تازہ ترین

شہنشاہِ زمستان

افسانہ

تاریخ    7 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


عاشق آکاشؔ
گھاس کی چھت سے لٹکی برف کی نوکیلی تلواروں کو دیکھتے ہوئے چودھری صاحب:
’’ارے میاں رحیم؛ یہ کیا حال بنا کے رکھا ہے اپنا، کہیںگر گئے تو ہڈی پسلی ایک ہوجائے گی۔ ذرا تو خیال کرو اپنے معصوم بچوں کا، ہاجرہ کو تو تم بھول ہی گئے ہو!!!‘‘
شاہانہ انداز میں چودھری صاحب گلے سے لٹکے  سفیدمفلر کو سنبھالتے ہوئے اپنی کوٹھی کی اور چلنے کی تیاری میں لگ گئے۔۔۔
برف سے لت پت رحیم تھرتھراتے ہوئے اپنی کمر سے بندھی رسی کو کستا ہوا:
’’ارے چودھری صاحب اُن  ہی کی فکر نے تو مجھے اس زمہریر میںچھت پر چڑھنے کو مجبور کیا ہے۔ ورنہ۔۔۔ورنہ مجھ میںاب اتنی ہمت کہاں!!!‘‘
کہتے ہوئے رحیم اپنے مکان کی چھت جو کہ اب آدھی ٹوٹ بھی چکی تھی کو صاف کرنے کی کوشش میں دوبارہ لگ گیا ۔ ۔۔
 برف باری تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ چھت پہ بیٹھے بیٹھے  اب رحیم کی نسوں کا خون بھی منجمد ہونے لگا ہے ، سُرخ ہاتھ، بے جان بازو، پھٹے ہوئے فرن سے نظر آتے بنیان کے دھاگے ، ٹوپی کے ریشوں سے جھولتے ہوئے سفید گولے۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی ماہر فنکار نے اپنے فن کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایک باپ کی بے بسی کو کاغذپہ اُتارا ہو۔۔۔
  مُحلے کے پبلک پوسٹ  کے سامنے عورتوں کی ایک لمبی قطارگلی کے بالکل کونے سے گذرتی ہوئی رحیم کے کچے مکان تک آپہنچی ہے۔ ہاجرہ ہاتھ میں مٹکا لئے بے چینی سے اپنی باری کے انتظار میں پیروں کو باری باری اوپر نیچے کرتے ہوئے!!!! 
شائد پانی اُس کے پھٹے جوتوں کے اندر جا چکا تھا اور وہ اُس سے پیدا ہونے والی سردی کی شدت کو کم کرنے کی خاطر یہ بے سود ترکیبیں آزما رہی تھی۔۔۔
ہاجرہ کی نظریں کہیں  امیدوں کی لمبی قطار کی طرف پڑتی تو کہیں اس کی معصوم نگاہیں چھت پر پڑے اپنے بے بس شوہر ، جس کا حال شائد ہاجرہ سے درجے میں بدتر تھا ، سے دل میں دھبے سینکڑوں سوالوں کا جواب طلب کرتی ہوئی اشکوں کے ایک گہرے سمندر میں ڈوب جاتیں۔۔۔
نیم خستہ کھڑکی سے دو ننھے ننھے معصوم بچے گھونسلے میں نو زائید پرندوں کی مانند اپنی ماں کا حال دیکھتے ہوئے اس کے انتظار میں، معصوم انداز میں ایک دوسرے کو سنبھالتے ہوئے!!! کہیں خالقِ کائنات کو اپنی مفلسی کی تصویر دکھاتے ہوئے تو کہیں ایک حسین دنیا کے خواب سے لڑتے ہوئے اپنے پھٹے دستانے پہننے کی کوشش میںلگے رہے۔۔۔
ادھر سرکاری نل کے آگے بھیڑ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ لیتی بھی تو کیسے !!!منفی درجہ حرارت نے تو بے چاروں کے جذبات کو بھی ٹھنڈا کیا تھا۔ دو تین بندے جلی گھاس سے روٹھے نل کو منانے کی لگاتار کوشش میں جُٹے ہوئے تھے  جیسے کہ میدان جنگ میں لڑ رہے ہوں۔لیکن اس بار صاحبزادے کا گلہ کچھ سنگین  ہی تھا اورمنانے کے سارے  طورطریقے بے سود ثابت ہو رہے تھے۔۔۔
