نظمیں

تاریخ    14 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


یہ دورِچل چلائوہےاظہار کیاکریں

رودِ سُخن میں بہائو ہے اظہار کیا کریں
اس میں ہی رواں نائو ہے اظہار کیا کریں
آتی یہی آواز ہے اب قلبِ دروں سے
سوچوں میں اِک تنائو ہے اظہار کیا کریں
سُنتا ہی کون آجکل ہے داغؔ و میرؔ کو
یہ بھی جِگر پہ گھائو ہے اظہار کیا کریں
ہے عصر میں اب خوب تر متشاعروں کی مانگ
یہ نسلِ نَو کا چائو ہے اظہار کیا کریں
جب ہو طنابِ وقت ہی دستِ فقیر میں
ہوتا پھِر ایک بھائو ہے اظہار کیا کریں
حیران ہم ہیں دیکھ کر یہ حُسنِ اِنتخاب
بونوں کے ہاتھ دائو ہے اظہار کیا کریں
ہوکارِ زرگری جو آہن گر کے ہاتھ میں
پھر ڈوبتی سی نائو ہے اظہار کیا کریں
کامت جنہیں نصیب ہے ایوانِ سُخن میں
اُن کا ہی کچھ نہ بھائو ہے اظہار کیا کریں
بربادیوں کا دور ہے بامِ عروج پر
تہذیب کا ٹھہرائو ہے اظہار کیا کریں
شہرِ سُخن شناس میں شعراء سے امتیاز
اِک دل شِکن برتائو ہے اظہار کیا کریں
ناخواندہ صفت ہے کرے خواندوں کا انتخاب
عہدے کا ہی تو تائو ہے اظہار کیا کریں
ہم ٹھہرائیں کیوں موردِ الزام کِسی کو
شعراء میں خود بِکھرائو ہے اظہار کیا کریں
اس کو گلہ نہ مانیو اے مہتمم حضور!
تُم سے ہمیں لگائو ہے اظہار کیا کریں
تو بھول جا عُشاقؔؔ اب وہ دورِ سابقہ
یہ دورِ چل چلائو ہے اظہار کیا کریں
 
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
موبائل نمبر؛9697524469
 
 
 
 

’’بے ہنر‘‘

 
ایک دل دوز سی آواز
کہ کانوں کے پردے پھٹے جا رہے تھے
مگر سن رہا تھا
کئی خار تھے مشکلیں تھی سرِ راہ
مگر چل رہا تھا
اچانک سے رستے میں ٹوٹے مکاں سے 
سنائی پڑی چند آہیں کسی کی
جو کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ
ویران کمرے میں رکھا ہوا ایک گملا
بغل میں پڑے چند کاغذ کے ٹکڑے
جو اچھے سے دیکھا تو جانا
کہ گھر میں کسی بے ہنر نے
زمانوں تلک ہجر کاٹا تھا لیکن
وہ اب مر رہا تھا
 
جعفر تابش
مغلمیدان، کشتواڑ
موبائل نمبر؛8492956626
 

 

تازہ ترین