تازہ ترین

اَدھوری کہانی

افسانہ

تاریخ    14 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


رافیعہ محی الدین
ہلکی ہلکی ہوائیں چل رہی ہیںاکرم اور سلیمہ چھت پر چائے کی چُسکیاں لے رہے ہیں ۔شام کے اس خوبصورت نظارے میں دونوں میاںبیوی اپنی شادی کے بیتے ہوئے دس سالوں کی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔ شادی کے ابتدائی سال انہوں نے کیسے  پریشانی میں گذارے ،علاقے کے تمام لوگ شائد اس سے بخوبی واقف ہیں ۔ اولاد جیسی نعمت سے محروم رہنا ایک شادی شدہ جوڑے کے لئے قیامت سے کم نہیں ۔
لمبی سانس لیتے ہوئے سلیمہ خیالوں میں گُم اپنے شوہر سے مخاطب ہوتے ہوئے:
اکرم جب سے اوپر والے نے ہمیں اولاد کی نعمت سے نوازاہے تب سے ہماری زندگی بالکل بدل گئی ہے۔۔۔
خیالوں کی دنیا سے واپس آتے ہوئے مطمئن ہوکر اکرم:
ہاںہاں سلیمہ تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو۔ میری تو زندگی کی امید ہی تب سے جگی ہے جب ساحل کا جنم ہوا۔ ورنہ میری دنیا۔۔۔۔میری دنیا تو۔۔۔
کہتے ہوئے اکرم نے ایک لمبی سانس لی۔۔۔۔۔ 
یہ سب سنتے ہوئے سلیمہ کی آنکھوں سے آنسوئوں کی دھارا بہنے لگی اور اکرم اس کو سنبھالتے ہوئے :
سلیمہ۔۔۔سلیمہ ۔۔۔ہوش میں آو ۔ ہمیں تو اوپر والے کا شکر کرنا چاہئیے۔ اُس نے ہمیںہماری شادی کے سات سال بعد اولاد کی نعمت سے جو نوازا ہے۔ اور ایک تم ہو کہ۔۔۔۔کہ۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اکرم کی آنکھوں سے آنسوں کے دو تین قطرے ٹھیک سلیمہ کے ماتھے پر آ ٹپکے اور سلیمہ یکدم اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ سلیمہ نے  اکرم کے آنسوئوں کو اپنے دوپٹے سے پونچھنا شروع ہی کیا تھا کہ نیچے سے ساحل تھکان بھری طوطلی آواز میں اپنی امی کو پکارتا ہوا:
امی۔۔۔امی۔۔۔
سلیمہ نے بے قرار ہوکے میز پر سے پیالے اُٹھاتے ہوئے سیدھا سیڑھیوں کی جانب رُخ کیااور ہرن کی طرح بھاگی بھاگی نیچے چلی گئی۔اکرم پیچھے پیچھے اُس کی بیقراری کو ناپتے ہوئے ،من ہی من گنگناتے ہوئے:
کیا بنے گا اس عورت کا ۔ اپنا ذرا بھی خیال نہیں!!!لیکن اس کی بیقراری تو جائز بھی ہے۔ میں جب خود پہ قابو نہ رکھ سکا تو سلیمہ کی تو بات ہی نہیں۔۔۔۔۔
سلیمہ اپنے لاڈلے بیٹے کو ایک منٹ کے لیے بھی خود سے الگ نہیں کرتی تھی کیونکہ سات سال بنا اولاد رہے کی تڑپ نے اُسے دیوانی بنا کے رکھا تھا ۔اس کا اٹھنا ،بیٹھنا، کھانا ، پینا، سونا ، جاگنا سب ساحل کی نذر ہو چکا تھا۔بیٹے کی خوشی سے اسے ہر سمت اجالا ہی اجالا نظر آتا تھا۔ اب ساحل کی ایک سکینڈ کی دوری بھی اس سے برداشت نہیں ہوتی ۔دن رات صرف ۔۔۔۔ ساحل ۔۔۔ ساحل ۔۔۔۔ساحل کی رٹ لگی رہتی ۔۔۔۔۔ 
