تازہ ترین

آئینہ

افسانہ

تاریخ    14 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


طارق شبنم
راشد اور اس کی بیگم نے صبح صبح ہی شہرکے بڑے بازار کا رخ کیا اور ایک مشہور شاپنگ مال کے سامنے گاڑی پارک کرکے اندر جا کے خریداری کرنے میں مصروف ہو گئے ۔دوپہر کے وقت وہ ڈھیر سارے مہنگے کپڑوں ،جوتوں ،چپلوں ،پرفیوم اور گھر کی سجاوٹ کے قسم بہ قسم سامان کی خریداری کرنے کے بعد مال سے واپس نکلے اور سامان کو گاڑی میں رکھنے لگے ،لیکن سامان اتنا زیادہ تھا کہ گاڑی میںسمیٹ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔
’’صاحب ۔۔۔۔۔۔ اللہ کے نام پر کچھ دے د و‘‘ ۔
ایک عمر رسیدہ خاتون نے راشد،جو سامان گاڑی میں رکھنے میں مصروف تھا ،کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا،لیکن اس نے خاتون کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔چند ساعتوں بعد خاتون نے پھر اپنا سوال دہرایا تو وہ غصے میں آکر جنگلی بلّے کی طرح غرایا ۔
’’نان سنس ۔۔۔۔۔۔ تمہیں دِکھ نہیں رہا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں ،مفت کی روٹیاں توڑنے کی عادت ہوگئی ہے تم لوگوں کو ۔۔۔۔۔۔ دفع ہوجائو یہاں سے ‘‘۔
راشد کی اس بے عزتی سے بزرگ خاتون کے آنکھوں کے تالاب بھر گئے ۔۔۔
’’او ہو راشد ۔۔۔۔۔۔ کیوں ٹوک رہے ہو بے چاری کو ،یہ لیجئے ماں جی‘‘ ۔
راشد کی بیگم نے خاتوں کے ہاتھ میں دس روپے کا نوٹ رکھتے ہوئے کہا اور وہ اسے دعائیں دیتے ہوئے چلی گئی ۔تھوڑی دیر بعد ہی مسٹر اینڈ مسز راشد بھی گاڑی میں بیٹھ کر خوشی کوشی گھرکی طرف روانہ ہو گئے۔گھر پہنچ کر دوپہر کا کھانا کھانے کے بعدگھر کی سجاوٹ اور دوسری تیاریوں میں جٹ گئے کیوں کہ اگلے دن کی شادی کی سالگرہ تھی ۔
راشد ایک اچھے سرکاری عہدے پر فائیز تھا ۔اچھی تنخواہ کے ساتھ ساتھ چائے اور تحفوں کی آڑ میں اچھی خاصی اوپری کمائی بھی ہو رہی تھی ،وہ نہات ہی ٹھاٹھ سے زندگی گزار رہا تھا ۔ اس کے پاس اچھا اور ہر سہولیت سے مزین گھر اوراعلیٰ قسم کی قیمتی گاڑی تھی ،جب کہ وہ نہایت ہی قیمتی لباس اورقیمتی جوتے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین سے بہترین غذائیں کھانے کا دیوانہ تھا۔ غرض وہ نہایت ہی عیش پرست انسان تھا اور اپنی اور بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دل کھول کر خرچ کرتا تھا۔وہ دونوںمیاں بیوی دیر گئے تک سالگرہ کی تیاریوں میں مصروف رہے۔
صبح جب راشد نیند سے جاگا تو کچھ پریشان سا دکھ رہا تھا ۔اس کی حالت کو بھانپتے ہوئے بیگم نے اُس سے پوچھا ۔
’’راشد ۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے ؟تم کچھ پریشان سے لگ رہے ہو‘‘ ۔
’’ کوئی خاص بات نہیں ہے ۔لیکن آج رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے جسم پر بالکل بھی لباس نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔ میں بالکل ننگا اور پریشان تھا ،بھوک اتنی لگی تھی جیسے میں نے بہت دنوں سے کچھ نہ کھایا ہو‘‘ ۔
’’اچھا تو یہ بات ہے ۔۔۔۔۔۔ کہہ کر بیگم کھلکھلا کر ہنسنے لگی‘‘۔
’’تم ہنستی کیوں ہو ؟‘‘
’’تمہاری باتوں پر۔۔۔۔۔۔ خواب میں انسان کچھ بھی دیکھتا ہے اس میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے ‘‘۔
بیگم نے ایک ادا سے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہاجس سے وہ مطمئن ہوگیا اور بات آئی گئی ۔کچھ دیر بعد ہی مہمان آنا شروع ہو گئے اور وہ ان کے استقبال اور خاطر تواضح میں جٹ گئے ۔سہ پہر تک ان کی سالگر ہ کی شاندار تقریب چلتی رہی جس دوران رقص و سرور کی محفلوں کے ساتھ ساتھ شرکائے تقریب قسم بہ قسم کی ضیافتوں سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے ۔مہمانوںکے چلے جانے کے بعد وہ دونوں تھکان دور کرنے کے لئے صوفے پر سستانے بیٹھ گئے ۔شام کو وہ تیار ہوگئے اور بچوں کو ساتھ لے کر گھر سے فرط نشاط و انبساط میں جھومتے ہوئے بازار کی طرف نکلے کیوں کہ سالگرہ کی خوشی میں انہوں نے شام کا کھانا کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانے کا پروگرام بنایا تھا ۔شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں راشد ،جو اچھے کھانوں کا رسیا تھا ،نے انواع قسم کی ضیافتیں منگائیں ،انہوں نے خوب کھا یا پیا اور سیر ہو کردیر رات واپس گھر پہنچ گئے ۔
