تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    19 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
 
سوال  : ملازمین کے لئے قانون یہ ہے کہ وہ اپنے فوت ہونے کے بعد ملنے والی رقوم کے لئے اپنے اہلِ خانہ میں سے کسی بھی فرد کا نام مشخص کردیتے ہیں۔اس کی وجہ سے جی پی فنڈ(G.P.Fund)،این پی ایس(NPS) اورپینشن(Pension)وغیرہ کی سب رقوم اسی شخص کے اکاونٹ(Account)میں آجاتی ہیں ،جس کا نام اُس نے طے کیا ہو۔مثلاً اگر کسی نے اپنے والد کا نام بطور نامِنی (Nominee)رکھا ہے تو رقوم اُسی کے نام ،اور اگر کسی نے اپنی والدہ کا نام رکھا ہوا ہو تو وہ رقم اُسی کے کھاتے میں آتی ہے اور اگر کسی نے اپنی زوجہ کونامِنی رکھا ہو تو رقم اُسی کو دی جاتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ نامنی کی بنیاد پر ملنے والی رقم کس کا حق ہے؟کیا اس رقم میں دوسرے ورثاء بھی شریک ہیں یا یہ رقم صرف اُسی ایک فرد ،چاہے وہ باپ ہو ، ماںہو،بیوی ہو یا اولادکا حق ہے؟ اس بارے میں بہت سارے گھرانوں میں اختلاف ِ رائے ہے بلکہ نزاع بھی ہوتا ہے۔
اعجاز احمد خان ۔نوگام سرینگر
 

نامزدگی کی شرعی حیثیت اور وارثین کا حق

جواب :ملازمین کی طرف سے نامزدگی ،جس کو Nominationاور نامزد کئے گئے شخص کو نامنی کہتے ہیں،کے شرعی حکم کو جاننے کے لئے پہلے یہ سمجھنا ہے کہ اس کی حیثیت شریعت میں کیا ہے ۔یعنی یہ ہبہ ہے یا وصیت ہے یا توکیل ہے۔تو غور کرنے،تحقیق کرنے اور متعلقہ ماہرین سے استصواب کے بعد اس بارے میں شرعی فیصلہ یہ ہے کہ نامنی نہ تو ہِبہ ہے نہ وصیت ہے۔ہبہ اس لئے نہیں کہ ہبہ اُس چیز کا ہوتا ہے جو ہبہ کرنے والے کے قبضہ میں ہو جبکہ اس معاملے میں وہ رقوم ملازم کے قبضہ میں نہیںہوتیں۔دوسرے ہبہ اُس وقت شرعاً معتبر ہوتا ہے جب مجلس ہبہ میں ہی موہوب لہ ‘قبضہ ہوجائے جبکہ یہاں ایسا بھی نہیں ہوتا لہذا یہ ہبہ نہیں۔یہ نامنیشن وصیت بھی نہیں ،اس لئے کہ شرعاً کسی وارث کے حق میں وصیت درست نہیں۔وصیت کے لئے شرعی قانون، جو حدیث نبوی ؐ  میںہے ،یہ ہے کہ کسی وارث کے حق میں وصیت درست نہیں۔یہ قانون شرعی لاوصیتہ لوارثکے مبارک الفاظ میں ہے۔
نامنیشن(Nomination)میں باپ،ماں ،زوجہ،بیٹے یا بیٹی کے حق میں جو نامزدگی ہوتی ہے ،یہ سب وارث ہیں۔ اگر اس کو وصیت قرار دیا جائے تو یہ وارثان ِ شرعی کے حق میں وصیت ہے، جو حدیث کی رُو مسترد ہے۔جب یہ وصیت بھی نہیں اور ہبہ بھی نہیں تو پھر کیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ توکیل ہے یعنی ملازم اپنے ورثا ء میں سے کسی کو اس بات کا ذمہ دار اور وکیل بناتا ہے کہ وہ یہ رقوم وصول کرے ،جب اس کو توکیل قرار دیا جائے تو آگے اس پر وارثت کے احکام جاری ہوں گے۔
اس لئے یہ طے ہے کہ نامنیشن (Nomination)کی بنا پر ملنے والی رقوم صرف اُس فرد کی نہیں ،جس کوبطور نامنی رکھا گیا بلکہ یہ تمام وارثوں کا حق ہے اور شرعی اصول ِ تقسیم کے مطابق یہ تمام وارثوں کا حق ہے۔

