افسانچے

تاریخ    21 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


راجہ یوسف

خودکفیل 

   سورج کول تارکی سڑک پر آگ کے تھپیڑے برسا رہا تھا اور چکنے کول تار سے دھویں کے بھبکے  اٹھ رہے تھے ۔۔۔ اُس کی دھنسی ہوئی آنکھیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔  کالے  اور کھردرے ہاتھ بڑی تیزی سے گندگی کے ڈھیر کو کھرچ رہے تھے ۔۔۔ سیاہ جلد پر پسینے کے قطرے سورج کی تمازت سے چمک رہے تھے ۔۔۔۔۔
   دور شہر کے مشہورا سٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریبات کی ابتداء ہوچکی تھی اور لاوڈسپیکر پر ایک نامور سیاسی رہنما  کے الفاظ عوام کے کانوں میں رس گھول رہے تھے۔۔۔
  ـ’’  بڑی کٹھنائیوں کے بعدہم ایٹم بم بنانے میں سپھل ہوگئے ہیں‘‘ 
   اُس کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں اچانک چمک پیدا ہوئی۔۔ ۔ لوہے،  تانبے اور پیتل کے کئی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔۔۔ اُس نے پسینہ پونچھا اور چمکیلی سڑک کو پیروں کی نمی سے تر کرتا ہوا کباڑی کی دکان پر پہنچا ۔۔۔ پانچ روپئے کا نوٹ حاصل کرتے ہوئے اُسے محسوس ہو رہا تھا  جیسے اُس نے بڑی کٹھنائیوں کے بعدایٹم بم بنانے میں سپھلتا پراپت کی ہو ۔۔۔  
  جب بازار سے دو  روٹیاں خریدنے کے بعد واپس اپنی جگہ پر پہنچ گیا تو لاوڈسپیکر کی مانوس آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔
  ’’اب ہمارے دیش میں روٹی کا مسئلہ ہے نہ کپڑے کااور نہ مکان کا۔  اب ہم خودکفیل ہیں‘‘
  اور و ہ  جھلسا دینے والی دھوپ سے بچنے کے لئے  مین ہول میں گھس گیا ۔۔۔
 

تمہاری ماں

میرے بیٹے میں یہ نہیں جتلائوں گی کہ میں نے تم پر کوئی احسان کیا ہے کیونکہ دنیا کی کوئی بھی ماں اپنی اولاد پر احسان نہیں کرتی ۔ وہ تو اولاد کی سلامتی کے لئے  اپنی جان تک نچھاور کرتی ہے۔۔۔ 
جب تم پیدا ہوئے تو بہت ہی کمزور تھے۔ کئی روزتک اسپتال میں بھرتی رکھنا پڑا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ تمہار ا  بچنا محال ہے ۔ میں راتوں کو جاگ جاگ کر اللہ کے حضور سربسجود ہوکر روتی رہتی تھی۔اللہ سے تمہاری زندگی کی بھیک مانگتی تھی۔  تمہارے سرہانے بیٹھی  میں نے آنکھوں آنکھوں میں کتنی راتیں کاٹ لیں ۔ 
تمہاری صحت ، پڑھائی، خوشیوں اور  چاہتوں کے لئے  ہم نے اپنی ساری زندگی قربان کر دی ۔تمہاری پڑھائی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنی ساری جمع پونجی نچھاور کر دی ۔ تمہاری خوشی کے لئے اپنی خوشیوں کا گلہ گھونٹ دیا۔تمہاری شادی بڑے دھوم دھام سے کر دی ۔۔۔  اسی دوران  تمہارے بابا ہم سے روٹھ کر چلے گئے۔ زندگی ان سے نبھا نہ کر سکی اور میں اپنے ہی گھر میں مالکن سے دائی بن کر  رہ گئی ۔ تمہاری اور تمہاری بیوی کی نوکرانی ہوگئی ۔  تمہارے  بچوں کی گورنس بن گئی ۔  لیکن تجھے خوش دیکھ کر میرا کلیجہ ٹھنڈا رہتا تھا۔ میں اور جانفشانی سے تم لوگوں کی خدمت میں لگی رہتی تھی۔ مجھے تمہاری خوشی کے بغیر اور چاہئے بھی کیا تھا ؟  لیکن اب جب سے میں کمزور ہوگئی، نحیف ہوگئی ، تم نے مجھے داماد کے گھر میں ڈال دیا ہے۔ حالانکہ تمہارے باپ کے انتقال کے بعد میں اکثر  بیٹی کے گھر جاتی  رہتی تھی  لیکن ایک دو دن میں ہی تم مجھے واپس لے آتے تھے۔ میں جانتی تھی کہ تمہیں اور تمہاری بیوی کو آفس بھی جانا ہوتا ہے اور تمہارے گھر میں میری ضرورت ہے ۔ اتنے دن سے صفائی ستھرائی کسی نے نہیں کی ہوگی ۔ گھر میں کام کاج اور تمہارے بچوں کو سنبھالنے والا میرے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ مجھے بھی خوشی ہوتی تھی کہ تم مجھے واپس بلا رہے ہو اور یہ سوچتی تھی کہ جیسی بھی رہوں گی لیکن اپنے بیٹے کے قریب رہوں گی۔
ـ ’’  میرا بیٹا میرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ‘‘  میں اکثر داماد سے کہتی اور وہ مسکرا کر رہ جاتا ۔ لیکن اب تمہارے بچے بڑے ہوگئے ہیں ۔ اب ان کو یا تمہارے گھر کو میری زیادہ ضرورت بھی نہیں ہے کیوں کہ میں نحیف ہوگئی ہوں ۔ تمہارے نئے گھر میں جھاڑو پونچھابھی نہیں لگا سکتی ۔
بیٹے  مجھے یہاں نہیں رہنا ہے ۔ مجھے کہیں بھی ڈال دو مگر یہاں سے لیجائو مجھے  ۔ بیٹے میں بہت سارے دن  داماد کے گھر نہیں رہ سکتی حالانکہ میرا داماد  مجھے اپنی ماں کی طرح رکھتا ہے ۔ لیکن نہ جانے کیوں میں اُس سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی ہوں ۔ میرے بیٹے میں جانتی ہوں کہ تم لوگوں کو اب میری ضرورت نہیں ہے ۔  اس عمر میں اب مجھے مرنا  چاہئے تھا لیکن کیا کروں، میں مرتی بھی نہیں ہوں ۔ 
ہاں بیٹے  ایک بات بتا نا چاہتی تھی ۔ کل یہاں ایک پڑوسن آئی تھی ۔ باتوں باتوں میں اسی سے معلوم ہوگیا کہ دنیا میں ایسے کئی لوگ ہیں جو مجھ جیسی کمزور اور بے بس مائوں کو رکھنے کے لئے بڑے بڑے گھر بناتے ہیں  ۔  جانے اس نے ان گھروں کا کیا نام بتایا،  مجھے یاد نہیں رہا ۔  بیٹے  مجھ پر ایک احسان کرو گے ۔  مجھے ایسے ہی کسی گھر میں ڈال دو ۔  اتنے دنوں سے  داماد کے گھر میں رہ کے بڑی شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔
   ملتجی ۔۔۔ تمہاری  ماں
 
