تازہ ترین

گولڈن کارڈوں کا حصول کرناہ کے لوگوں کیلئے کارے دارد والا معاملہ | سخت ضوابط کی وجہ سے مریض ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر کاٹنے پرمجبور

تاریخ    8 فروری 2021 (00 : 12 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //آیوشمان بھارت سکیم کے تحت نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ومعالجہ کیلئے بنائے جانے والے گولڈن کارڈ وں کیلئے سخت ضوابط کرناہ کے مریضوں کیلئے پریشانی کا سبب بن رہے ہیں کیونکہ کینسر اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا کرناہ کے مریض کارڈ بنانے کی خاطر ایک دفتر سے دوسرے دفترکے چکر کاٹ رہے ہیں اور انہیںآیوشمان بھارت سکیم کا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔معلوم رہے کہ مرکزی سرکار نے دسمبر 2020میں آیوشمان بھارت سکیم کو شروع کیا اور اس دوران دعویٰ کیا کہ اس سکیم سے لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا لیکن کچھ ایک سرحدی علاقوں کی عوام ایسی ہے جنہیں کارڈ بنانے میں سخت عمل کے سبب کارڈ بنانے میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔ایسے مریضوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار گولڈ ن کارڈ حاصل کرنے کیلئے فارم بھرے ہیں لیکن کارڈ حاصل کرنے کیلئے قواعدوضوابط ان کیلئے پریشانی کا سبب بن رہے ہیں ۔کرناہ میں ایسے بیسوں مریض ہیں جن کے نہ صرف دونوں گردے ناکارہ ہیں بلکہ انہیںکینسر کے علاوہ دیگر مہلک بیماریاں بھی لاحق ہیں اور ایسے مریضوں کو اپنے علاج پر لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں، جبکہ ہر ماہ سرینگرکے ہسپتالوں میں گردوں کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو ڈائیالیسس پر 20سے 30ہزار روپے کا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔کرناہ کے مولوی عبدالروف، عامر فاروق اعوان ، ضمیر احمد جو ، مولوی محمد رفیع بابا ساکنان گومل ، نسرینہ بیگم ساکن سلمان ٹنگڈار ، خواجہ شبیر احمد ساکن بٹ پورہ ، لیاقت علی ساکن کھوڑپارہ ، زاہدہ بیگم ساکن شاٹھ پلہ ، جمیل احمد لون ساکن بکھایاں ٹنگڈار ،ظریفہ بیگم ساکن نوپورہ ٹنگڈار کے علاوہ محمد مقصود ساکن سلمان اور لقمان میر ساکن کھوڑپارہ کا صرف اتنا مطالبہ ہے کہ انہیں انسانی بنیادوں پر گولڈ ن کارڈ فراہم کئے جائیں تاکہ وہ بھی آیوشمان بھارت سکیم سے مستفید ہو سکیں ۔کرناہ میں ایسے مریض بھی ہیں جو اپنے کنبہ کے واحد کفیل تھے او ر اب وہ بستر مرگ پر ہیں اور ان کی حالت ہر گزرتے دن خراب ہوتی جا رہی ہے ۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال2011میں جب جموں وکشمیر میں مردم شماری ہوئی اس میں یہ لوگ رہ گے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ۔ذرائع نے بتایا کہ حکام نے گولڈ ن کارڈ بنانے کیلئے دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیںجس میں بلاک لیول اور ولیج لیول کمیٹی شامل ہیں ۔بلاک لیول کمیٹی میں ٹی ایس او ، بلاک میڈیکل افسر اور بلاک ڈیولپمنٹ افسر رکھے گے ہیں، جبکہ ولیج لیول کمیٹی میں پٹواری ، آشا ورکر ،بی ایل او اور دیگر ممبران رکھے گئے ہیں ۔گولڈن کارڈ بنانے والوں کو پہلے تحصیلدار کے پاس درخوست دینی پڑتی ہے جس کے بعد وہ پہلے ولیج کمیٹی اور بعد میں بلاک لیول کمیٹی سے تصدیق کرنے کیلئے پھر تحصیلدار کے پاس پہنچنا پڑتا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ تحصیلدار اس سکیم کے تحت چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جن کی تصدیق کے بعد اس کو ضلع حکام کو بھیجا جاتا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ایک تو یہ عمل طوالت آمیزہے اور اس میں مریضوں کا وقت ضائع ہوتا ہے ،وہیں نہ ہی ان کے کام کپوارہ میں ہو پاتے ہیں اور نہ ہی کرناہ میں ہو پاتے ہیں اور ایسے لوگ دربدر ہو جاتے ہیں ۔ایسے مریضوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کرناہ اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے مریضوں کی ایک الگ سروے کی جائے اور پھر ایک ہی ساتھ ان کے کارڈ بنائے جائیں تاکہ انہیں ایک دفتر  سے دوسرے دفتر کے چکر کاٹنے نہ پڑیں ۔
 

تازہ ترین