غزلیات

تاریخ    14 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


جس گھڑی اس شہر کا  ڈوبا مقدر، برف میں
ہو گئے سب مُنجمد سوچوں کے دفتر ،برف میں
محل و ا لے مطمئن محوِ تما شہ تھے مگر
پھر کسی مفلس کا ٹو ٹا آ ج چھپّر، برف میں
ہر کوئی انساں ضیا فت کے لئے بے تاب تھا
بس پرندے آشیانوں میں تھے مضطر، برف میں
سب دُعائیں سر پٹختی تھیں غذاؤں کے لئے
سامنے اک بھوک کا بیٹھا تھا  اجگر ،برف میں
دیکھ کر جبّر و ستم ہوتے ہوئے تہذیب پر
کس طرح پھر چین سے بیٹھے سُخنور، برف میں
بے ردا بستی میں کتنی بیٹیاں ہیں آج بھی
کاش کوئی ڈالتا ان پر بھی چادر، برف میں
جو خزینوں کا تھا مالک کل تلک اس شہر میں
آج کاسہ لے کے نکلا وہ سکندر ،برف میں
جان آخر وہ صنم لے کر رہا اک شوق کی
جو بنانے کے لئے نکلا تھا آزر، برف میں
عمر بھر جس کی رہی ما نو سؔ ہم کو آرزو
لحد کی صورت ملا آخر وہی گھر ،برف میں
 
پرویز مانوس ؔ
نٹی پورہ سرینگر ،موبائل نمبر؛9419463487
 
 
یا اخی ختم ہوئی جاتی ہے
سرمدی ختم ہوئی جاتی ہے
کج کلاہی کا زمانہ بھی نہیں 
خسروی ختم ہوئی جاتی ہے
خیریت پوچھنے آیا نہ کوئی
دل دہی ختم ہوئی جاتی ہے
بے جہت چلنے لگے لوگ یہاں
رہ روی ختم ہوئی جاتی ہے
مر گیا آنکھ کا پانی شاید 
شرم بھی ختم ہوئی جاتی ہے
ہر طرف خون خرابے کا سماں
آشتی ختم ہوئی جاتی ہے
نیم عریاں ہیں رواں عہد کے لوگ
سادگی ختم ہوئی جاتی ہے
غم نے تجھ پر بھی اثر ڈال دیا
کیوں ہنسی ختم ہوئی جاتی ہے
ڈھونڈھتے کیا ہو کشش حسن میں تم
ساحری ختم ہوئی جاتی ہے
پھول گلدان میں اب مر جائیں گے
تازگی ختم ہوئی جاتی ہے
روبرو تم ہو تو میرے دل کی 
بے کلی ختم ہوئی جاتی ہے
انقلاب آنے لگا مجھ میں غیاثؔ
بے حسی ختم ہوئی جاتی ہے
 
 غیاثؔ انور شہودی
مغربی بنگال،موبائل نمبر؛09903760094
 
 
 