گھر کی دیکھ بال کے لیے اگرچہ نوکر رکھے ہیں لیکن اپنے بیٹے کی دیکھ بال سلیمہ خود کررہی ہے ۔ اس کی دیکھ بال سلیمہ کے لئے ہر کسی کام سے افضل ہے۔ساحل کے لئے وہ اپنی ہر خوشی قربان کرنے کو تیار ہے۔ ساحل کے لیے ہر ایک چیز گھر میں ہی رکھی ہے۔گھر کے کونے کونے میں کھلونے ہی کھلونے نظر آرہے ہیں ۔ساحل کے آنے سے تو گھر کی فضا ہی بدل گئی ۔مایوسی کا عالم یکدم خوشی کی لہروں میں تبدیل ہوگیا ۔
 ادھر اکرم بھی گھر کی یہ رونق دیکھ کر بہت خوشی محسوس کر رہا ہے اور کیوں نہ ہو، ان کی خستہ زندگی میں بہار جو آگئی۔ ان کے گھر کا بجھا چراغ  روشن جو ہو گیا ۔ بیٹے کی آمد نے اکرم کی دنیا ہی بدل ڈالی۔ آفس سے واپسی پر ضرور اپنے بیٹے کے لیے کوئی نہ کوئی کھلونا لے آتے۔ بیتے دنوں کے تمام مصائب وآلام وہ ساحل کی ایک طوطلی پکار سے ہی بھول جاتا  ہے۔ دونوں میاں بیوی اب اپنی زندگی سے مطمئن ہیں۔ ساحل انکی زندگی کا سکون بن گیا ہے۔
اگلی اتوار کو ساحل کا جنم دن ہے اکرم اور سلیمہ اس سال یہ دن بڑی دھوم دھام سے منانے کی سوچ رہے ہیں ۔ 
سلیمہ امید بھری نگاہوں سے اکرم کی اور:
جی کیوں نہ ہم اس جنم دن پر اپنے تمام رشتہ داروں کو بلائیں۔ اُس کے بعد شائد ہی ایسا موقع مل پائے گا کیوں کہ پھر ساحل کا اسکول میں داخلہ بھی تو کرانا ہے۔  پھر میں اپنے بیٹے کی پڑھائی میں کوئی خلل نہیں ڈالنا چاہتی۔مجھے پھر اپنا سارا وقت تو ساحل کی پڑھائی میں ہی لگانا ہے۔۔۔ میں۔۔میںساحل کو۔۔۔
کہتے ہوئے سلیمہ خوابوں کی ایک رنگین دنیا میں سیر کرنے لگی۔۔۔۔
اکرم ، سلیمہ کی ان باتوں پر مسکراتے ہوئے ۔۔کریم ،جس کو گھر میں سبھی چھوٹو کے نام سے پکارتے تھے، کی اور مخاطب ہوتے ہوئے:
 ارے چھوٹو  اب تم ہی کچھ علاج ڈھونڈو اس دیوانے پن کا۔ تمہاری مالکن  تو خوابوں کی دنیا میں ہی مست ہوگئی ۔۔۔یہ تو۔۔۔
چھوٹو اکرم کو روٹی پروستے ہوئے آدھی مسکراہٹ سے:
صاحب جی آپ بھی تو دیوانے ہو ساحل بابو کے۔ ہم سب کی نظریں تو اسی پر ہیں ۔ آخر و ہی تو ہے اس گھر کا چراغ۔ ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے چھوٹو باورچی خانے کی اور چلا ۔۔۔۔۔
سلیمہ ایک نامور مصنفہ کے نام سے پورے علاقے میں جانی جاتی ہے۔ کالج کے دنوں سے ہی سماجی حالات و نظریات کو وہ اپنی تحریروں میں ایک منفرد انداز میں قلمبند کرتی رہی۔انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی پہلو، سلیمہ کے قلم کی نظریں ہر سمت پڑتی رہیں۔ یہاں تک کہ اُس نے اپنے شوہر کو شادی کے موقع پر خود تیار کردہ ایک کتاب بھی تحفے میں دی تھی، جس میں اُن کے کالج کی پہلی ملاقات سے لے کر شادی تک کے تمام حالات و واقعات کو اس نے قلمبند کیا تھا۔ ۔۔
رشتہ داروں کے علاوہ آج علاقے کے مشہور و معروف قلمکار، اداکار اور ادیب بھی سلیمہ کے گھر انکی خوشیوں میں شامل ہونے کی خاطر آ پہنچے ہیں۔گھر کا سماں ہی آج بدل گیا ہے۔ اتنی بڑی تقریب تو لوگ شادیوں میں بھی نہیں کرتے جتنی بھیڑ اکرم کے گھر لگی ہے۔۔۔
