تازہ ترین

ہوائی کرایہ کو اعتدال میں لائیں !

تاریخ    20 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


 کشمیر سے ملک کے دیگر شہروں کیلئے ہوائی کرایہ میں بے تحاشا اضافہ کا رجحاں جاری ہے ۔سردیوں سے قبل تک دلّی کا سفر 2سے3ہزار روپے میں ہوتا تھا لیکن اب یہی سفر 5سے10ہزار روپے کے درمیان ہوتا ہے ۔اسی طرح جموں کا سفر بھی اب کم سے کم چار ہزار روپے میں ہوتا ہے۔شہری ہوابازی محکمہ کے مطابق ائر کرافٹ رولز1937کے تحت فضائی کمپنیوں کوکرایہ مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے اور شہری ہوابازی کے نظامت کو ہوائی کرایوں کو اعتدال میں رکھنے کے اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ہیں۔بہ الفاظ دیگر شہری ہوابازی محکمہ نے فضائی کمپنیوں کی من مانیوں کے سامنے ہاتھ کھڑے کرلئے ہیں ۔ محکمہ نے جس طرح فضائی کمپنیوں کی جانب سے سرینگر کیلئے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کمپنیوں کو اپنے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایہ مقرر کرنے کا حق میسر ہے ،اُس سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ مرکزی حکومت کا بھی سرینگر روٹ کیلئے ہوائی کرایہ اعتدال میں رکھنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے ۔غور طلب ہے کہ ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی سرینگرسے ملک کے مختلف شہروں کیلئے ہوائی سفر کے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ ہورہاہے ۔گزشتہ کئی برسوں سے یہ رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے کہ جونہی سیاحتی سیز ن شروع ہوجاتا ہے تو کرایوںمیں یکطرفہ طور اضافہ کیاجاتا ہے جس کے نتیجہ میں وادی کے سیاحتی سیزن پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوجاتے ہیںکیونکہ کرایہ اتنازیادہ ہوتا ہے کہ دیگر ریاستوں کے سیاح کشمیر آنے کے بارے میں سوچنا ہی ترک کردیتے ہیں۔سیاحتی صنعت سے جڑے لوگوں کے مطابق یہ نجی ائر لائنز کمپنیوں کی جانب سے سیاحوں کو کشمیر سے دور رکھنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ان کا استدلال ہے کہ ملک کے دیگر سیاحتی مقامات کیلئے ہوائی کرایہ انتہائی کم ہے ،یہاں تک کئی خلیجی ممالک کیلئے بھی ہوائی کرایہ کشمیر کی نسبت کم ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ جان بوجھ کر کشمیر کے سیاحتی سیزن کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔اس صورتحال میں سیاح کشمیر آنے کی بجائے ان ملکوں کی سیاحت پر جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیر کاسیاحتی شعبہ انتہائی متاثر ہوجاتا ہے۔اب یہ صرف سیاحتی شعبہ کی ہی بات نہیں ہے بلکہ عام لوگوں کیلئے بھی سرینگر سے ملک کے کسی حصے میں ہوائی سفر کے ذریعے جاناناممکن بن رہا ہے کیونکہ کرایہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ اس کا بوجھ ہی برداشت نہیں کرپاتے ہیں۔غور طلب ہے کہ کشمیرکا ملک کی دیگر ریاستوں کے ساتھ کوئی براہ راست ریل رابطہ نہیں ہے جس کے نتیجہ میں ہوائی سفر کرنا عام لوگوں کیلئے مجبوری بن جاتی ہے اور یوں نجی ائر لائنز کمپنیاں عام لوگوں کو بھی دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شہری ہوابازی کے نظامت کو بھی ان کمپنیوں کوجوابدہ بنانے کا کوئی اختیار نہیں ہے تو پھر مقامی اور مرکزی حکومتوں نے ایسا کون سا انتظام کررکھا ہے جس کے نتیجہ میں ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔یہ شاید اسی نگرانی نظام کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے کہ ایئر لائنز کمپنیوں کی من مانیاں عروج پر ہیں اور وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں ہیں۔انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر سیکٹر کیلئے ہوائی کرایہ مقر ر کیا جائے۔اس کیلئے فوری طور پر ایک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے جو ہر چیز کا حساب لگا کر اس بات کا فیصلہ کرے کہ کس سیکٹر کیلئے کتنا کرایہ وصول کیا جاسکتا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو کرایہ کی اوپری حد مقر ر ہوسکتی ہے اور یوں مسافروں کو ایئر لائنز کمپنیوں کی لوٹ سے بچایاجاسکتا ہے۔اس عمل کے نتیجہ میں ہوائی کرایوں میں توازن بھی پیدا ہوجائے گا اور یوں ہر سیکٹر کیلئے متوازن کرایہ کی شرح قائم کی جاسکتی ہے جس کا فائدہ کشمیر کو بھی ملے گا کیونکہ اس صورت میں کرایہ خود بخود کم ہوجائے گا اور کرایہ مقرر ہونے کی صورت میں نجی ایئر لائنز خود بخود یکطرفہ طور کرایوں میں اضافہ کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی ہیں۔جموںوکشمیر حکومت نے اگر چہ اس اہم مسئلہ پربارہا بے بسی کا اظہار کیا ہے تاہم یہ اس کی بھی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرے اور ہوائی کرایوں میں اعتدال پیدا کرانے میں تمام تر وسائل بروئے کار لائے کیونکہ جب کرایہ کم ہوجائے گا تو نہ صرف مقامی لوگوں کیلئے ہوائی سفر ممکن بن پائے گا بلکہ زیادہ سے زیادہ سیاح کشمیر کا رخ کرینگے اور نتیجہ کے طور پر کشمیر کی معیشت کو بھی استحکام مل سکتا ہے ورنہ موجودہ صورتحال میں جموںوکشمیر کامحکمہ سیاحت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر کی جانب راغب کرانے کیلئے دنیا بھر کے دورے کرکے کروڑوں کا اصراف کرے ،صورتحال تبدیل نہیں ہوجائے گی۔ 

تازہ ترین