ایک دوسرے سے روداد سنتے سناتے کچھ وقت تو نکل ہی گیا لیکن اب سردی کے ڈر سے یہ لمبی قطار بکھرنے لگی۔کہرے سے لڑنے والے سپہ سالار بھی اب ہار کر کانگڑیوںکے ساتھ چمٹ گئے۔ ہاجرہ نے ابھی اپنے نیم مردہ قدموں کو گھر کی اور موڑا  ہی تھا کہ پھسلن نے اس کے لڑکھڑاتے جسم کو نالے میں رسید کیا اور اس کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی۔ چیخ سنتے ہی رحیم بے قابو ہوکر چھت سے کود گیا ۔زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی ایک برف کے تودے نے بیچارے کو اپنی آڑ میں لے لیا۔۔۔
کچھ دردمند لوگوں نے رحیم کو اُٹھا کر اند ر ایک کمرے میں لٹا دیا آہستہ آہستہ لوگ جمع ہونے لگے۔ ہاجرہ اپنے شوہر کا حال دیکھ کر کبھی اپنی مفلسی کو تانہ دے رہی ہے تو کبھی خود کو کوس رہی ہے۔
 اتنے میں چودھری صاحب نے باہر سے آواز دی:
ـَِّ’’ ارے بھائی کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا‘‘
کریم چاچااندر سے سہمی ہوئی آواز میں :
’’چودھری صاحب۔۔۔چودھری صاحب ، کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ر۔۔ر۔۔رحیم چھت سے گر گیا ہے اور ابھی تک بے ہوش ہی ہے‘‘
چودھری صاحب کے کہنے پر چھوٹو نے ریشی صاحب، جو کہ علاقے کے مشہور ڈاکٹر ہے، کو بلایا۔ ریشی صاحب نے ایک انجکشن لگا کر رحیم کو اسپتال لے جانے کی صلاح دی۔
 بے چارے کی آدھی جان تو چھت صاف کرتے کرتے نکلی تھی  اور باقی کسر ہاجرہ کی چیخ نے پوری کردی!!! اسپتال لے جانے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ ۔۔
 شدیدبرف باری نے تو علاقے کو ضلع اسپتال سے منقطع ہی کیا تھا۔گاڑی تو دور پیدل چلنا بھی محال بن گیا تھا۔انسان تو انسان راستے میں بجلی کے نیم خستہ کھمبے بھی جُھگ کر خالقِ کائینات سے شہنشاہِ زمستان کے قہر سے پناہ مانگ رہے تھے۔لوگوں کے خیر خواہ تو شہنشاہ کے ڈر سے پہلے ہی ہجرت کرچکے تھے اور دور سے سورج کی تپتی کرنوں میں اپنی رعایا کو گھروں کے اندر رہنے کے مشورے اور شہنشاہ سے لڑنے کے تمام ہتھیاروں کی نمائش سے لوگوں کا دل بہلاتے رہے۔ لیکن کہتے ہے نا  ’’جس کے پیر نہ پھٹی بوائی۔ وہ کیا جانے پیڑ  پرائی!!!‘‘
چودھری صاحب نے اپنے گھر سے چارپائی منگوائی۔ دو تین بندے برف صاف کرتے ہوئے آگے سے راستہ بنا نے لگے اور کچھ نے رحیم کو چارپائی پر لٹا کر اسپتال کی اور چلنا شروع کیا۔۔۔
چارپائی اٹھانے والے افراد آپس میں چہ مہ گوئیاں کرتے ہوئے:
’’اس رحیم کو بھی چٹی پڑی تھی صبح صبح ایسی سردی میں چھت پر چڑھنے کی۔ خود تو اب شہنشاہوں کی طرح سواری لے رہا ہے اور ہمیں خواہ مخواہ مصیبت میں ڈال دیا۔‘‘ 
بے چاروں کا حال قیامت سے کچھ کم نہ تھا ۔ لیکن کرتے بھی کیا، رحیم بھی اپنے ہمسایوں پر مر مٹنے والا بندہ جو تھا۔ حالات کا مارا بے چارہ اپنے بیوی بچوں کو سنبھالتے سنبھالتے خود لڑھک گیا۔ مکان پہ اگر پکی چھت ہوتی تو شائد یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔۔۔
دیہی ترقی محکمہ میں پردھان منتری آواس یوجنا کے لئے رحیم نے بھی کئی دفعہ درخواست دی تھی لیکن محکمہ میں شائد اسکی کوئی جان پہچان نا ہونے کے باعث درخواست ہر بار مسترد ہوتی گئی۔  لیکن رحیم بھی دیہی ترقی محکمے کا عمر بھر احسان مند رہے گا کیونکہ اگر محکمے نے اس کی عرضی مسترد نہ کی ہوتی تو آج اس کو ایسی انوکھی سواری کا لطف اٹھانے کا ہرگز موقع نہ ملتا!!!
