تازہ ترین

روزگار کی فراہمی… اعلان اچھا، عمل بھی ہو

تاریخ    12 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے حال ہی میں کہا ہے کہ ان کی توجہ اگلے پانچ سال میں 80 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر ہے۔ ہارورڈ یو ایس انڈیا انیشیٹو (HUII) کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ میرا مقصد اگلے پانچ سال میں جموں و کشمیر کی 80 فیصد نوجوان آبادی تک پہنچنا اور اس کو ترقی کے عمل میں شامل کرنا ہے ،میں جموں و کشمیر کے ہر بچے کو سمجھدار ، کامیاب اور اچھے انسان کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں، ہم سب مل کر مطلوبہ ہدف حاصل کریں گے۔جموں وکشمیر کے 80فیصد نوجوانو ں کو روزگار فراہم کرنے کے تعلق سے لیفٹنٹ گورنر کے یہ کلمات سننے میں تو کافی اُمید افزا لگتے ہیں لیکن عملی طور پر اگلے پانچ سال میں کتنے فیصد نوجوانوں کو روزگار ملے یاپھر بیروزگار ی کی موجودہ شرح میں تب تک مزید کتنے فیصد اضافہ ہوچکاہوگایہ مستقبل قریب میں ہی پتہ چل جائے گا۔لیفٹنٹ گورنر اوران کی انتظامیہ کی روزگار کی فراہمی کے حوالے سے زیادہ تر توجہ نوجوانوں کی صلاحیت سازی پر مرکوز ہے اوراس کیلئے سکل ڈیولپمنٹ کے کورسز کروائے جارہے ہیں جبکہ باہر کے سرمایہ کاروں کو جموں وکشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے راغب کرنے کی بھی کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک نہ ہی نوجوانوں کی کوئی اُمید افزا صلاحیت سازی ہوسکی ہے اور نہ ہی سرمایہ کاری کی سمت میں کچھ خاص پیشرفت ہوئی ہے ،جسے دیکھ کر یہ کہاجائے کہ اب روزگا ر کے مواقع ہی مواقع پیدا ہونے جارہے ہیں۔بے شک سِکل ڈیولپمنٹ موجودہ دنیا میں ترقی و روزگار کی ایک اہم ضرورت ہے اوراس کے بغیر نوجوانوں کیلئے آگے بڑھنے کے راستے محدود ہیں لیکن اس عمل میں ابھی تک جموں وکشمیر نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔یہاں پچھلے کئی برسوں سے اس مقصد کیلئے حمایت پروگرام چلایاجارہاہے جس کے تحت پہلے سوالاکھ نوجوانوں کو تربیت دے کر روزگار کے قابل بناناتھا اور اب اس تعداد میں مزید اضافہ کرکے اسے ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچادیاگیاہے جبکہ مرکزی حکومت کی طرف سے کروڑوں روپے بھی فراہم کئے گئے ہیں لیکن ابھی تک اس پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد صرف چند ہزار میں ہے۔حمایت پروگرام کیلئے کئی اہداف رکھے گئے مگران میں سے ابھی تک ایک بھی پورا نہیں ہوا اور اب تربیت کے اس عمل کو مکمل کرنے کی تاریخ میں مزید اضافہ کیاگیاہے جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ جموں وکشمیر کے نوجوانوں کی صلاحیت سازی کی رفتار اتنی تیز نہیں جتنی لیفٹنٹ گورنر توقع کررہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پانچ اگست 2019کے فیصلے کے بعد ترقیاتی اور اقتصادی شعبے میں کچھ بھی نہیں بدلا بلکہ صرف چہرے تبدیل ہوئے ہیں اور انتظامی امورویسے ہی چل رہے ہیں ، باوجود اس کے کہ اس کے بعد مرکزی سرکار نے کئی وعدے کئے اور یہ تک کہاکہ اب جموں وکشمیر کو سونے کی چڑیا بنایاجائے گا۔البتہ روزگار کی فراہمی کے بجائے پچھلے ڈیڑھ سال میں مزید ہزاروں نوجوانوں کو روزگار سے محروم ہوناپڑاہے اورجہاں لاک ڈائون پر لاک ڈائون نے نجی شعبے کو گھٹنے ٹیکا دیئے وہیں کئی پرائیویٹ ادارے بند ہوگئے یاپھر بند ہونے کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں۔اگر منوج سنہا اپنی انتظامیہ میں نئی روح پھونک کراگلے پانچ برسوں میں اسی فیصد نوجوانوں کو روزگار دلادیں تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگااورا س سے اقتصادی شعبے سے جڑے کئی مسائل خود بخود ہی حل ہوجائیں گے۔جموں وکشمیر میں حکومت کے ابھی تک اقدامات کسی بھی طور پر حوصلہ افزا نہیں کہے جاسکتے لیکن اگر انتظامیہ غیر ضروری معاملات کے بجائے اصل معاملات کے حل کیلئے سنجیدہ ہے تو اسے عملی سطح پر اس کا مظاہرہ کرناہوگا ،خالی زبانی باتوں سے نہ ہی تو آج تک کسی کا بھلا ہواہے اور نہ ہی مستقبل میں اس سے نوجوان خوشحال بن جائیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں نوجوانوں کی تربیت کارپرتوجہ دے کر انہیں روزگار کے قابل بنانے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کئے جائیں وہیں سرکاری محکمہ جات میں بھی خالی پڑی اسامیوں کو پْر کرنے کیلئے شفاف طریقہ سے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر بھرتی عمل آگے بڑھایاجائے۔
 

تازہ ترین