سلیمہ اپنے ہم منصب دوستوں کا تعارف کرنے سے ہی فارغ نہ ہو پارہی ہے۔
فرزانہ، جو کہ سلیمہ کی بچپن کی سہیلی رہ چکی ہے، مسکراتے ہوئے سلیمہ کا ہاتھ پکڑ کر اُس کے کان میں کچھ کہتی ہوئی۔۔۔
دوسری جانب شفیق:
ارے بھابی سلیمہ تمہارے بیٹے کا جنم دن ہے یا شادی۔قہقہہ لگاتے ہوئے۔۔۔
 یہاں تو تم کو تعارف سے ہی فرصت نہیں اور مجھے بتائو  تو صحیح تمہارے میاں کہاںچھُپ گئے ہیں۔۔۔
خوشی  میں جھومتی ہوئی سلیمہ بے قابو ہو کر:
ارے شفیق بھائی جو آپ سمجھیں۔ میرے لئے تو ساحل سے جُڑی ہر تقریب خاص ہے۔۔۔
شفیق پُر شفقت انداز میں:
 ارے ارے تمہارا دیوانہ پن سر آنکھوں پر میری بہنا۔۔۔ خالقِ کائنات تمہارے ہر دن کو ایسا ہی خوشحال بنائے۔
سلیمہ سے خوشی سے تر اپنی آنکھوں کو شفیق چھُپاتے ہوئے فرزانہ کی اور؛
ارے فرزانہـ!! میں تو تمہیں یہ بتانا بھول ہی گئی تھی کہ میں ساحل کی زندگی کی کہانی ایک خاکے کی صورت میں تحریر کر رہی ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ یہ میں ساحل کو ایک تحفے کی صورت میں دے دوں۔۔۔
اب ساحل کا اسکول میں داخلہ کرانے کا وقت بھی آگیا ۔دونوں میاں بیوی شہر کے اچھے سے اچھے اسکول کی تلاش میں لگ گئے اور بڑی دوڑ دوپ کے بعدآخر کا ر شہر کے ایک اچھے اسکول میں ساحل کا داخلہ ہوگیا ۔
سلیمہ جو ایک منٹ کے لئے بھی ساحل کو  اپنے سے دور نہیں رکھ پاتی تھی،کے لئے اسکول کے یہ پہلے دن بہت ہی کٹھن ثابت ہوئے۔ وہ دن میں پانی سے باہر ایک مچھلی کی مانند تڑپتی رہتی اور بیٹے کے انتظار میں کھانا پینا اور اپنے روز مرہ کے کام بھی بھول جاتی۔ دن میں صرف وہ ساحل کے بارے میں ایک آدھ صفحہ ہی لکھ پاتی اور باقی سارا دن  ساحل کے انتظار میں اندر باہر کرتی رہتی۔۔۔۔
 کچھ عرصہ یوں ہی بیت گیا۔رفتہ رفتہ سلیمہ  میں ساحل سے دور رہنے کی قوت برداشت پیدا ہوگئی۔ اب وہ حسبِ معمول  اپنا کام کاج کر رہی ہے ۔ ساحل کے بارے میں کتاب کے علاوہ وہ  اب ایک روزنامے کے لئے بھی گھر سے ہی مقالے ارسال کر رہی ہے۔ لیکن ساحل کو  اسکول  کے لئے تیار کرنا اور واپسی پر رسیو کرنے کا کام وہ خود کرتی رہی۔۔
 اکرم نے سلیمہ کو یہ کام کرنے سے کبھی روکا ہی نہیں ۔  روکتا بھی کیسے ،سلیمہ بھی تو ایک سمجھدار اور با حیا، عورت تھی، اپنے فرائض سے بہ خوبی واقف ،کبھی بھی  اپنے شوہر کو ناراضگی کا موقع نہیں دیا۔اپنی سمجھداری اور عقلمندی سے سلیمہ نے گھر کو جنت بنا یا ہے۔ ان کا بیٹا ساحل بھی اسکول کے باقی بچوں سے منفرد ، اپنے تمام اساتذہ کا لاڈلا ہے۔ پڑھائی ہو یا کھیل، صفائی ہو یاکوئی اور چیز اسکول کے ہر کسی کام میں وہ اول  ہی آتا ہے۔ اور کیوں نہ آئے اس کے سر پہ تو سلیمہ جیسی ماں کا سایہ ہے،جو سو کام چھوڑ کر اپنے بیٹے کی پرورش میں دن رات لگی رہتی ہے۔ اور تو اور اس کام میں وہ کوئی سمجھوتا نہیں کرتی۔
