خواتین کیخلاف تشدد

خاموش کیوں ہے ’مہذب‘ کشمیری سماج؟

تاریخ    18 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


بسما بھٹ، سرینگر
گذشتہ سال دسمبر میں65 سالہ نور محمد(نام تبدیل) کے اہل خانہ اپنی 21 سالہ بیٹی کی موت پر سوگوار تھے جسے اکتوبر میں دو لوگوں نے شادی کی ایک تقریب سے اغوا کرنے کے بعد اپنی ہوس کا شکار بنا ڈالا تھا۔ واقعے کے بعد اسے سرینگر کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ کئی اعضاء کے زخموں کی تاب نہ لاکر تقریباً مہینے زندگی اور موت کی جدوجہد میں مبتلا رہنے کے بعد اس دنیا سے چل بسی تھی۔یہ واقعہ اکتوبر کے آخری ہفتہ کاتھاجب فائنل ایئر میں زیر تعلیم نورمحمد کی بیٹی اسی ضلع کے اکہال گاؤں میں اپنے ایک کزن کی شادی میں شرکت کے لئے آئی تھی۔ 31 اکتوبر کو تقریبا ًصبح دس بجے وہ دلہن کی شادی کا جوڑا لینے گھر سے نکلی تھی۔ لوٹتے وقت دو لوگوں نے اسے اغوا کرلیا۔ اس کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ وہ لوگ لڑکی کو اغوا کرکے ایک گھنے باغ میں لے گئے، جہاں اس کی عصمت دری کی اور وحشیوں کی طرح اس کے جسم کو نوچ ڈالا۔
 مقامی لوگوں کو بچی نیم بے ہوشی اور بے جان حالت میں زمین پر پڑی ہوئی ملی۔ اسے کولگام ضلع ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے سرینگر میں واقع شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایس کے آئی ایم ایس) ریفر کر دیا۔سکمزکے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق جان کے مطابق بچی کو تشویشناک حالت میں لایا گیا تھا۔ یہاں ایک مہینے آئی سی یو میں رہنے کے بعد بالآخر 27 نومبر کو زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔اہل خانہ کے مطابق بچی کا بے رحمی سے زدوکوب کیا گیا تھا۔ اہل خانہ اور گاؤں والوں نے جو تفصیلات بیان کیں وہ ایک جیسی تھیں۔ بچی کے ایک رشتہ دار کا کہنا تھا ’’ اس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا تھا، اس کی توقع انسانوں سے نہیں کی جاسکتی ہے، اسے مارا پیٹا اور زدوکوپ کیا گیا، گلے میں پڑی تعویذ سے اس کا گلا دبایا گیا، اس کی زبان بھی کٹی ہوئی تھی، اس کو جو تکلیف پہنچائی گئی ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘‘۔ بچی کے اس رشتہ دار کے مطابق اغواکار بچی کو مار ڈالنا چاہتے تھے لیکن کچھ مقامی لوگ وہاں پہنچ گئے اور انھیں پکڑ کر پولس کے حوالے کر دیا۔
 وادی میں خواتین کے ساتھ تشددکا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔کرائم برانچ سری نگر سے حاصل کردہ سرکاری اعداد و شمار میں عصمت دری کی شکار خواتین کو قانونی طور پر اپنے مقدمات لڑتے ہوئے جس جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی سنگین تصویر سامنے آتی ہے۔یہ مقدمات برسوں تک چلتے رہ جاتے ہیں۔ پچھلے چھ سال (مارچ 2019 تک) کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ جموں وکشمیر میں آبروریزی کے ایک ہزار چھیالیس معاملے زیر سماعت ہیں، جن میں سے831 معاملے 2014 سے زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 820 کے قریب زیر سماعت مقدموں کی متاثرین نابالغ ہیں۔سابقہ ریاست کی کرائم برانچ کے ذریعہ تیار کردہ سال کے لحاظ سے اعداد و شمار اور زیر التوا معاملوں کی ایک کاپی کا جائزہ راقم نے بھی لیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ 2019 کے ابتدائی تین ماہ میں جموں و کشمیر میں عصمت دری کے 64 مقدمات درج کئے گئے، جن میں سے 33 معاملوں کی متاثرین نابالغ ہیں۔ جبکہ پچھلے چھ برسوں میں سزا کی شرح 5  فیصد سے بھی کم ہے۔