 
سوال: ۱۔ جیل میں رہتے ہوئے محبوسین کو قصر نماز ادا کرنی ہے یا مکمل نماز پڑھنی ہے؟ بعض حضرات قصر پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔جس سے  بہت سے لوگوں کو کنفیوژن ہوتا ہے۔
سوال۲۔کیا دورانِ حبس سنت، نوافل وغیرہ پڑھ سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا نماز یں پڑھنے کی اجازت ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پیر مرشد کی اجازت کے بغیر کوئی وظیفہ نفل نماز اور درود اذکار نہیں پڑھ سکتے ۔ ہمارے لئے کیا حکم ہے۔
سوال۳۔ جیل میں رہتے ہوئے محبوسین کو کیا کیا کرنا چاہیے اور کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
شاہد لون سرینگر

حالتِ قید میں ادائیگی نماز ۔۔۔چند اہم مسائل

تمام سوالوں کا جواب درج ہے:
جواب۱۔ جیل میں قصر نماز نہیں بلکہ پوری نماز پڑھنا لازم ہے۔ اگر کسی نے قصر نماز پڑھی ہو تو وہ نماز ادا نہ ہوگی۔ اور اُسے دوبارہ وہ نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ ہاں جس شخص کو گرفتار کر کے اتنا دور پہونچایا گیا جو جگہ اس کے گھر سے ۷۷ کلو میٹر دور ہو تو یہ شخص راستے بھر مسافر رہے گا پھر اس جیل میں اگر پندرہ دن سے کم رہنا طے ہو تو اس شخص کو وہاں ان دنوں میں قصر پڑھنی ہوگی۔ اگر پندرہ دن سے زیادہ وہاں بند رکھا جانا طے ہو تو اس صورت میں پوری نماز پڑے گا۔ قصر کی یہ نماز صرف ایسے قیدی کے لئے ہے جس میں مذکورہ دنوں شرائط پائی جائیں ۔اس لئے اب خلاصہ یہ کہ اکثر قیدیوں کو پوری نماز پڑھنی ہے اس لئے سنٹرل جیل سرینگر میں جتنے لوگ محبوس ہیں وہ سب پوری نمازیں سنتوں کے سمیت ادا کریں۔ قصر ہرگز نہ کریں۔
جواب۲۔ جیل میں فرائض، سنتیں اور نوافل پورے شوق اور جذبہ سے ادا کریں۔ ان نمازوں کی تفصیل یہ ہے۔ فجر کی نماز میں پہلے دو رکعت سنت پھر دو رکعت فرض۔ ظہر کی نماز میں پہلے چار رکعت سنت پھر چار رکعت فرض پھر دو رکعت سنت پڑیں۔ عصر کی نماز میں پہلے چار رکعت سنت غیر مؤکدہ، پھر چار رکعت فرض ادا کریں۔ مغرب کی نماز میں پہلے تین فرض، پھر دو رکعت سنت ادا کریں۔
عشاء کی نماز میں پہلے چاررکعت سنت غیر مؤکدہ پھر چار کعت فرض پھر دو رکعت سنت پھر تین رکعت وتر کی نماز پڑھیں۔ نفل نمازوں کی ترتیب یہ ہے۔
اگر تہجد میں بیدار ہو سکیں تو چار، آٹھ یا بارہ رکعات تہجد کی نیت سے پڑھیں، آفتاب طلوع ہونے کے بعد چارر کعت اشراق پڑھیں اور دس گیارہ بجے ہو سکے تو چاشت کی نماز ادا کریں۔ یہ چار رکعت یا آٹھ رکعت ہیں۔ مغرب کے بعد چھ رکعات اوابین پڑھیں۔ اس کے علاوہ دن رات میں کسی وقت دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر دعا کریں۔ اور کسی وقت صلوٰۃ التوبہ پڑھ کر اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔
فجر کی نماز کے بعد سورہ یٰس شریف اور سونے کے وقت سورہ ملک پڑھیں۔ ہر فرض نماز کے بعد تسبیح فاطمہ پڑھا کریں اور صبح و شام تین تسبیحات کلمہ تمجید، درود شریف اور کلمہ استغفار پڑھیں۔
جواب۳۔ جیل میں رہتے ہوئے اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر قرآن کریم  پہلے سے پڑھا ہے تو تلاوت کا پورا شیڈول بنائیں۔ اگر قرآن کریم نہ پڑھا ہوتو جیل میں کسی جاننے والے سے قرآن پڑھنا سیکھ لیں۔ دوسرے ایسے افراد جو صحیح خیالات اور اچھے کردار کے نہ ہوں ان سے دور رہیں۔اگر اپنے اندر کچھ بُری عادتیں ہوں تو ان کو چھوڑنے کی کوشش کریں۔ نیز اپنے دل و دماغ میں دینی معلومات جمع کرنے کی کوشش کریں۔ سیرت مبارکہ کا مطالعہ کریں۔ فقہی مسائل سیکھیں، آسان احادیث اور اسلامی تاریخ کی اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
 سوال: پچھلے دنوں شہرسرینگرمیں ایک مقام پر نماز عصر کے بعد جنازہ پڑھنے پر سخت اختلاف دیکھنے کو ملا ۔کچھ لوگ کہتے تھے کہ عصر کے بعد جنازہ پڑھنا ہر گز ہرگز درست نہیں ہے اور کچھ لوگ کہتے تھے کہ عصر کے بعد جنازہ پڑھنا جائز ہے۔ اب آپ سے گذارش ہے کہ عصر کے بعد جنازہ  کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟۔
نیاز احمد، حید پورہ سرینگر

