تازہ ترین

کشمیر میں ذہنی طور ناخیز افراد کے اعداد وشمار دستیاب نہیں

باز آباد کاری مرکز سعدہ کدل بھی بند، محکمہ سماجی بہبود میں مختلف زمروں کے تحت آنے والے 20ہزار ناخیز لوگ رجسٹر، ماہانہ ایک ہزار کا وظیفہ مقرر

تاریخ    6 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //کشمیر میں ہر سال جنم لینے والے پیدائشی طور پر ذہنی مریض بچوں کے اعداد و شمار نہ تو سرکاری اسپتالوں میں دستیاب ہیں اور نہ ہی محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے ان بچوں کی صحیح تعداد جاننے کیلئے کوئی اقدام کیا گیا ہے۔ ماہرنفسیات کا کہنا ہے کہ ذہنی طور پر معذور ہونا کوئی بیماری نہیں ہے، لیکن ان بچوں کا کوئی علاج و معالجہ بھی دستیاب نہیں ہے۔کاٹھی دروازہ سرینگرمیں ذہنی امراض کے خصوصی اسپتال میں کلنیکل سائکولاجسٹ ڈاکٹر اعجاز احمد خان نے بتایا ’’اسپتال میں صرف دماغی طور پر کمزور بیماروں کا علاج ہوتا ہے لیکن ان میں ذہنی طور معذور( Intelectually Disable) افراد شامل نہیں ہوتے کیونکہ ذہنی طور پر معذور ہونا کوئی بیماری نہیں ہے‘‘۔ڈاکٹر خان نے بتایا ’’ ذہنی طور پر معذوربچوں کو بچپن میں والدین اسپتال لاتے ہیں، چونکہان بچوں میں یہ کمزوری پیدائشی طور پر ہوتی ہے اس لئے ایسے بچوں کی عادتوں میں بدلائو کیلئے انکے والدین کو تربیت دی جاتی ہے، جس دوران انکو کھانا کھلانا، نہانا، کپڑے بدلنا اور دیگر ضروری چیزیں سکھانے کی تربیت دی جاتی ہے‘‘۔ڈاکٹر اعجاز نے بتایا ’’ ایسے بچوں کو مختلف ضلع اسپتالوں سے کاٹھی دروازہ ریفر کیا جاتا ہے اور ہم ہر روز ایسے 2بچوں کا معائنہ کرتے ہیں اور ہر سال 700سے زائد ایسے بچوں کو تربیت دی جاتی ہے‘‘۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر اعجاز شاہ نے بتایا ’’ایسے افراد ہمارے پاس علاج کیلئے نہیں آتے لیکن ہاںتربیتی پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے‘‘۔ڈاکٹر شاہ نے بتایا ’’ذہنی طور معذور افراد کو مالی امداد محکمہ سماجی بہبود فراہم کرتاہے اور اسکے پاس اعداد و شمار موجود ہونگے‘‘۔ کشمیر میں ذہنی طور ناخیز افراد پر بات کرتے ہوئے محکمہ سوشل ویلفیئر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر رشید لطیفی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ہم جسمانی طور ناخیز افراد کو مختلف زمروں میں تقسیم نہیں کرتے اس لئے محکمہ کے پاس ایسی کوئی تفصیل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اسوقت ایک لاکھ 20ہزار جسمانی طور پر ناخیز افراد سوشل ویلفیئر کے سبھی ضلع مراکز میں رجسٹر ہیں، جنہیں محکمہ کی جانب سے مالی معاونت دی جاتی ہے۔انکا کہنا ہے کہ جسمانی طور پر معذور افراد کے کئی اقسام ہیں ، جن کا محکمہ میں الگ الگ تفاصیل دستیاب نہیں ہے کیونکہ اس حوالے سے کبھی سرکاری طور پر سروے نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ  میں درج 20ہزار سے زائد ذہنی و جسمانی طور ناخیز، یا پھر بینائی سے محروم یا اپاہج کو فی مہینہ 1000روپے دیئے جاتے ہیں جو انکے بنک کھاتوں میں جمع ہوجاتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ اس زمرے میں بیواہیں، معمر خواتین و مرد  بھی آتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سرکاری ضوابط میں یہ کہا گیا  ہے کہ صرف انہی افراد کو ماہانہ مشاعرہ دیا جاسکتا ہے جن میں جسمانی کمزوری 50فیصد سے زیادہ ہوگی اور جوہر ضلع میں قائم کئے گئے میڈیکل بورڈ کی جانب سے تصدیق شدہ ہوں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے مزید کہا ’’ علاج سے ٹھیک ہونے والے افراد کیلئے ہم نے سعدہ کدل میں ایک گھر کرایہ پر لیا تھا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہم نے سعیدہ کدل میں 25افراد کے رہنے کیلئے انتظامات کئے تھے لیکن وہا صرف 10افرادموجود تھے، جو ٹھیک ہوگئے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے وہ ا بھی بندپڑا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ سعدہ کدل مرکز بند ہونے کے نتیجے میں انہیں واپس کاٹھی دروازہ منتقل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کیلئے ہم نے سرکاری طور پر رہائشی سہولیات فراہم کرنے کیلئے گھر کی تعمیر پر گاندربل میں کام جاری ہے‘‘۔