 ایک نیوز رپورٹ کے مطابق 2020 میں اپریل تک جموں و کشمیر انتظامیہ نے عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مرکز کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں عصمت دری کے تقریباً 16 معاملے اور جنسی استحصال کے تقریبا 64 معاملے سامنے آئے ہیں۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف جرائم کس طرح معمول بن گئے ہیں، جو پہلے یہاں اکا دکا ہی دیکھنے میں آتے تھے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2014  میں352 معاملے درج کئے گئے ، جن میں 265 معاملوں میں نابالغ ملوث تھے۔ اسی طرح 2015، 2016 اور 2017 میں بالترتیب 312 (251 نابالغ)، 263 (204 نابالغ) اور 314 (213 نابالغ) معاملے درج کئے گئے تھے۔ 2018 کے دوران عصمت دری کے 359 معاملے درج کئے گئے تھے، جن میں 273 معاملے نابالغوں سے متعلق تھے۔
کولگام کی اس 21 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور وحشیانہ قتل کے معاملے میں بھی وہی ہوا جو دیگر معاملوں میں ہوتا ہے۔ کشمیر میں اس طرح کے معاملوں کے بعد عموما ًایک تکلیف دہ خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ بسا اوقات مقامی لوگوں کی طرف سے چھٹ پٹ احتجاج ہوتے ہیں جن میں جنسی زیادتی کرنے والوں کو سخت اور فوری سزا کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس لڑکی کے قاتلوں کے خلاف بھی مقامی لوگوں نے صدائے احتجاج بلند کی تھی لیکن معاملہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ یا ملکی سطح تک نہیں پہنچ سکا۔ مقتول کی بڑی بہن نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں خواتین کے تشدد کے بڑھتے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خاموشی کی کوئی توضیح نہیں ہے۔ کیا ہمارا معاشرہ اس طرح کی لرزہ خیز حرکتوں سے بے نیاز ہوچکا ہے؟ وادی اپنی بااخلاق بہتر ثقافت کے لئے جانی جاتی تھی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب کسی کو بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
کشمیر میں خواتین کے حقوق کی کارکن ازابیر علی کہتی ہیں کہ یہ حیران کن خاموشی اس طرح کے تشدد کو مزید بڑھاوا دے گی۔ازابیر علی کہتی ہیں ’’مقامی خبررساں اداروں نے اس نوجوان لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے واقعے کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں نے اب ایسے معاملات پر بات یا شوروغوغا کرنا چھوڑ دیا ہے، شاید اس لیے کہ متاثرہ لڑکی مقامی تھی۔ اگر کوئی باہر کا ہوتا تو شاید کچھ ہنگامہ ضرور پیدا ہوتا‘‘۔ ازابیرعلی کا ماننا ہے کہ معاشرے کا بے اعتنائی سے پُر یہ رویہ سماج میں خواتین کی جگہ کو مزید تنگ کر دے گا۔ اس سے لڑکیوں اور خواتین کی آمد و رفت میں یقینا رکاوٹ پیدا ہوگی۔ ان کے اہل خانہ کے ذریعہ انہیں قدم باہر نکالنے کی اجازت بھی نہیں ملے گی۔
اس 21 سالہ طالبہ کی موت کے چند دنوں بعد ضلع کولگام کے علاقے دیوسر میں ایک ایسے ہی جرم کا معاملہ سامنے آیاجہاں 17 سال کی ایک لڑکی کا ریپ کیا گیا۔ اس کی ریکارڈنگ موبائل فون پر کی گئی اور بعد ازاں مجرم نے اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر بھی کردیا البتہ پولیس نے فوری کارروائی کی اور چند ہی گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔
