تازہ ترین

حالیہ زلزلہ :اَرباب اقتدار کیلئے اعلانِ بیداری

تاریخ    19 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


 چند روز قبل آئے زلزلے ،جس کا محور قزاقستان ۔چین سرحد تھا ،نے8اکتوبر2005کے ہلاکت خیز زلزلے کی یادیں تازہ کردیں اور لوگ خوف و دہشت میں مبتلاء ہوگئے ۔ تاہم انتظامیہ نے حسب روایت حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے لوگوں کو اطمینان رکھنے کی نہ صرف تاکید کی بلکہ خبردار کیا کہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے گی۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ ان حرکات شاقولی کو سرسری لے رہی ہے اور لوگوں کو یہ کہہ کر اضطرابی کیفیت سے باہر نکالنا چاہتی ہے کہ مزید کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔مانا کہ لوگوں کے دلوں سے خوف و دہشت مٹانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم آتش فشاں کے ڈھیر پر ہیں جو خدا نہ کرے ،کبھی بھی ہمیں نگل سکتا ہے۔
 گزشتہ ایک دو برس کے دوران کشمیراور جموں میں منعقد ہونے والے ورکشاپوں اور سمیناروں میں ماہرین ارضیات نے کشمیرمیں زلزلوں کے حوالہ سے جو انکشافات کئے ،وہ ارباب اقتدار کی نیندیں اُچاٹ دینے کیلئے کافی ہیں۔ تحقیق کاروںکے مطابق کشمیر کے ہمالیائی سلسلہ میں ایک بڑے پیمانے کا زلزلہ خارج المعیادہو چکا ہے اور اب کسی بھی وقت وادی میں اس قدر شدید زلزلہ آسکتا ہے جو اس خطے کی جغرافیائی ہیت کو کلی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر آج سے ہی احتیاطی تدابیر سے کام نہیں لیا گیا تو بھاری پیمانے پر تباہی مچ سکتی ہے۔
حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ان ماہرین کے انتباہ کو سنجیدگی سے لیتی ،لیکن لگتا ہے کہ یہ سب صدا بہ صحرا ہو رہا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی عالمی سطح پر کی گئی ایک تحقیق میں برملا طور پر کہا گیاکہ جموں و کشمیر زلزلوں کے اعتبار سے سیسمک زون4میں آتا ہے جہاں زلزلوں کی شدت ریکٹر سکیل پر 6سے زیادہ ریکارڈ کی جائے گی جبکہ سرینگر شہر کوسب سے خطر ناک زون، 5میں رکھا گیا ہے جہاں زلزلوں کی شدت8سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق وادی کا شاید ہی کوئی علاقہ ہوگا جہاں تباہ کن زلزلہ آنے کا اندیشہ نہ ہو،لیکن حقیقت کا ادراک کر کے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کرنے کے بجائے حکومت مسلسل سچائی سے آنکھیں چْرارہی ہے جس کے نتیجہ میں سارے لوگ اضطراب کے شکار ہیں۔
ایک ایسا خطہ ،جو آتش فشاں کے ڈھیر پر ہو اور جہاں کبھی بھی ہلاکت خیز زلزلہ سے تباہی مچنے کا امکان موجود ہی نہیں بلکہ آنے کو ہو ،وہاں کی حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے ،یہ انکے شایا شان نہیں ہے۔ جموںوکشمیر میں بے تحاشا تعمیرات ہو رہی ہیں اور حکومت کی جانب سے آج تک ایسے تعمیری ضوابط وضع ہی نہیں کئے جا رہے ہیں جن کے عملانے سے زلزلہ کے وقت کم سے کم نقصان ہو تا۔ستم ظریفی کی بات ہے کہ جموںوکشمیر میں ابھی تک ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نام کیلئے تو ہے لیکن عملی طوراس کاکہیں وجود ہی نہیں ہے حالانکہ پورے ہندوستان میں آفات سماوی سے متعلق تمام تحقیق اور احتیاطی اقدامات انہی اتھارٹیوں کے زیر نگین اٹھائے جارہے ہیں۔
جموں و کشمیر میں اس لحاظ سے نام لینے کیلئے یوٹی سطح پرایک ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی قائم ہے جو مالی لحاظ سے اس قدر محتاج ہے کہ وہ اپنے بل پر چندعوامی بیداری پروگرام اور آزمائشی قوائد(Mock Drill) منعقد کرنے کے علاوہ کوئی بھی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی ہے۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ وادی کشمیر میں ابھی تک حکومت کی طرف سے ان علاقوں کی نشاندہی تک نہیں کی گئی ہے جہاں بھونچال کے وقت سب سے زیادہ تباہی مچ جانے کا اندیشہ ہے اور نہ ہی ایسے آلات دستیاب ہیں جوزلزلوں کی تحقیق میں کام آتے جبکہ ابھی تک زلزلاتی تحقیق کیلئے ماہرین کی خدمات بھی طلب نہیں کی گئی ہیں،جس کے باعث ابھی تک زلزلوں کے حوالے سے مائیکرو زوننگ اور خاکہ سازی کر نا باقی ہے۔
صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حالیہ زلزلہ حکومت کی نیند اُچاٹ دینے کیلئے کافی ہونا چاہئے ۔وقت آگیا ہے کہ جب کاغذی گھوڑے دوڑا نے کی بجائے عملی طور کچھ کر گزرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اگر خدا نخواستہ آنے والے دنوںمیں ایسی کوئی حرکتِ شاقولی وادی کشمیر کو ہلا ڈالے تو اس وقت کم سے کم جانی اور مالی نقصان اٹھا نا پڑے۔
 

تازہ ترین