کم عمر شادی کا عذاب جھیلتی سرحد کی بیٹیاں

صدائے سرحد

تاریخ    18 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


رخسار کو ثر ،مینڈھر پونچھ
جذبات کا قتل ہوتے اورخوا بوں کو ٹوٹتے دیکھا جب 16 سال کی عمر میں ماں بابا نے کہا ـ’’بیٹی کل سے تم پرائی ہو جاؤگی ‘‘یہ لفظ نیا تو تھا،مگر آہستہ آہستہ سمجھ میں آنے لگا تھا۔سہمی ہوئی میں ایک ہی لفظ بول پائی ’’دسو یں کے امتحانات چل رہے ہیں، میں آگے بھی پڑھنا چاہتی ہوں‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بیٹی سسرال والوں نے کہا ہے کہ آگے پڑھائیں گے، تم وہاں جاکر اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہو۔ 2013 میں میری رخصتی ہوگئی ۔آج جب لڑکیوں کو سکول جاتے دیکھتی ہوں تو مجھے بہت اذیت پہنچتی ہے کیونکہ میری زندگی سے سکول کا نام توسات سال پہلے ہی مٹ چکا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں جس شادی کے لیے میرا سکول چھڑایا گیا تھا، میرے خواب مجھ سے چھین لے گئے تھے، آج وہ رشتہ بھی پیچیدہ ہے ۔شادی کے بعد اذیت شروع ہوگئی تھی۔ بات بات پر شدید تکلیف پہنچانا روز کا معمول بن گیا ۔یہاں تک کہ میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی ۔ آج چھ سال ہوگئے، ہمارا کیس کورٹ میں پینڈنگ ہے اور میں اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھی ہوں ۔میرے ماں باپ بہت غریب ہیں اور زیادہ تر میں بیمار رہتی ہو ں۔ سارا خرچہ ان کو اٹھانا پڑتا ہے۔نہ کنواری اور نہ شادی شدہ لڑکیوں میں میرا کوئی شمار ہے۔ حالانکہ مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا کہ شادی کے بعد بھی اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہوں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ داخلہ لینے سے منع کر دیا گیا۔اس طرح میری پڑھائی اور خواب سب ادھورے رہ گئے۔ 
یہ ٹوٹے ہوئے خواب کسی افسانہ سے درج نہیںہیں بلکہ جموں کے سرحدی علاقہ پونچھ کے مینڈھر تحصیل میں واقع گاؤں مانجیاڑی کی افسانہ (نام تبدیل ) کے ہیں۔کم عمر میں شادی اور پھر جسمانی اور ذہنی استحصال کایہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔اس طرح نہ جانے کتنی بچیو ں کے خواب دفنا ئے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک میں کم عمری کی شادی ایک سب سے بڑا چیلنج ہے۔یہ برائی سماجی اور ثقافتی اصولوں کے نتیجے میں طویل عرصے سے ہندوستان میں رائج ہے۔ حالانکہ ہندوستانی قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر لڑکی اور اکیس سال سے کم عمر لڑکے کی شادی کو قانونی جرم مانا جاتاہے لیکن اس کے باوجود زیادہ تربچیوں کی شادی کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔
2011کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 102 ملین لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم عمرمیں کر دی گئی ہے، جن میں 46 فیصد کی شادی اس وقت ہوئی جب وہ 15 سال یا اس سے بھی کم عمر کی تھی۔جموں و کشمیر رضاکارانہ صحت اور ترقیاتی انجمن کے رضاکارذبیر علی کے مطابق جموںکشمیر کے کئی علاقوں میںآج سے کچھ سال پہلے تک ایسے بہت سارے کیسز آتے تھے ، جہاں پندرہ اور سولہ سال کے بیچ کی عمر کی بچیوں کی شادی کرائی جاتی تھی لیکن اب بہت کم کیسز ہیں۔ کہیں نہ کہیں اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بچیاں خود اپنے لئے سٹینڈ لینے لگی ہیں اورشادی سے پہلے پڑھائی کو ترجیح دے رہی ہیں۔دوسری جانب ماں باپ کی سوچ میں بھی بدلائو آیاہے۔پہلے ماں باپ کو بچیوں کے غیر محفوظ ماحول میں رہنے کاڈر رہتا تھالیکن اب انکے بھی خیالات بدل رہے ہیں۔اب وہ بھی شادی سے زیادہ تعلیم کو اہمیت دینے لگے ہیں اوراس کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ 