شام ہوتے ہوتے رحیم کو اسپتال پہنچایا گیا۔ لیکن اس کی تقدیر کا سایہ پہلے ہی وہاں پہنچا تھا۔راستے بند ہونے کی وجہ سے اسپتال کا بیشتر طبی عملہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچ نہیں پایا تھا۔چہ جائے کہ گورنمنٹ نے  برف باری کے پیشِ نظرایمرجنسی محکموں  کے ملازموںکی سبھی چھُٹیاں منسوخ کی تھیں۔
ایمرجنسی وارڑ میں لوگ کھچا کھچ بیڑ بکریوں کی طرح جمع تھے۔ مریضوں سے زیادہ تیمار دار !!!
اندر جگہ ملنے کا سوال ہی نہیں۔۔۔ چودھری صاحب کے کہنے پر رحیم کو ایمرجنسی وارڑ کی جانب جانے والی گلی میں ہی رکھا گیا۔ کچھ دیر بعد ایمرجنسی وارڑ سے ایک ڈاکٹر صاحب نکلے ، جن کی آنکھیں تھکان سے سُرخ ہو چکی تھیں، چودھری صاحب نے ڈاکٹر کو سارا ماجرا سنایا ۔ ڈاکٹر صاحب رحیم کی جانچ کرنے لگے۔ سبھی لوگ ڈر سے سہمے ہوئے تھے۔ کچھ منٹ جانچ کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب :
’’ان کی نسیں تو جم گئی ہیں ان کو یہاں ہی داخل کرانا ہوگا ، ہوسکتا ہے بڑے اسپتال کے لئے روانہ بھی کرنا پڑے۔ صبح تک کے لئے تو میں دوائی لکھتا ہوں پھر دیکھتے ہیں بڑے ڈاکٹر صاحب کیا مشورہ دیتے  ہیں۔۔۔‘‘
ادھر محلے کی دو چار عورتیں ہاجرہ کو سنبھالتے سمجھاتے ہوئے:
’’ارے ہاجرہ کچھ نہیں ہوگا رحیم کو، وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔ کم سے کم ان معصوم بچوں کی خاطر چپ تو ہوجائو‘‘
ہاجرہ سسکیاں لیتی ہوئی:
’’ ارے سروہ آپا کیسے چپ ہوجائوں!!!ایک وہ ہی تو ہے سہارا ۔اُسے کچھ ہوا تو کہاں لے جائو گی ان معصوموں کو!!!اوپر والا بھی ۔۔ پتہ نہیں ۔۔مسکینوں پر ہی اتنا مہربان کیوں؟؟؟‘‘
اندھیرے نے اب سارے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ دو دن سے بجلی کا نام و نشان ہی نہیں۔ ہر سو خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ رحیم کے ساتھ ساتھ اس کے گھر کا چولہہ بھی ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ بے چاری ہاجرہ رات بھر اپنے معصوم بچوں کی چمکتی آنکھوں کو تکتی رہی۔ اس رات وہ بھی سو نہیں پارہے تھے۔ یہ اثر بھوک کا تھا کہ والد کا انتظار ؟؟؟ سب وہ ہی جانے!!!
رات کا آخری حصہ تھا  اسٹول پر بیٹھے چودھری صاحب کی ابھی آنکھ پر آنکھ ہی لگی تھی کہ ’’ہاجرہ۔۔ہاجرہ‘‘ کی آوازیں  اس کے کانوں تک آپہنچیں۔ تصدیق کی خاطر چودھری صاحب نے جب اپنی آنکھیںکھولیں تو دیکھا کہ رحیم آنکھیں بند کئے ہی ہاجرہ کو یاد کر رہا تھا، شائد اُس کے دل دماغ میں اب تک صبح کے واقعہ کی چھاپ تھی ۔مگر یہ سلسلہ کچھ منٹ ہی چلا اوررحیم پھر سے بے خود ہوگیا۔۔۔
اگلی صبح اسپتال میں ڈاکٹروں نے آنا شروع کیا ۔ دوپہر کے وقت رحیم کی جانچ کا نمبرآیا ۔ ڈاکٹروں کا ایک گروپ رحیم کی چارپائی کی اور ابھی پہنچا ہی تھا کہ رحیم ادھ مری آواز میں:
چودھری صاحب ۔۔۔ چودھری صاحب  میں کہاں ہوں ۔۔۔ہاجرہ  ٹھیک توہے نا؟؟؟ہم سب یہاں کیوں ہیں؟؟؟
یہ دیکھتے ہوئے چودھری صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں اور وہ ڈاکٹر صاحبان کو جانچ کی خاطر جگہ دینے کے لئے چارپائی سے تھوڑا ہٹ گئے۔
پوری جانچ کے بعد چشمہ لگائے ایک ڈاکٹر صاحب نے چودھری عثمان کو ایک طرف بلاتے ہوئے :
