تازہ ترین

قضیہ نجی سکولوں کے ٹرانسپور ٹ کا

مالی منفعت نہیں ،تعلیم ترجیح ہونی چاہئے

تاریخ    17 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ نجی سکولوں کے فیس کا تعین کرنے سے متعلق حکومتی کمیٹی نے وادی میں چل رہے نجی سکولوں کی تازہ من مانیوں کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے تمام نجی سکولوں کو10سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ ارسال کرکے فوری جواب طلب کیا ہے ۔مذکورہ کمیٹی کا یہ تازہ اقدام اس لئے اطمینان بخش ہے کیونکہ نجی سکول پورے جموںوکشمیر خصوصاً کشمیر میں اب ایک مافیا کی طرح برتائو کرنے لگے ہیں اور اپنی من مانیوں سے بازنہیں آرہے ہیں۔تازہ فیصلے میں پرائیوٹ سکول ایسو سی ایشن نے مالی مشکلات کا بہانہ بنا کر سکول گاڑیاں بند کرنے کا اعلان کیاتھااور والدین سے کہاگیاتھا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول لانے اور لیجانے کا بندو بست خود کریں۔نجی سکولوں کی ایسو سی ایشن کا کہناتھا کہ گزشتہ دو برسوں سے سکول بند رہنے کے نتیجہ میںسکولوں میں ڈرائیوروں اورٹرانسپورٹ شعبہ سے منسلک عملے کی تنخواہ ، ٹیکس ، انشورنس اور بینک کی قسطوں کی ادائیگی جاری ہے تاہم حکومت نے ٹیکسوں یا بینکوں کے قرضوں کی ادائیگی میں کوئی رعایت نہیںدی اور مسلسل مالی خسارہ کی وجہ سے اب ٹرانسپورٹ ہی بند کردیا جائے گا۔اول تو نجی سکولوں کی اس دلیل میں ہی سقم ہے ۔تعلیمی سال2019-20کے دوران کم و بیش سبھی نجی سکولوںکی گاڑیاں اگر چہ بند رہیں تاہم والدین سے پچاس فیصد ٹرانسپورٹ فیس وصول کیاگیااور تعلیمی سال2020-21کے دوران بھی اگر چہ سکول بند رہے تاہم ٹیوشن فیس میں کوئی کمی نہیں کی گئی بلکہ وہ مسلسل لیاجاتا رہا ہے ۔ایسے میںیہ کہنا کہ نجی سکول مالی بحران کے شکار ہیں،حقیقت پر مبنی بیان نہیں ہے ۔والدین نے انتہائی مالی مشکلات کے باوجود بھی نجی سکولوں کو اپنے بچوں کی فیس ادا کی ۔ہاں! جب ٹرانسپورٹ چلا ہی نہیں تو بس فیس کیوں کر ادا کرتے ۔اب جس طرح پرائیوٹ سکول ایسو سی ایشن مالی بحران کی آڑ میں حکومت اور والدین دونوں کو بیک وقت بلیک میل کررہی ہے ،وہ افسوسناک ہے۔کیا یہ سمجھا جائے کہ گاڑیاں بند کرنے کی دھمکی دیکر اصل میں نجی سکول ایسو سی ایشن والدین سے سال ِرفتہ کی ٹرانسپورٹ فیس وصولنا چاہتی ہے ؟۔ظاہر ہے جب سکول کا ٹرانسپورٹ بند ہوگا تو والدین نہ چاہتے ہوئے بھی گزشتہ سال کی بس فیس ادا کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کیونکہ کوئی بھی والد اپنے بچے کو مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہے اور ہر والد کی خواہش ہوگی کہ اُس کا بچہ سکول کی گاڑی میں ہی سفر کرے کیونکہ وہ محفوظ رہتا ہے اور والدین بھی اطمینان میں رہتے ہیں کہ اُن کا بچہ صحیح سلامت سکول جائے گا اور بخیر شام کو گھرلوٹ آئے گا۔ایسے میں سکول ٹرانسپورٹ بند کرنے کی دھمکی والدین کو یقینی طور پر پریشان کررہی ہے اور وہ اپنے بچوں کی سلامتی کو لیکر فکر مند ہوچکے ہیں۔