لیکن صوبہ جموں کے سرحدی ضلع پونچھ کی جب بات کی جائے توآج بھی یہاں بہت کچھ نہیں بدلاہے۔ نہ جانے کتنی بچیوں کا بچپن چھینا گیا ہے۔کتابیں پکڑنے والے ہاتھوں پر مہندی رچا ئی گئی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ جہاں جہالت ہے وہیں کچھ جغرافیائی اور سیاسی حالات بھی اس کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ آج بھی جب دو ممالک اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے نتائج کا خوف ماں باپ کے دل میں بنا رہتا ہے کہ نہ جانے کب سرحد پار سے آئے کسی گو لے کی وجہ سے ان کی بیٹی عمر بھر کے لئے اپاہج ہو جائے اور مصیبت کا باعث بن جائے۔ اس لئے وہ جلد سے جلد شادی کرانے کی سوچتے ہیں۔اس سلسلہ میںچائیلڈ ویلفیر کمیٹی، پونچھ کے ممبر کرپال سنگھ بتاتے ہیںکہ''جہاں جموں کشمیر کے باقی علاقوں میں کم عمر لڑکیوں کی شادی بہت کم دیکھنے کو ملی ،وہی پونچھ میں پچھلے ایک سال میںاس معاملہ میں اضافہ پایا گیا ہے۔2020 میں ہمارے پاس 35 کیسز آئے تھے۔جن میں ہم نے 30 کی شادی رکوائی چونکہ پانچ کی پہلے ہی شادی ہو چکی تھی ۔ان کو ہم نے مائیکے والوں کو دے دیا کہ جب تک ان کی 18 سال کی عمر نہیں ہو جاتی تب تک وہ سسرال نہیں جائیں گی۔ اسی طرح سے پچھلے دو مہینے میں ہمارے پاس دس کیسز آئے ہیں۔ہمارے ریسرچ کے مطابق ایسے معاملات سرحدی علاقہ جات میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس کی خاص وجوہات یہ رہتی ہیںکہ ماں باپ کو گولہ باری کا خوف رہتا ہے۔اس کے علاوہ ان کو بچیوں کا عدم تحفظ بھی ستاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بہت جلدی شادی کرا دیتے ہیں‘‘۔
 ایک کیس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ’’ ڈیڑھ سال پہلے تحصیل منکوٹ کے گاؤں کس بلا ڑی کا واقعہ ہے جہاںسولہ سال کی بچی کو اس کے ماں باپ نے آٹھویں سے سکول بند کروا کراس کارشتہ کرادیا۔ جب ہمارے پاس اس کی جانکاری آئی تو ہم نے گاؤں کے سرپنچ سے بات کی اور ان سے پتہ لگایا جس کے بعد اس کے ماں باپ کو سمجھایا۔ کچھ وقت تک سب ٹھیک رہا۔ پھر اچانک سے انہوں نے لڑکی کا نکاح کرا دیا۔ جب ہمارے پاس یہ دوبارہ سے کیس آیا،تو ہم نے لڑکی کے ماں باپ ،لڑکی اور اس کے باقی رشتہ داروں کو آفس میں بلایاجس کے بعد اس لڑکی کی ذمہ داری اس کے ماموں کو دے دی کہ جب تک اس کی عمر اٹھارہ سال نہیں ہوجاتی ،اس سے پہلے اس کی رخصتی نہیں کرائی جائے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ اب ہم اس سلسلہ میںایک بیداری کیمپ لگانے کی تیاری کر رہے ہیں کیوں کہ ماں باپ کو جانکاری نہیں ہوتی کہ کم عمر میں بیٹی کی شادی کرا دینے سے اس کی صحت پر کتناخراب اثر پڑتا ہے،بہت ساری لڑکیاں نفسیاتی علائم کی شکار ہو جاتی ہیں،وہ ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا نہیں سکتیں ،رشتے کو سمجھنے میں بہت وقت لگتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج طلاق کے کیسز زیادہ ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیوں کے رشتے میں طلاق کی نوبت آتی ہے۔
چائیلڈ رائیٹس کمیشن کی ممبر نمر تا لودھرا کے مطابق ’’دیگر علاقوں کے مقابلہ پونچھ میںکم عمر میں شادی کے بہت زیادہ کیسز آ تے ہیں ۔ان میں زیادہ تر کیسز تحصیل مینڈھر اور حویلی کے ہوتے ہیں۔ جس میں کئی بچیوںکی عمر محض 15 سال ہوتی ہے۔ انہیں اتنا ڈرایا اور دھمکایا گیا ہوتا ہے کہ وہ کچھ بول نہیں پاتیں ہیں۔ جب کم عمرمیں بچی کی شادی ہو جاتی ہے، اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کی پوری زندگی بدل رہی ہے۔ اس کے سر پر پورے گھر کی ذمہ داریاں آ جاتی ہیں۔ سسرال والوں کو اس سے بہت زیادہ امیدیں ہوتی ہیں اور وہ بچی، جس نے گھر پرکبھی خود کھانا نہیں بنایا ہوتا ہے ،سسرال میں سب کو الگ الگ کھانا بنا کے دینا پڑتا ہے جس کا منفی اثراس کی صحت پر بھی پڑتا ہے۔اس کے علاوہ اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر سسرال والوںکے طعنوںسے وہ آہستہ آہستہ نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ہماری یہ کوشش رہتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ماں باپ کو کم عمر میں شادی سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کریں‘‘۔