کالیفیکیشن 
بجپن میں وہ سکول کے ہر جھگڑے میں آگے لیکن پڑھائی میں پیچھے تھا۔دسویں جماعت میں پاس ہونے کے لئے متواتر کئی سال کوشش کی، لیکن کامیابی نہیں ملی ۔۔۔جوانی میںامن و آشتی سے بے زار اور دھنگوں میں پیش پیش رہتا تھا۔ ایک دھنگے میں پڑوسی کا گھر جلا دیا اور اس کی بیٹی کا اغوا کیا۔۔۔ پھر اسی لڑکی کے قتل کے جرم میں جیل گیا ۔۔۔ جیل میں سمگلروں سے واسطہ پڑا، سیاست دانوں سے پہچان ہوئی، وکلا اور قانون دانوں سے دوستی گانٹھ لی۔۔۔ صرف 6 سال کے بعد ہی جیل سے چھوٹ کر آیا۔۔۔ اب اچھے قد کاٹھ کا ہو چکا تھا۔چہرہ بارعب تھا۔ بات بات پر آنکھوں میں خون اُتر آتا تھا ۔۔۔  کاروبار دن  دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔ ۔۔ آنے والے الیکشن میں اس کی جیت طئے تھی ۔  اب جو اس نے نشہ آور زہر بیچنا سیکھ لیا تھا ۔۔۔ 
 

آنکھ مچولی

میں گھر کی گلی سے مین روڑ پر آگیا۔ اب چوک تک صرف  دوسو قدم ہی چلنا تھا کہ زور دار دھماکہ ہوگیا ۔ سامنے سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آسمان تک گردوغبار چھاگیا تھا۔دھماکہ چوک میں ہی ہوگیا تھا۔ بیس لوگ مارے گئے تھے اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔۔۔
پارک میں کافی بھیڑ تھی۔ میں دوستوں کا انتظار کررہاتھا کہ طارق ہاشمی کی کال آگئی۔
 ـ’’ جلدی ریستورانٹ پہنچ جائو۔ ہم اب پارک میں نہیں ریستورانٹ میں مل رہے ہیں۔ جاوید سب کو چائے پلارہا ہے۔‘‘ میں جلدی جلدی پارک سے نکل آیا۔ ابھی ریستورانٹ میں گھسا ہی تھا کہ تڑ تڑ گولیاں چلنے کی آواز سے ماحول گھونج اٹھا۔ ہم سبھی ریستورانٹ کی کرسیوں اور ٹیبلوں کی آڑ لے کر چھپنے لگے۔ پارک میں کئی خواتین اور بچوں کی لاشیں خون میں لت پت ہورہی تھیں۔۔۔
سجادنے گاڑی روکی اور مجھے اشارے سے بلایا۔ میں اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ابھی ہم سودوسوگزہی آگے چلے گئے کہ پیچھے بم پھٹا۔ چاروں اور دھول ہی دھول اڑ رہی تھی۔۔۔
مانو پچھلے بیس برسوں سے زندگی اور موت آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔ کبھی زندگی آگے، موت پیچھے ۔۔۔ کبھی موت آگے اور زندگی پیچھے۔ 
حسبِ معمول آج میں پھرگھر کی گلی سے مین روڑ کی طرف جارہاتھا ۔۔۔ اور ۔۔۔ موت گلی کی نکڑ پر پوزیشن سنبھالے کھڑی تھی ۔۔۔ 
 
 
اسلا م آباد،اننت ناگ
موبائل  نمبر9419734234
 

 

تازہ ترین