 ریاستی خواتین کمیشن کی سابق چیئرپرسن نعیمہ مہجور کے مطابق ماضی میں وادی میں جنسی ہراسانی کے ملزمین کو بدترین ذلت اور خفگی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ گزشتہ چند دہائیوں میں عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہونا شروع ہوا ہے۔ ایسے واقعات بھی ہوئے کہ جنہوں نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ان علاقوں میں کہ جہاں سب کچھ سکیورٹی اور دہشت گردی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، عورتیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔
کولگام کے وحشیانہ ریپ اور قتل کے واقعے نے دیہی خواتین کو محض صدمے سے ہی دوچار نہیں کیا بلکہ ان کی آزادی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک دیہی خاتون کے مطابق ''اس واقعے کے بعد ہم کھیتوں میں جاتے ہوئے ڈرتی ہیں۔ اگر بہت ضروری ہو تو ٹولیوں میں جاتے ہیں اور عموماً ہمارے ساتھ خاندان کے مرد بھی ہوتے ہیں۔متاثرہ لڑکی کی ایک دوسری کزن نے بتایا کہ ''میں ڈگری کالج کولگام میں گریجویشن کے دوسرے سال میں زیر تعلیم تھی۔ اس واقعے کے بعد میرے والدین نے مجھے صاف صاف کہہ دیا کہ میں تعلیم کیلئے بھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی۔ ان کے لئے میری زندگی کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ اہم ہے''۔اس کیس میں ملزمین کی شناخت بھی کی گئی۔ دونوں کولگام کے اشموجی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق دونوں یتیم ہیں۔ایک بس ڈرائیور ہے جبکہ دوسرادسویں کلاس کا طالب علم ہے۔ دونوں نشے کی لت میں بھی مبتلا رہے ہیں۔
متاثرہ کی عصمت دری کے واقعے کے ایک مہینے اور اس کی موت کے پانچ دن بعد ہوئی بات چیت کے دوران متاثرہ کی بڑی بہن نے بتایا کہ '' اتنے دن ہو گئے ہیں لیکن ملزمین پولس کی تحویل میں آزاد ہیں، جبکہ میری بہن قبرستان میں ہے‘‘۔ اس کے اہل خانہ نے اپنی متوفیہ بیٹی کے لئے انصاف کی خاطر جلد کارروائی کا مطالبہ کیا۔اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او)دیوسر جزیب محمد نے راقم کو چارج شیٹ اور موت کی وجہ نہیں بتائی تاہم انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد سے یہ دونوں ملزمان ان کی تحویل میں ہیں اور انہیں جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان پر اغوا، عصمت دری، زدوکوب اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بچی کی موت کے بعد پولیس نے الزامات میں قتل سے متعلق دفعہ 302کو بھی کیس میں شامل کر لیاہے۔ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ ''اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کرنے میں ہمارے پاس ابھی 25 دن باقی ہیں۔ تفتیش ابھی جاری ہے''۔
وادی میں خواتین طویل تنازعہ کا براہ راست شکار رہی ہیں۔ برسوں سے وہ معاشرتی اور سیاسی ماحول میں معمولی سی تبدیلیوں کا بھی شکار ہوچکی ہیں۔ ایسے میں ان کی خیر و فلاح، آزادی اور امن پر ہی سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں خواتین کے خلاف جسمانی اور جنسی تشدد کے واقعات اکثر رپورٹ میں نہیں آتے ہیں۔ اگر رپورٹ میں آ بھی جاتے ہیں تو گاؤں یا ضلع تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ اس سے آگے شاذو و نادر ہی ان پر توجہ دی جاتی ہے۔ ہم عصمت دری کے معاملوں کے خلاف سلیکٹیو رسپانس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ یہ معاملے قومی دارالحکومت میں پیش آتے ہیں یا وادی میں، ان کے تئیں بھی ویسی ہی سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجانا چاہئے۔
(یہ مضمون سنجے گھوش میڈیا ایوارڈ 2020کے تحت لکھا گیا ہے)
 

تازہ ترین