 تحصیل مینڈھرگاؤں آڑی کی نفیسہ کوثر(نام تبدیل) پرنم آنکھوں سے بتاتی ہیں'' 2017 میں میرے لئے ایک رشتہ آیا، اس وقت میں بی اے کر رہی تھی۔ امی ابو نے جب مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا ڈگری کے بعد شادی کروں گی۔ آہستہ آہستہ گھر والوں کا مجھ پر شادی کے لئے دبائو بڑھنے لگا۔ ذہنی تشدد کے ساتھ ساتھ جسمانی بھی ہونے لگا۔ ایک دن امی نے پکڑا اور ابو نے بہت مارا۔ دوسرے دن میرا امتحان تھا۔ میری کتابیں چھپا دی گئیں۔ پھر میں اپنی ایک سہیلی سے کرایہ لیا اور کالج جا کر امتحان دیا۔اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ امی ابو کو سمجھانا بے کار ہے اور شادی کے لئے حامی بھر دی۔ میری مہندی والے دن اور رخصتی کے دوسرے دن بھی میرا امتحان تھا ۔ان سب کامیری صحت پر بہت اثر پڑا۔ خود کو بہت اکیلا سمجھنے لگی۔ جب ایک لڑکی کی زور زبردستی سے یا کم عمر میں شادی ہوتی ہے تو اس کے جذبات دفنائے جاتے ہیں۔ وہ زندگی جیتی نہیں کاٹتی ہے ''۔
دوسری جانب کم عمر شادی والی بچیوں کے ماں باپ کی الگ ہی دلیل ہوتی ہے۔وہ عذرپیش کرتے ہیں کہ’’ سکول گھر سے بہت دور ہے۔ ہم بچیوں کو اتنے دور اکیلے سکول نہیں بھیج سکتے۔ ہمارے پاس اتنا سرمایہ بھی نہیں ہوتا کہ دور درازسکول بھیج سکیں۔دوسری مجبوری سرحد کی گولہ باری اور بچیو ں کی عزت کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ معاشرے میں درندوں کی نظریں بچیوں کو نوچتی ہیں ۔ہر روز ٹی وی پر خبر چل رہی ہوتی ہے جہاں بچیوں کی آبرو لوٹی جاتی ہے۔ ہمیں یہ خطرہ رات کو چین کی نیند سونے نہیں دیتا۔ اس لئے ان کی زندگی اور عزت کی خاطر ایک ہی ذریعہ بچتا ہے کہ شادی کرا دی جائے ''۔
واقعی یہ سچ ہے کہ شہر کے مقابلے میں دیہات اور سرحدی علاقوں میں کم عمر بچیوں کی شادی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ماں باپ کو بچیوں کی جان کا اورعدم تحفظ ستائے رہتاہے لیکن اس میں سب سے بڑا نقصان ان بچیوں کی صحت کا ہوتا ہے۔اس سلسلہ میں پونچھ کی گائناکالوجسٹ (ماہرامراض نسواں) ڈاکٹر روبینہ شفیق کہتی ہیں’’ کم عمر بچیوں کی شادی سے ان کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے ۔بہت ساری بچیاں ڈپریشن میں چلی جاتی ہیں ۔بہت پہلے کی بات کی جائے تو اس وقت لڑکیاں صحت مند ہوتی تھیں۔ اندر سے مضبوط ہوتی تھیں اور ان کا ماہواری دورانیہ سسرال میں شروع ہوتا تھا ۔لیکن اب چھوٹی عمر میں ماہواری شروع ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے لڑکیاں بہت کمزور رہتی ہیں۔ یہی وجہ رہتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو قیام نہیں رکھ سکتی ہیں۔ کم عمر میں حاملہ ہو نے کی وجہ سے بہت ساری بچیوں کی ڈلیوری کے وقت موت تک ہو جاتی ہے۔کئی بچیاںPost-traumatic stress disorder (PTSD) کا شکار ہو جاتی ہیں ۔یہ ایک سنگین بیماری ہے جو کم عمر میںماں بننے کی وجہ سے بچیوں کے دماغ پر اثر کرتی ہے۔ایسی صورتحال میں وہ اپنے بچے کی پرورش بھی نہیں کرسکتیںاور ساتھ ہی اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھ پاتی ہیں ۔
(یہ مضمون سنجے گھوش میڈیا ایوارڈ 2020کے تحت لکھا گیا ہے)

تازہ ترین