نجی سکولوں کی اس ایسو سی ایشن کو سمجھ لینا چاہئے کہ انہوںنے جس طرح تعلیم کو کاروبار بنا رکھا ہے ،وہ متمدن معاشروں میں قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے ۔مذکورہ ایسو سی ایشن نے جو رویہ اپنا رکھا ہے ،وہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ نجی سکول پیسہ کمانے والی فیکٹریاں بن چکی ہیں جہاں مالکان کی ساری توجہ صرف پیسہ بنانے میں ہے اور وہ اپنے منافع میں ذرا سی بھی کمی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔کیا ایسی ایسو سی ایشن سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر سالہا سال سے وہ بچوں کے والدین سے ٹیوشن فیس ،انیول چارجز ،ٹرانسپورٹ فیس اور دیگر نت نئے فیسوں کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتے رہے ہیںتو اگر بیچ میںانہیں ذرا سا خسارہ بھی برداشت کرنا پڑے تو اس پر واویلا کیوں مچایا جارہا ہے۔بلا شبہ دو سال سے سکول گاڑیاں کھڑی ہیںجس کا مطلب یہ ہے کہ ایندھن کا خرچہ نہیں ہوا۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ انشورنس کی رقم جمع کرنا پڑی ہو اور ا سکے علاوہ ڈرائیوروں کو تنخواہ دینی پڑی ہو تو کیا نجی سکول مالکان اپنے بل پر اِتنا بھی نہیں کرسکتے ہیں اور کیا وہ یہ رقم بھی والدین سے ہی وصول کرنا چاہتے ہیں ؟۔اس ساری صورتحال میں یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ الائنس آف پرائیوٹ سکول ایجوکیشن نامی نجی سکولوںکی ایک اور انجمن نے اپنے سود و زیاں کا نہ سوچتے ہوئے گزشتہ دو برسو ں کے دوران بچوں کو ہوئے تعلیمی نقصان پر افسردگی ظاہر کرتے ہوئے یکم مارچ سے سکول بسیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔مذکورہ الائنس نے بھی اگرچہ مالی مشکلات کا ذکر کیا ہے تاہم انہوںنے تعلیم کے مشن کو ترجیح دیتے ہوئے والدین کو کسی بھی قسم کی ذہنی پریشانی میں نہ ڈالتے ہوئے اپنی گاڑیاں چلانے کا اعلان کیا ہے ،جو قابل تحسین ہے ۔بلا شبہ نقصانات ہوئے ہونگے لیکن والدین کو بَلی کا بکرا بنانے کی بجائے اگر حکومت سے کسی تعاون کی گزارش کی جائے تو وہ بہتر رہے گی۔اب جبکہ فیس فیکزیشن کمیٹی نے گاڑیوں کی تعداد سے لیکر انشورنس ،ٹیکس یا بنک قرضوں پر دئے سود کے علاوہ ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی تنخواہوں کے مد پر خرچ کئے جانے والے رقوم کی تفصیلات طلب کرلی ہیں،تو امید کی جاسکتی ہے کہ پرائیوٹ سکول ایسو سی ایشن سے منسلک نجی تعلیمی ادارے ایسے برتائو سے باز آجائیں گے جس سے بلیک میلنگ کا تاثر ملتا ہوکیونکہ وہ کسی کاروباری ادارے کے مالکان نہیں بلکہ دانش گاہیں چلاتے ہیں جبکہ ایک عام کاروباری اور سکول منتظمین کی سوچ میں نمایاںفرق ضرور ہونی چاہئے ۔ان کیلئے تر جیح مالی منفعت نہیں بلکہ بچوںکی تعلیم ہونی چاہئے اور انہیں والدین کو ٹرانسپورٹ اور دیگر بہانوںسے بلیک میل کرنے کی بجائے والدین کا تعاون حاصل کرنا چاہئے تاکہ تعلیم کے شعبہ کو دوبارہ پٹری پر واپس لایا جاسکے۔

تازہ ترین