تازہ ترین

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی سپلائی بہتر بنانے کی ضرورت!

تاریخ    9 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


 جموں و کشمیرمیں شعبہ طب میں موجود کمزوریوں کے بہ سبب عام لوگوں کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، وہ کسی سےچھپا نہیں ہے۔ ضلعی اور مضافاتی ہسپتالوں اور ہیلتھ سینٹروں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کے بہ سبب نہ صرف شہر کے بڑے ہسپتالوں پر بوجھ میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اکثر اوقات سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے رش کی وجہ سے متعدد لوگوں کو پرائیوٹ ہسپتالوں اور نرسنگ ہوموں کا رُخ کرنا پڑتا ہے ، جہاں علاج معالجے کے نام پر اُنکی کھال کھینچنے میں کوئی کثراُٹھائے نہیں رکھی جاتی ۔ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں معالجوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایسی کمپنیوں کے ادویات تجویز کرتے ہیں، جو مخصوص میڈیکل سٹوروں پر ہی دستیاب ہوتے ہیں ۔ اس کے پس پردہ کیا وجوہات ہوسکتی ہیں، اسکا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ سبھی معالج اس عمل کے قائل ہوں بلکہ متعدد ایسے حضرات بھی ہیں جو مریضوں کی مجبوریوں کو مدنظر رکھنے کو اپنی ترجیحات میں شمار کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں انتظامیہ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ہسپتالوں کے اندر ضروری ادویات میّسر رکھنے پر بھر پور توجہ دے۔جموں و کشمیرمیں وقت وقت  پربراجمان مختلف حکومتیں اگر چہ شعبہ ٔ صحت میں نت نئی اسکیمیں اور پروگرام متعارف کراکے یہ عندیہ دیتی رہتی تھیں کہ جموںوکشمیر میں سرکاری سطح پر صحت کی نگہداشت اور علاج و معالجہ کی بھر پور سہولیات میسر ہیں، لیکن زمینی سطح کی حالت کو دیکھتے ہوئے ہر ادوار میں مریضوں کو جس مایوس کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے اُسی صورت ِحال کا سامنا آج بھی کرنا پڑرہا ہے ۔ دور دراز خطوں اور پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ہسپتالوں اور طبی مراکز پرضروری سہولیات کا فقدان عام باتیں ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ سرینگر کے صدر ہسپتال اور اس سے منسلک مختلف ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی قلت کے بہ سبب مریضوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ حالانکہ یہ ایک واشگاف حقیقت ہے کہ ان ہسپتالوں میں صرف صوبہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنےو الے مریضوں کا ہی دبائو نہیں ہوتا بلکہ مغل روڑ کے توسط سے خطہ پیر پنچال کے بیشتر علاقوں کے مریض بھی ضروری علاج معالجہ کےلئے سرینگر کے ہی ہسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر سے منسلک وادی چناب کے متعدد علاقوں کے مریض بھی جغرابیائی قربت کے بہ سبب جموں کے مقابلہ میں سرینگر کا رُخ کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ساری صورتحال انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں لیکن اس کے باوجود ان ہسپتالوں میں موجود مشکلات پر کوئی توجہ دینے کی کوشش نہ کرنا عوامی اعتماد کو نقصان  پہنچانے سے کچھ کم نہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ہسپتالوں میں ادویات کی قلت کی وجہ سے مریضوں کو ان کےلئے بازاروں کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جہاں انہیں یہ چیزیں مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ان میں غریب اور نادار لوگوں کی اچھی خاصی تعداد شامل ہوتی ہے، جنہیں اس وجہ سے بے بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ہسپتالی انتظامیہ عام طور پر اس کےلئے میڈیکل سپلائز کارپوریشن، جو ہسپتالوں کو ضروری ادویات فراہم کرنے  کی روا دار ہے، کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ حالانکہ ان ہسپتالوں نے کئی کئی ماہ قبل کارپوریشن کے سامنے ضروری ادویات کے آڈر رکھے ہوتےہیں لیکن انکی فراہمی میں مسلسل تاخیر ہوتی ہے۔ حالانکہ کئی ہسپتالوں نے کارپوریشن کو ضروری فنڈس بھی مہیا کررکھے ہوتےہیں مگر اس کے باوجود ادویات کی فراہمی میں مسلسل لیت و لعل سے کام لیا جا تا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کا انتظامیہ کوسنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہئے، کیونکہ اس وقت ہر سرکاری شعبے میں پرائیوٹ سیکٹر کی مداخلت کی وجہ سے ان شعبوں کی افادیت کو متاثر کرنے کی کوشش ہو رہی ہیں تاکہ رفتہ رفتہ صورتحال اس سطح پر پہنچے کہ جہاں حکومت پر ائیوٹ سیکٹر کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہو جا ئے۔ ظاہر بات ہے کہ ایسی صورتحال میں غریب اور نادار لوگوں کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑینگے یہ شاید کوئی کہنے کی بات نہیں۔ایسے معاملات اگر چہ اکثرو بیشتر سیاسی مداخلت کاری کی وجہ سے ہوتے رہتے ہیں لیکن فی الوقت ریاست میں گورنر راج کے نفاذ کے بہ سبب کسی قسم کی سیاسی مداخلت کا کوئی امکان نہیں ہے، لہٰذا یہ صورتحال موجود نہیں ہونی چاہےتھی۔انتظامیہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لے کر میڈیکل کارپوریشن کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں کو ادویات کا سٹاک فراہم کیوں نہیں کیا جاتا اور اس میں کون سے وجوہات مانع ہیں۔ ان وجوہات اور محرکات کے اسباب تلاش کرکے ان کا سدباب کرنے کی ضرورت ہے، جو اگر نہیں کیا جاتاتو عوام کےتئیں ذمہ داریوں سے غفلت شعاری کا ا س سے بڑا کیاثبوت ہوسکتا ہے۔ انتظامیہ پر یہ حقیقت شاید اُجاگر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پرائیوٹ طبی اداروں کی جانب سے علاج و معالجہ کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا جو عمل جاری ہے عام انسان، جن میں اکثریت کم آمدنی والے طبقے کی ہوتی ہے، اسکے متحمل نہیں ہوسکتے۔
 

تازہ ترین