تازہ ترین

کھیلو انڈیا مہم اور کشمیر | کھیل میلہ بجا لیکن مقامی کھیل ڈھانچہ کہاں ؟

تاریخ    15 فروری 2021 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
شہرہ ٔ آفاق سیاحتی مقا م گلمرگ میں کھیلو انڈیا سرمائی میلہ شروع ہوچکا ہے جس میں ملک بھر سے سرمائی کھیلوں کے کھلاڑی شرکت کررہے ہیں۔یہ پروگرام اپنے آپ میں ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ پہلی دفعہ یہاں اس نوعیت کا سرمائی کھیلوں کا فیسٹول ہورہا ہے ۔اس طرح کے پروگرام کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ اس سے جہاں ملک اور ملک سے باہر مثبت پیغام جاتا ہے وہیں جموںوکشمیر خاص کر کشمیر کے سیاحتی سیکٹر کو سہارا ملتا ہے ۔بتایاجارہا ہے کہ گلمرگ ہائوس فُل چل رہا ہے اور ہوٹلوں میں کمرے خالی نہیں ہیں۔یہ اچھی بات ہے ۔سیاحتی انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو کافی وقت سے سیاحوں کا انتظار تھا اور اگر اسی کھیل مقابلے کے بہانے گلمرگ کی رونق لوٹ آتی ہے تو یہ سونے پہ سہاگا ہے تاہم یہاں ہمارا مقصد کھیلو انڈیا سرمائی فیسٹول پر بات کرنا نہیں ہے بلکہ بحیثیت مجموعی کھیلو انڈیا سکیم کو زیر بحث لانا ہے ۔اس سکیم کے تحت فیصلہ ہوا تھا کہ ہر پنچایت میں کھیل کا میدان بنے گا۔بلاک سطح پر ایک سٹیڈیم بنے گا اور ضلعی سطح پر انڈور و آئوٹ ڈور سٹیڈیم بنیں گے جبکہ کھلاڑیوں کو کھیلوں کا ساز وسامان بھی فراہم کیاجائے گا۔سننے میں آیا ہے کہ اس پروگرام کے تحت پیسہ کی کوئی کمی نہیں ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے وافر مقدار میں پیسہ فراہم کیاجارہا ہے تاکہ نوجوانوںکو کھیلوں کی جانب راغب کرکے ان کی ذہنی و جسمانی نشو نما یقینی بنائی جاسکے۔تاہم جموںوکشمیر کے حوالے سے اس وقاری سکیم کا حال بے حال ہی ہے ۔پنچایت سطح پر کہیں کھیل کا میدان نہیں بنا ۔بلا ک سطح پر بھی نہ سٹیڈیم بنے اور نہ ہی کھیل کے میدان بلکہ گائوں دیہات میں آج بھی نوجوان کھیت کھلیانوںمیں ہی کھیل رہے ہیں ۔صوبائی سطح پر جموں اور سرینگر میں چند سٹیڈیم بنے لیکن معیار کے لحاظ سے وہ بھی بہت پیچھے ہیں۔ایک طرف اس بات کا رونا رویا جارہا ہے کہ کشمیر کھیلوں کے شعبہ میں پیچھے ہے اور جموںوکشمیر ملک کو مختلف کھیلوں میں معیاری کھلاڑی فراہم نہیں کرپارہا ہے لیکن دوسری جانب حالت یہ ہے کہ یہاں کھیل اور کھلاڑیوںکی حوصلہ افزائی ہی نہیں ہورہی ہے ۔آخر ہم کیسے قومی اور بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی پیدا کرسکتے ہیں جب یہاں کھیلوںکا مناسب اور معیاری ڈھانچہ ہی میسر نہیں ہوگا۔کرکٹ کے کھیل میں چند کھلاڑیوں کو چھوڑ کر دیگر شعبوں میں حالت انتہائی مایوس کن ہے۔ انگلیوں پر ایسے کھلاڑیوں کو گنا جاسکتا ہے جنہوں نے قومی سطح پر جموںوکشمیر کی نمائندگی کی ہو جبکہ بحیثیت مجموعی حالت یہ ہے کہ یہاں معیاری کھلاڑیوں کا اَکال پڑا ہوا ہے ۔ہم آئے روز دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں کہ ہمیں نوجوانوں کی صلاحیتوں کوصحیح سمت دینی ہے اور حکومت اس ضمن میں اقدامات کررہی ہے ۔یہ بھی بتایاجارہا ہے کہ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور منشیات اور دیگر بری عادات سے دور رکھنے کیلئے نوجوانوںکو کھیلوں کی طرف مائل کرنا ہی ہوگا تاہم جب عمل کی باری آتی ہے تو نہ جانے کیوں ہمارے ارباب بست و کشاد اُس وقت گہری نیند میں پڑ جاتے ہیں۔جموںاور سرینگر کے علاوہ پہلگام یا گلمرگ میں گالف مقابلوں کا اہتمام کھیلوںکے فروغ سے نہیںجوڑا جاسکتا ہے۔گالف امیروں کا کھیل ہے اور جموںوکشمیر کے مٹھی بھر امیر ہی یہ کھیل کھیلتے ہیں تاہم آبادی کا غالب حصہ دیگر کھیلوںکی جانب راغب ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اُن میں شاید حکومت کی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یقینی طور پرکھیلوں کے شعبہ کا نقشہ ہی بدل گیا ہوتا۔جب بنیادی سطح پر ڈھانچہ ہی میسر نہ ہو تو آپ کیسے امید کرسکتے ہیں کہ اعلیٰ سطح پر ہم مقابلہ آرائی کرپائیں گے ۔جب گائوں دیہات،قصبوں اور شہروں میں کھیلوں کا انفرا سٹریکچر ہی میسر نہ ہوگا تو کھلاڑی کیا آسمان سے گریں گے؟۔کھلاڑی زمین پر ہی پیدا ہوتے ہیں اور اس کیلئے ہمیں وہ زمین میسر کرنا ہوگی جہاں کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاسکیں۔آ ج آپ کھیلو انڈیا سرمائی میلہ منعقد کررہے ہیں تو اس کاخیر مقدم کیاجاتا ہے اور یہ واقعی مبارک کی بات ہے تاہم محض پبلسٹی کیلئے کھیلوںکا انعقاد کوئی فائدے کا سودا قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔اگر ہماری حکومت واقعی کھیلوں کو فروغ دیکر یہاں نامی گرامی کھلاڑی پیدا کرنا چاہتی ہے تو اس کیلئے زمینی سطح پر کھیلوں کا ڈھانچہ استوار کرنا ہوگا۔کھیلو انڈیا مہم کے تحت پنچایت ،بلاک اور ضلعی سطح پر جن کھیل میدانوں ،اندوڑ وآئوٹ ڈور سٹیڈیموں کے تعمیر کی بات ہوئی تھی ،اس کو عملی جامہ پہناناہوگا اور اس کے بعد نوجوانوںکو کھیلوں کا ساز وسامان مہیا کرنے کے علاوہ معیاری کوچنگ کا بھی بندوبست کرنا ہوگا،جبھی ہم کھیل کے شعبہ میں نام پیدا کرسکتے ہیں ورنہ بات یہی رہے کہ ہم کرکٹ میں رانجی کیلئے جموںوکشمیر کی ٹیم بھیجتے رہیں گے لیکن وہ ہمیشہ پہلے ہی مرحلہ میں پٹتی رہے گی اور دیگر کھیلوں میں ہماری کوئی نمائندگی نہیں ہوگی ۔نتیجہ مایوسی اور ہمارے نوجوانوں کی توانائی غلط سمت میں بھی جاسکتی ہے جو تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
 

تازہ ترین