تازہ ترین

بھاجپا کا سماجی اور اقتصادی ترقی کا دعویٰ فریب ثابت: تاریگامی

تاریخ    5 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


سرینگر // سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں بی جے پی حکومت کا دعویٰ کہ 5 اگست 2019 کو آئینی تبدیلیوں نے جموں و کشمیر اور لداخ میں معاشرتی و اقتصادی ترقی کی ہے ،ایک دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ زمینی صورتحال ان دعوؤں کے منافی ہے۔انہوںنے کہاکہ جب بی جے پی حکومت نے دفعہ 370 کی شقوں کو غیر آئینی طور پر منسوخ کیا تو اس نے ملک کے عوام کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی ، علیحدگی پسندی ، تشدد ، غربت ، ترقی کی عدم موجودگی اور بدعنوانی سب کچھ دفعہ 370 کی وجہ سے ہوا ہے، تاہم ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ بعد کیا بھاجپا قوم کو جواب دے سکتی ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد کیا بدلا ہے؟ کیا تشدد کم ہوا؟تاریگامی نے کہاکہ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 2019 کے مقابلے میں 2020 میں زیادہ لوگ کشمیر میں جاں بحق ہوئے، ایک سال پہلے کے مقابلے میں 2020 میں زیادہ مقامی نوجوان عسکریت پسندی میں شامل ہوئے۔تاریگامی نے کہاکہ اسی طرح دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر میں حد متارکہ اور بین الاقوامی سر حد پر جنگ بندی کی بھی زیادہ خلاف ورزیاں ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ عدالت عظمیٰ میں مرکز کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا کہ 4 جی انٹرنیٹ پر پابندی کو جواز بنانے کے باوجود تشدد کے واقعات بڑھ چکے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عسکریت پسندی اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔تاریگامی نے کہاکہ جموں وکشمیر اور ملک کے لوگ بی جے پی سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ سرمایہ کاری ، ملازمت اور ترقی کہاں گئی جس کا بی جے پی نے دفعہ370 کو منسوخ کرتے وقت وعدہ کیا تھا۔ کیا بدعنوانی کم ہوئی اور کیا گورننس بہتر ہے؟ کیا کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری ہوگئی؟ ، سچ بات تویہ ہے کہ ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا اور سبھی دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے۔ کشمیر اور جموں میں پچھلے ڈیڑھ سال سے کاروبار بکھرا ہوا ہے، بی جے پی حکومت کی 5 اگست کی کارروائی نے جموں و کشمیر کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف وادی کے لوگ بلکہ جموں اور لداخ خطوں کے باشندے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔تاریگامی نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے اقامتی (ڈومیسائل )قوانین کو تبدیل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