زخم اک اور ہی کھاؤں گا چلا جاؤں گا
دو گھڑی اشک بہاؤں گا چلا جاؤں گا
 
برف پروردہ بدن ہے کہ تپش چاہتا ہے
تُم سے بس ہاتھ ملاؤں گا چلا جاؤں گا
 
اپنےحُجرے میں جو آنے کی اجازت دے دو
اپنی روداد سُناؤں گا چلا جاؤں گا
 
تیری دہلیز پہ آؤں گا کسی شب جاناں
دیپ یادوں کے جلاؤں گا چلا جاؤں گا
 
تُم بھی ڈھونڈو گے یقیناً مُجھے قریہ قریہ
میں بھی مُڑ کر نہیں آؤں گا چلا جاؤں گا
 
مُجھ کو اس شہرِ نگاراں میں کہاں رہنا ہے
اپنی گٹھیا کو اُٹھاؤں گا چلا جاؤں گا
 
تیرا آنا تو تُمہی پر ہے منحصر جاویدؔ
میں تو بس تُم کو بُلاؤں گا چلا جاؤں گا
 
سردارجاویدؔخان
مینڈھر، پونچھ،موبائل نمبر؛ 9419175198
 
 
آئی تمہاری یاد تو میں نے کہی غزل
میں نے جو آنکھیں مُوند لیں تُم ہوگئی اُجھل
 
میں نے رکھا سنبھال کے اے دل صدا جسے
تجھ کو خبر نہیں ہے وہ کیسے گئی نِکل
 
خوشبو بِنا گُلاب کے کاغذ کا پھول ہے
عشقِ فنائے ذات بھی یوں ہی گیا پِھسل
 
یہ بے رُخی ہے آپ کی، مرنے کی بس وجہ
چاہت نے تری جان لی اور رُوح آگئی نکل
 
دِل کی بہار لُوٹ لی فرقت نے آپ کی 
ٹھنڈی ہوا بہار کو جیسے گئی نِگل
 
میں نے رکھا ہے تھام کے دامن اُمید کا
آتے ہیں یوں جہان میں ساون بدل بدل
 
اپنے وجود سے یہ کہئے آپ مظفرؔ
ہوگا وصالِ یار بھی ائے دل ذرا سنبھل
 
حکیم مظفر ؔحُسین
باغبانپورہ، لعل بازار سرینگر
موبائل نمبر؛9622171322
 
 
درد کی دنیا میں کیوں فغاں تھا میں
دل کے اس شہر میں عیاں تھا میں
پاس میں تھا، سبھی کو دفنا یا
شہر کا آخری نشاں تھا میں
چھوڑ کے چل دئے وہ آخر
شہر جاں کا نہیں گماں تھا میں
تم کہاں ہو؟ کہاں چلے ہو تم!
اک بڑا خستہ بے زباں تھا میں
کچھ بتا کے چلو تو یاورؔ تم
خستہ جان عشق میں یہاں تھا میں
 
یاورؔ حبیب ڈار
بڑکوٹ ہندوارہ، موبائل نمبر؛9622497974
 
 
مسکراہٹوں سے وہ کیا صاحبِ زباں ہوا
دلکشی کے رنگ میں رنج و اَلم بیاں ہوا
 
غنچہ دہن، دستِ ہنر، دل میں خواہشیں بہت
وہ اَسیر گو نہیں، آزاد بھی کہاں ہوا
 
طنز کا طوفاں اگر تھا تیری ادائوں میں خوب
میں بھی سہنے کے لئے اِک بحرِ بیکراں ہوا
 
سوزِ دل کی جلوہ گاہ کتنی پُرسکون تھی
گُل کِھلے تو گلستاں بھی دم بہ دمِ وراں ہوا
 
یاسؔ کو کیا اس قدر اپنایا تونے ہے یہاں
ہرطرف بہار ہے اور اس میں تُو ہے بے نشاں
 
یاسمینہؔ اقبال
khanyasmeena141141@gmail.com
 
 
شہرِ وفا میں اپنا بھی کیا نام آیا ہے
مانگا خدا سے جو ہے وہی کام آیا ہے
 
ہر اور پھول کِھل اُٹھے اُجڑے دیار میں
تیری نگاہِ شوق کا انعام آیا ہے
 
ساحل پہ کشتی چھوڑ کے دریا میں بہہ چلیں
یہ شہر ہرطرف سے زیرِ دام آیا ہے
 
لوٹ آئیگا وہ وقت، اُمیدِ بہار رکھ
فطرت سے ہم کو آج یہ پیغام آیا ہے
 
کہہ لوازل سے بیٹھ جائے دوگھڑی کہیں
یامینؔ کے خیال میں ابہام آیا ہے
 
یامینؔ یٰسین
طالب علم بی اے فائنل ایئر
پہانو شوپیان
 

تازہ ترین