صبح کے ناشتے کے بعد آج ساحل جلدی جلدی اپنے اسکول کے کام میں لگ گیا۔ اکرم بھی کمپنی کے ایک نئے پروجیکٹ کا خاکہ بنانے میں محو  ہے۔ وقت کو غنیمت جانتے ہوئے سلیمہ بھی اپنی ڈائری کھولنے کا سوچنے لگی ۔
اکرم سلیمہ پر نظر پڑتے ہی مزاحیہ انداز میں:
 سلیمہ ۔۔ اے سلیمہ۔۔۔ اور کتنا لکھنا باقی ہے اب، کبھی تو آرام بھی کیا کرو۔ خیر تم کہاں کرو گی آرام۔ تمہیں جو اپنے لاڈلے کو تحفہ دینا ہے۔اب کتنی دیر بعد رسم ِرونمائی ہوگی!!!کب   دوگی ساحل کو یہ تحفہ۔۔۔۔
سلیمہ  اکرم کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے اسکے تھوڑا قریب  دھیمی آوااز میں :
ارے آپ بھی نا !! ابھی ساحل کی عمر ہی کتنی ہے۔ یہ سب باتیں اُس کی سمجھ سے میلوں دور ہیں ۔جب وہ بالغ ہوجائے گا  اور اس کے ذہن میں پختہ گی آجائے گی  توتب ہی میں اس کو یہ تحفہ دوںگی۔۔۔۔ تب تک ۔۔۔۔۔ تب تک تو۔۔۔من ہی من کچھ گنگناتی ہوئی سلیمہ ساحل کے کمرے کا دروازہ بند کرنے لگی۔۔۔
اگلے دن ساحل کے اسکول جانے کاوقت قریب آگیا ۔ سلیمہ اس کا ٹفن تیار کرنے میں مشغول تھی اور اکرم اپنے دفتر جانے کی جلدی میں۔۔۔
 ساحل سلیمہ کو اپنے معصوم لہجے میں اپنے کمرے سے ہی :
امی۔۔۔ امی۔۔ارے او امی۔۔۔
اپنی قمیض کے بٹن بند کرتے ہوئے دوڑا دوڑا باورچی خانے میں سلیمہ کے کان میں کچھ کہتے ہوئے جلدی سے ٹفن کو اٹھاتے ہوئے اسکول روانہ ہوگیا ۔۔۔۔ 
سلیمہ دودھ کا گلاس لے کر پیچھے سے؛
ارے بیٹا دودھ تو پیتے جائو۔۔۔
لیکن جب تک سلیمہ باورچی  خانے سے باہر آتی تب تک ساحل اسکول کی گاڑی میں چڑھ چکا تھا ۔سلیمہ ایک دو منٹ تک گاڑی کو دیکھتی رہی اور لمبی سانس لیتے مسکراتے ہوئے باورچی خانے کی اور مُڑ گئی۔
ادھراکرم سلیمہ کے چہرے کی ہلکی مسکان دیکھکر دھیمے مگر منفرد انداز میں:
سلیمہ یہ شہزادہ آپکے کان میں کیا کہہ کے چلا گیا ۔۔۔ ۔۔ 
سلیمہ ایک انوکھے انداز میںـ:
میں کیوں بتائوں۔ یہ تو ایک راز ہے میرے اور ساحل کے بیچ!!!
سلیمہ کے ان الفاظ نے اکرم میں یہ راز جاننے کی خواہش اور بڑھا دی اور وہ سلیمہ کو مجبور کرتا گیا۔۔۔
اکرم کی یہ تڑپ دیکھ کر سلیمہ قہقہے لگاتے ہوئے:
ارے۔۔۔ارے بابا بتاتی ہوں ۔۔۔بتاتی ہوں۔۔۔  کہتے ہوئے سلیمہ کے ہاتھ سے گرے برتن  نے اس گفتگو میں موسیقی بھی جوڑ لی اور دونوں میاں بیوی کچھ دیر  کے لئے ہنستے رہے!!!
برتن کی آواز سننے کے بعد ہی چھوٹو دوڑتے دوڑتے رسوئی کی طرف پہنچا۔ مالک مالکن کو دیکھتے دم سنبھالتے ہوئے:
میں نے سوچا۔۔۔۔میں نے ۔۔۔میں نے سوچا۔۔۔گبھراتے ہوئے  ایک دم چپ ہوگیا۔۔۔۔
ادھر اکرم راز جاننے کی ضد پر اڑا ہے۔ سلیمہ بھی ہنستے ہنستے اس کی قوتِ برداشت کو جانچ رہی ہے۔۔۔
بے بسی کی حالت میں اکرم بچوں کی طرح:
بتائو نا ۔۔۔بتائو نا اب سلیمہ۔۔۔دفتر کے لئے دیر بھی ہو رہی ہے۔۔۔
بچگانہ حرکات کا لطف لیتی ہوئی سلیمہ:
ارے بابا!!!! 