عصر کے بعد نماز جنازہ پڑھنا جائز

جواب: عصر کے بعد نماز جنازہ پڑھنا درست ہے اور اس پر ہمیشہ سے امت کا عمل جاری ہے ۔چنانچہ کعبہ شریف میں اور مدینہ منورہ بھی میں مسجد نبوی میں روزانہ عصر کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ جنازہ پڑھا جائے گا اُس میں شرکت کریں ۔اگر عصر کے بعد جنازہ پڑھنا ناجائز ہوتا تو لاکھوں مسلمان حرمین شریفین میں اس پر عمل کیوں کرتے۔
شریعت کا کوئی بھی قانون فقہ کی کتابوں میں ہوتا ہے۔ چنانچہ(۱) ہدایہ، (۲)بدائع الصنا ئع، (۳)در مختار، (۴)فتاوی ٰعالمگیری، (۵)مراقی الفلاح،(۶) طحطاوی، (۷)خلاصقہ الفتاویٰ، (۸)فتاویٰ شامی،(۹) فتح القدیر، اور مدارس اسلامیہ میں ابتدائی درجات میں پڑھائی جانے والی کتاب نور الایفاح میں بھی صراحت سے لکھا ہے کہ عصر کے بعد قضاء نمازیں اور سجدہ تلاوت اور نماز جنازہ درست ہے۔ سردست ان دس کتابوں کا حوالہ کافی ہے جن احادیث میں نماز عصر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، اُن احادیث کی رُو سے صرف نوافل منع ہیں۔
خلاصہ یہ کہ نما ز عصر کے بعد نماز جنازہ پڑھنا درست ہے اور اس پر ساری امت کا اتفاق بھی ہے اور اس پر عمل بھی ہے۔ لہٰذا جو شخص یہ کہتا ہے کہ نماز عصر کے بعد جنازہ درست نہیں ہے وہ غلط کہتا ہے۔ دراصل احادیث سے پانچ اوقات میں نماز کی ممانعت معلوم ہوتی ہے ایک طلوع آفتاب کے وقت دوسرے زوال آفتاب یعنی نصف النہار کے وقت اور تیسرے غروب آفتاب کے وقت ۔ان تین اوقات میں ہر قسم کی نماز یعنی فرض، قضا، سنت، نوافل ،سجدہ تلاوت اور جنازہ کی نماز سب منع ہے اور وجہ یہ ہے کہ یہ تینوں اوقات سورج کی پوجا کرنے والی اقوام کی پوجا پاٹ کرنے کا وقت ہے اس لئے پیغمبر اسلام ؐ نے ان اوقات میں نماز کی ادائیگی سے منع فرمایا تاکہ ان کے ساتھ وقت ِعبادت میں بھی مماثلت اور مشابہت نہ ہو جائے۔ چوتھا وقت نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور پانچویں نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک۔ ان آخری دو اوقات میں صرف نوافل منع ہیںورنہ فرض، قضا، سجدۂ تلاوت اور نماز جنازہ کی ادائیگی ان اوقات میں درست ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ طلوع ،غروب اور زوال ان تین اوقات میں بھی نمازہ جنازہ اگر پہونچ جائے تو حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک اس میں بھی کراہت نہیں۔ چنانچہ امام نودیؒ شافعی اور ملاعلی قاری حنفی نے اس کو صراحتہً لکھا ہے۔ اُوپر جن دس کتابوں کے حوالے سے یہ لکھا گیا کہ فجر کے بعد سے طلوع تک اور عصر کے بعد سے غروب تک جنازہ پڑھنا درست ہے، اس کے بعد اس میں کسی تردد یا تأمل کی ضرورت ہی نہیں ہے اور جن تین اوقات میں نماز کی ممانعت ہے اُن میں بھی جنازہ اور سجدہ تلاوت ،اگر چہ بلا کراہت ،جائز ہے لیکن چونکہ حضرت عبداللہ بن عمر ابراہم نخعیؒ عطاء ،اوزاعی، ثوری اور احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ بلکہ خود امام ابو حنیفہ بھی کراہت کے قائل تھے، اس لئے ان اوقات کے گذرنے کے بعد جنازہ پڑھنا اولیٰ ہے۔


تازہ ترین