تازہ ترین

ریاسی اور کولگام اضلاع کو ملانے کادیرینہ خواب پورا نہ ہوسکا | گلاب گڑ ھ کولگام شاہراہ نہ بن پائی | ڈی پی آر تو منظوری کیلئے گیا ہے لیکن کئی برسوں سے واپس نہ لوٹا

تاریخ    8 فروری 2021 (34 : 12 AM)   


زاہد ملک
ریاسی//ضلع ریاسی کی عوام باراستہ گلابگڑھ ضلع کولگام کشمیر کے ساتھ ملانے کا خواب ہنوز شرمندہ تعبیر ہے۔حکومت جموں و کشمیر نے عوام کی خواہش کے مطابق ضلع ریاسی اور ضلع کولگام کو آپس میں سڑک کے ذریعے ملانے کا فیصلہ کیا تھا اور سال 2009۔10 میں تعمیر سڑک کرنے کا من بنا لیا۔اس سڑک کی تعمیر کا کچھ حصہ صوبہ کشمیر اور کچھ حصہ صوبہ جموں میں تعمیر ہونا مطلوب تھا، اسی وجہ سے اس سڑک کی تعمیر دونوں جانب سے شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ذرائع کے مطابق صوبہ کشمیر سے سال 2010 میں نندی مرگ کولگام کے مقام سے سڑک کی تعمیر کی افتتاح کیاگیاجس کا ذکر اخبار میں مورخہ 2جون 2010 میں شائع ہواتھا اور8 یا 9 کلومیٹر تعمیر ہوچکی ہے جس کا نام نندی مرگ سے گلابگڑھ ہے۔نندی مرگ،گور پتھری،زومس تل اور تراجن تک تعمیر کی گئی ہے۔لوگوں نے بتایا کہ صوبہ جموں کی طرف محکمہ پی ڈبلیو ڈی سب ڈویژن مہور سے اس منصوبہ کا باقاعدہ ایک پروجیکٹ تیار کیا گیا اور برائے منظوری حکام بالا کو مورخہ 29ستمبر2010زیر سکیم پی ایم آر پی ارسال کر کے تعمیر سڑک کی تجویز گزارش کی گئی۔بروجیکٹ کا نام نہوچ(مہور) تا نندی مرگ (کولگام) براستہ گلابگڑھ رکھا گیا ۔اس پروجیکٹ میں سڑک کی لمبائی 35 کلومیٹر نہوچ سے نکن تک درج کی گئی مگر آج تک ناہی اس پروجیکٹ کا کوئی ذکر کیا گیا اور نا ہی سڑک کا کام شروع ہوا۔شہر جموں اور سرینگر کو آپس میں ملانے کیلئے یہ سڑک سب سے کم فیصلہ پر ہے اور یہ سڑک ان دو صوبوں کے درمیان چوتھا متبادل اور کامیاب راستہ بن سکتا ہے۔ اس سے پہلے بانہال قاضی گنڈ،مغل سڑک راجوری شوپیان اور کشتواڑ سنتھن ٹاپ اننت ناگ موجود ہیں مگر اس سڑک کے تعمیر ہونے سے جموں کشمیر کے درمیان نزدیک ترین اور آسان سفر ہوگا۔اس کے علاوہ ٹریفک کی مشکلات میں بھی کافی حد تک آسانی ہوگی اور سڑک حادثات بھی کم پیش آسکتے ہیں۔اس سڑک کے تعمیر ہونے سے بہت سے فائدے ہوسکتے ہیںاور آمدو رفت برفباری کے علاوہ ہمیشہ بحال رہنے کے امکانات ہیں یہ دونوں اضلاع سیاحت کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں۔ دونوں اضلاع کے درمیان میں خوبصورت پہاڑیاں اور ندیاں دیکھنے کو ملتی ہیں اور ہر طرف سے خوبصورت مناظر ہیں۔دونوں اضلاع کے درمیان میں بڑے بڑے میدان ہیں اور سیاحت کو اس سڑک کے تعمیر ہونے کی وجہ سے فروغ مل سکتا ہے۔ اس سڑک کے تعمیر ہونے سے دور دور سے سیاح سیر کیلئے آسکتے ہیںجس کی وجہ سے دونوں اضلاع کے بچھڑے علاقہ کے نواجوانوں کا روزگار چل سکتا ہے اور ریاسی ضلع کے مہور،چسانہ،گلابگڑھ،درماڑی اور اس کے علاوہ گول کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے وسائل پیدا ہوسکتے ہیں ،اسی طرح ضلع کولگام کے نندی مرگ،گور پتھری،دمہال ہانجی پورہ وغیرہ میں بھی روزگا پیدا ہوسکتے ہیں۔اس حوالے سے جب کشمیر عظمیٰ نے ایگزیکٹیو انجینئرپی ڈبلیو ڈی مہور دیویندر سنگھ سے بات کی توانہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کا ڈی پی آر منظوری کیلئے پی ڈبلیو ڈی نے بھیجاہے لیکن ابھی تک اس پروجیکٹ کی منظوری نہیں ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کو تقریباً دو سال مہور میں تعینات ہوئے ہیں ،اس سے قبل ہی اس پرجیکٹ کا ڈی پی آربھیجا گیا ہے جو 35 کلومیٹر ہے اور معلوم نہیں کہ اس کا سٹیٹس کیا ہے۔
 

تازہ ترین