شہزادے کو آج گاجر کا حلوہ کھانے کا من ہے ۔۔۔۔۔ میرے کان میں یہ بول کے گیا کہ جب اسکول سے آج واپس آئوں گا تومیرے لئے حلوہ تیار رکھنا ۔۔۔۔ 
اوہ ہووووو!!!! میری پسند کو اب کوئی ترجیح ہی نہیں۔۔۔کر لو ۔۔۔کرلو مزے
یہ سن کر سلیمہ محبت بھرے لہجے میں :
کہیں آپکا ۔۔۔آپکا من بھی تو نہیں ۔۔۔۔اور ٹفن میں روٹی رکھنے میں مصروف ہوگئی۔۔۔۔۔ 
اکرم  بڑی سنجیدگی سے سر کو ہلاتا ہوا:
  جی ہاں ۔۔۔۔ ۔۔ میرے لیے بھی۔۔۔میرے لئے بھی تیار ۔۔۔۔  کہتے ہوئے اکرم نے اپنا بیگ اٹھایا اور دفتر کی جانب روانہ ہو گیا۔۔۔
سلیمہ ابھی ساحل کے کمرے کا بکھرا سامان ہی ٹھیک کر رہی تھی کہ پڑوس کی رقمنی اونچی آواز میں: 
سلیمہ۔۔۔ارے او سلیمہ دیدی۔۔۔میں بازار جارہی ہوں ۔۔شاپنگ کرنے۔۔۔آپ کا من ہو تو آجائو اکٹھے جائیں گے۔۔۔
اپنے بیٹے ساحل کی فرمائش یاد کرتے ہوئے سلیمہ نے رکمنی کی پیشکش کو یکدم مسترد کردیااور  پھر سے گھر کے کام میں لگ گئی ۔۔۔۔۔ 
ساحل کے اسکول کی واپسی کا وقت بھی اب آن پہنچا۔ سلیمہ کی نظریں بار بار گھڑی کی اور پڑ رہی ہیں۔  وہ گاجر کا حلوہ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ساحل کی آمد کے گیت بھی گارہی ہے۔
اب سلیمہ صرف ساحل کے اسکول کی گاڑی کا۔۔۔۔۔پی۔۔۔۔۔پی۔۔۔۔۔ سننے کے انتظار میں ہے ۔۔۔۔ 
آج اسکول کی بس کا وقت دس پندرہ منٹ زیادہ ہی ہوگیا۔ انتظار کا ایک ایک پل سلیمہ کے من میں گبھراہٹ اور وسوسوں کو جنم دے رہا ہے۔ 
سلیمہ من ہی من سوچنے لگی کہ ابھی تک تو اسکول کی گاڑی آجانی  چاہیے تھی ،پتا نہیں آج کیوں اتنا وقت لگ گیا !!!!
سلیمہ کی گبھراہٹ اب بے چینی میں تبدیل ہونے لگی۔ اس بے چینی کا مقابلہ کرنے کی خاطر وہ اندر باہر کرتی رہی۔ خوف سے اُس کا سارا بدن پسینہ پسینہ ہونے لگا۔ بے چینی میں وہ کبھی چھوٹو کو بلاتی تو کبھی اکرم کو فون کرنے کی خاطر رسیور ہاتھ میںاُٹھاتی۔ مگر ساحل کی پریشانی نے اس کے ہوش ہی اُڑا دئے تھے۔۔۔
اسی اندر باہر والی کشمکش کے بیچ سلیمہ کے کانوں کو گاڑی کی آواز سنائی دی اور وہ بے چین ہوکر دیوانوں کی مانند ننگے پائوں گیٹ کی اور دوڑی۔ 
  اکرم کے ہاتھوں میںسفید کپڑے میں لپٹے ساحل  پر نظر پڑتے ہی سلیمہ یکدم ایک بے جان شئے کی مانند زمین پر آگری۔ ادھر چھوٹو بھی مالکن ۔۔۔۔مالکن  چِلاتے ہوئے صحن میں لگے بجلی کے کھنبے سے ٹکرا کر بے ہوش ہوگیا۔۔۔
 رکمنی جس کا بیٹا وشال بھی چوراہے پر ہوئے گرینیڈ حملے میں زخمی ہوا تھا نے زور زور سے چلانا شروع کیا۔ 
کچھ وقت بعد جب سلیمہ ہوش میں آئی تو دکھوں کے اس سمندر میں ساحل کی تلاش میں وہ خود بھی ڈوب گئی اور یوں اسکی کہانی ادھوری ہی رہ گئی۔۔۔۔۔
 
���
برنٹی اننت ناگ
ای۔میل؛rafiayaur90@gmail.com

تازہ ترین