ہم اپنا الگ گھر لیںگے۔‘‘کہتے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ۔یہ سب سن کر بڑی بہو کے دل میں بھی الگ گھر گرہستی سجانے کی چاہ انگڑائیاں لینے لگی۔وہ بڑی معصومیت سے بولی ۔’’ بابو جی چھوٹی بہو کوصبح شام چار دن بھی نہیں ہوئے یہ الگ گھر گرہستی کی بات کرنے لگی ۔  پھر ہمارے لئے بھی الگ گھر کا بندوبست کر دیجئے نا ۔میں کب تک اکیلی کام کرتی رہوں گی ۔‘‘
شام کے وقت روایت علی نے بیٹوں کو اپنے کمرے میں بلاکر کہا ۔’’بیٹے اب ہم بوڑھے ہوچکے ہیں ہماری آنکھیں بندہونے تک اس گھر کو سنبھالے رکھو۔‘‘اس پر چھوٹے بیٹے نے کہا ۔
’’ بابو جی یہ کس لحاظ سے آپ کو گھر لگ رہا ہے۔اصطبل ‘ گائو خانہ ‘ گوبھر  کے ٹیلے ‘ مرغی مرغوں کے ڈربے۔آج کے وقت میںاسکو کوئی پسند نہیں کرتا ہے۔‘‘ بڑے بیٹے نے بھی ہاں میں ہاں ملا کر کہا۔’’بابو جی چھوٹی بہو ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے۔‘‘ 
اس پر روایت علی ایکدم سے بھڑک کر بولے ۔’’ میں ایک چیز کو بھی ہٹانے نہیں دوں گا ۔‘‘
کچھ دن بیٹے باپ کو سمجھاتے رہے مگر روایت علی نےایک نہ مانی۔گھر کا ماحول دن بہ دن بگڑتے دیکھ کر ایک دن چھوٹے بیٹے نے غصے میں آکر کہا۔’’بابو جی آپ کو سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے برابر ہے اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔‘‘اور دونوں بیٹے گھر سے چلے گئے۔
پھرکچھ دنوں کے بعد ایک ادھیڑ عمر کے آدمی نے آنگن میں داخل ہو کر دروازے پر دستک دی ۔روایت علی نے دروازہ کھول کر پوچھا ۔’’کون ہو تم ۔‘‘اُس نے ایک چٹھی روایت علی کے ہاتھ میں تھما دی ۔لکھا تھا ۔
’’بابو جی ۔۔۔۔ہم نے الگ الگ گھر لئے ہیں اور ہم سکون سے رہ رہے ہیں مگربابو جی ہم آپ کو بالکل نہیں بھولے ہیں ہم نے آپ کے لئے ایک نوکر کا انتظام کیا ہے اس کو گھر میں رکھ لیجئے گا۔‘‘
یہ پڑھ کر روایت علی کے سر پر جیسے بجلی گر گئی اور قدریں چکنا چور ہوتے ہوئے نظر آنے لگیں۔
٭٭٭
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847

تازہ ترین