’’صاحب  ۔۔۔۔۔۔  پڑوس میں رہنے والی آنٹی آئی تھی کہتی تھی کہ اس کا شوہر بیمار ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’گھر پہنچتے ہی نوکر نے راشد سے کہا‘‘ ۔
’’ تو ۔۔۔۔۔۔؟‘‘   
وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے تیز لہجے میں بولا۔
’’صاحب ۔۔۔۔۔۔ وہ کہتی تھی کہ اگر صاحب میری کچھ مدد کریں تو میں اپنے شوہر کا علاج کرا سکوں ۔ صاحب وہ بہت روہی تھی‘‘ ۔
’’ صاحب کے پاس کیا کوئی نوٹ چھاپنے کی مشین ہے ،جو میں لوگوں میں بانٹتا پھروں ‘‘۔
  اس نے مغرور لہجے میںنوکر کو ٹوکتے ہوئے کہا ، تکبر کے پہاڑ لئے اپنی خواب گاہ میں داخل ہو کر ٹیلی ویژن آن کیا اورکچھ دیر نظارے دیکھنے کے بعددوسری موج مستیوں میں لگ گیا ۔۔۔۔۔  
’’ارے یہ کیا  ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
راشد ،گھر کے صحن میںاپنے سامنے سفید لبا س میں ملبوس ایک مریل سے شخص جو بالکل اس کا ہم شکل تھا، کو دیکھ کر چونک گیا ۔
’’اے ۔۔۔۔۔۔کون ہو تم ؟اور یہاں کیا کر رہے ہو ؟‘‘
’’میں ۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
وہ مسکراتے ہوئے بڑ بڑایا لیکن کوئی جواب نہیں دیا ۔
’’کیا چاہیے ،کپڑے ،کھانا ،روپے ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
راشد نے بھکاری سمجھ کر اسے طنز بھرے لہجے میں کہا۔
لیکن اُس نے نفی میں جواب دیا اور کچھ دیر حقارت بھری نظروں سے راشد کو گھورنے کے بعد دوسری طرف مُنہ پھیر لیا ۔
’’ دیکھو آج میری شادی کی سالگرہ ہے اور میں بہت خوش ہوں ،چلو میں تجھے اچھا سا کھانا کھلائوں اور پہننے کے لئے نئے کپڑے بھی دے د وں ‘‘۔
اس پر ترس کھا کرراشد کا رویہ اچانک بدل گیا ۔
  ’’ان لذیز ضیافتوں سے میرا نہیں اس خاکی وجود کا پیٹ بھرتا ہے جس پر تم ناز کرتے ہو اور سجانے سنوارنے کے لئے دن رات ایک کرتے ہو، لیکن۔۔۔۔۔۔؟‘‘
اس نے معصوم سے انداز میںشان بے نیازی سے راشد کی پیش کش کو ٹھکرادیا۔ 
’’لیکن کیا ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’تم نے اپنے جینے کا جو مقصد بنایا ہے، میں ان چیزوں سے بالکل بے پروا ہ ہوں میری غذا ڈھونڈنے کی فکر کرو فائیدے میں رہو گے ورنہ تمہارا خاکی پتلا ایک دن مٹی میں مل جائے گا اور تم ہمیشہ بھو کے ننگے ہاتھ ملتے پریشان رہوگے‘‘ ۔  
اس نے دوٹوک انداز میں کہا جس دوران اس کی آنکھیں بھیگ گئی ۔جب کہ اس کی بات سن کر راشد کے چہرے پر بھی یشانی کے آثار نمودار ہوگئے ۔اُسے لگا جیسے اس کے مُنہ میں زبر دستی کڑوی گولیاں ٹھونسی جا رہیں ہوں۔
’’تم کیا کہتے ہو میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے ۔سیدھی طرح سے کہو کیا کہنا چاہتے ہو‘‘ ۔
’’تو سنو ۔۔۔۔۔۔مختصر بات یہ ہے کہ تم نفس پرستی کی نیلام گاہ میں نیلام ہوکر لذت پرستی کے ظلمت کدے میں بھٹک رہے ہو، لیکن ابھی بھی مہلت ہے کہ کچھ اپنے ہوش و حواس سے کام لے لو ورنہ۔۔۔۔۔ ۔ خیر اس سے زیادہ میںکچھ کہہ نہیں سکتا‘‘۔
’’لیکن ۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔
چلاتے ہوئے راشداپنا سر پکڑ کر اُسے غور سے دیکھنے لگا ۔
’’شکل وصورت سے تو تم بالکل میرے جیسے ہو ،لیکن تم ہو کون ؟‘‘ 
’’میں ۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے ہی وجود کا حصہ ہوں ،لیکن تم فنا ہونے والے مٹی کے پتلے کے ناز اُٹھاتے اُٹھاتے امر رہنے والے اس وجود کو بالکل فراموش کر چکے ہو ۔ مجھے پہچاننے کی کوشش کرو اور اس آئینے میں اپنی اصلی صورت دیکھو۔ اچانک وہ ایک بڑے آئینے میں تبدیل ہو گیا جس میں راشد کو اپنی رزالت ،خباثت اور بگڑی ہوئی صورت صاف نظر آنے لگی۔ اپنے وجود پرلگے تکبر، ریا کاریوں اور سیاہ کاریوں کے بد نما داغ دھبوں کو دیکھتے دیکھتے درد کی ایک تیز لہر اس کے پورے وجود میں دوڑ گئی،اس نے چیخنا چلانا چاہا لیکن اس کا دم گھٹ کر کانٹے کی طرح گلے میں پھنس گیاجس کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔
٭٭٭
 اجس بانڈی پورہ193502 کشمیر
ای میل؛ tariqs709@gmail.com، موبائل نمبر؛9906526432
 

تازہ ترین