’’چودھری صاحب شکر کرو بچ گیا ہے۔ شدید سردی میں گرنے کی باعث دماغ کی نسوں میں خون جم گیا ہے۔جمے ہوئے خون کے اثر کو کم کرنے میں کچھ دن لگے گیں اور تب تک یہ اپنے داہنے طرف کے ہاتھ پیر ہلا نہیں پائے گا۔یہ تو آپ کا بڑاپن ہے کہ ایسے حالات میں اس کو اسپتال لے آئے۔۔ ورنہ ۔۔۔ورنہ یہ وہی پہ ٹھنڈا ہو چکا ہوتا۔‘‘
چودھری صاحب اپنی نم آنکھوںسے دھندلاہٹ صاف کرتے ہوئے:
’’ارے ڈاکٹر صاحب یہ تو ہمارا فرض تھا۔ ایسے حالات میں ہم رحیم کو کس کے سہارے چھوڑتے۔سرکاری گاڑی کا انتظار کرتے تو یہ بے چارہ داعی اجل کو لبیک کہہ گیا ہوتا۔اور گاڑی آتی بھی تو کیسے ہمارے راستے تو پچھلے تین دنوں سے بند پڑے ہیں !!!اربابِ اقتدار کو شاید ہماری مشکلات کا اندازہ ہی نہیں !!!خیر انہیں کیا وہ تو اپنے شاہی محل خانوں میں آرام فرما ہیں۔ وہ تو ایک افضل مخلوق ہے۔۔۔ہاں ایک افضل مخلوق!!!اور ہم ٹھہرے۔۔۔‘‘
۔۔۔کہتے ہوئے چودھری صاحب خالی اپنے ہونٹوں کو کچھ سیکنڈ ہلاتے رہے۔۔
ڈاکٹر صاحب چودھری عثمان کے ہاتھ میں ایک پرچی تھماتے ہوئے:
’’یہ دوائیاں ان کو پندرہ  دن تک مسلسل دینی ہیں اور اس کے بعد دوبارہ جانچ کے لئے یہاں لانا ہوگا۔ آج آپ اس کو گھر لے جا سکتے ہیں ۔مگر۔۔مگر یاد  رہے دوائیاں دینے میں کوئی لاپرواہی نہیں ہونی چاہئے۔نہیں تو اس بے چارے کو عمر بھر ایسے ہی چارپائی پر لیٹنا رہنا پڑے گا۔‘‘
رحیم کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے چودھری صاحب:
’’آپ فکر نہ کریں ڈاکٹر صاحب، کوئی لاپرواہی نہ ہوگی۔رحیم ایک دم پہلے جیسا ہو جائے گا۔۔ بالکل پہلے جیسا۔۔‘‘
 مُحلے کی گلیوں میں لوگ رحیم کے انتظار میں ایسے کھڑے ہیں جیسے کہ کسی دلہے کا انتظار ہو۔ عورتیں اور بچے کھڑکیوں سے ہی اس نظارے کو دیکھنے کی تاک میں ۔۔آخر کار تھکے ماندے نوجوان لڑکوں نے شام ہوتے ہوتے رحیم کی چارپائی کو اس کے گھر تک پہنچا ہی دیا۔ کمروں میں کھچا کھچ بیڑ رحیم کو اندر لے جانے کی خاطر جگہ دینے کی خاطر بکھر گئی۔ ایک کونے میں ہاجرہ رحیم کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے اشکوں کے ایک سمندر میں ڈوبنے لگی۔عقیل اور فرزانہ نے اپنے ننھے ننھے معصوم ہاتھوں سے رحیم کا  دامن پکڑاتو جیسے ان میں ایک نئی جان آگئی ۔ چودھری صاحب رحیم کو بستر پر لٹانے کے بعد اُس کی بغل میں لمبی سانس لیتے ہوئے بیٹھ گئے۔۔ اچانک سے کمرے میں ایک سناٹا سا چھا گیا۔۔۔
تاک پر رکھے ٹوٹے پھوٹے ریڈیو  سے ایک سرکاری اعلان صاف صاف سنائی دے رہا تھا۔ شائد رحیم کو پہلی بار اپنے ریڈیو کی آواز اتنی صاف سنائی دی !!!اور وہ بھی کچھ کہے بغیر یہی سننے میں محو ہو گئے۔ اعلان کچھ یوں تھا:
’’ لوگوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ اگلے چوبیس گھنٹوں تک گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے سرکار پوری طرح سے تیار ہے۔ مزید مدد کے لئے آپ سرکاری ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ قائم کر سکتے ہیں!!! یہ تھی ایک ضروری اطلاع!!!‘‘
یہ سنتے ہی کمرے میں قہقہوں کی گونج اُٹھ گئی اور سب اپنے اپنے گھروں کی اور چلنا شروع ہو گئے۔۔۔
���
برنٹی اننت ناگ، کشمیر،موبائل نمبر'؛9906705778
ای میلdrengyashiq@gmail.com

تازہ ترین