تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    31 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


سکونِ قلب لکھوں یا کہ اضطراب لکھوں
ثواب درد کو لکھوں کہ میں عذاب لکھوں
 
یہ عشق جس کو کہ غیرت میں لاجواب لکھوں
یہ حسن جس کو کہ بے شرم و بے حساب لکھوں
 
میں کس کے حُسن کو مہتاب و آفتاب لکھوں
میں کس کے عشق کو وحشت میں کامیاب لکھوں
 
یزیدِ وقت نے بھیجا ہے مجھ کو پروانہ
کہ ایک فاسق و فاجر کو آنجناب لکھوں
 
وہ جس اذانِ بلالیؓ سے صبح ہوتی تھی
میں اُس اذانِ بلالیؓ کو مستجاب لکھوں
 
تم اپنے حُسن کی تعریف بے شمار کرو
میں اپنے عشق کی توصیف بے حساب لکھوں
 
نہ چل سکا جو مرے ساتھ دو قدم آثمؔ
اسے بتائو کہ کیسے میں ہم رکاب لکھوں
 
بشیر آثمؔ
باغبان پورہ، لعل بازار
موبائل نمبر؛9627860787
 
 
 
زخم اک اور ہی کھاؤں گا چلا جاؤں گا
دو گھڑی اشک بہاؤں گا چلا جاؤں گا
برف پروردہ بدن ہے کہ تپش چاہتا ہے
تُم سے بس ہاتھ ملاؤں گا چلا جاؤں گا
اپنےحُجرے میں جو آنے کی اجازت دے دو
اپنی روداد سُناؤں گا چلا جاؤں گا
تیری دہلیز پہ آؤں گا کسی شب جاناں
دیپ یادوں کے جلاؤں گا چلا جاؤں گا
تُم بھی ڈھونڈو گے یقیناً مُجھے قریہ قریہ
میں بھی مُڑ کر نہیں آؤں گا چلا جاؤں گا
مُجھ کو اس شہرِ نگاراں میں کہاں رہنا ہے
اپنی گٹھیا کو اُٹھاؤں گا چلا جاؤں گا
تیرا آنا تو تُمہی پر ہے منحصر جاویدؔ
میں تو بس تُم کو بُلاؤں گا چلا جاؤں گا
 
سردارجاویدخان
مینڈھر، پونچھ
موبائل نمبر؛ 9419175198
 
کتنے احباب ہمیں چھوڑ گئے 
کر کے بیتاب ہمیں چھوڑ گئے 
کون اب نور بکھیرے گا یہاں 
ہائے مہتاب ہمیں چھوڑ گئے
صحبتیں جن کی میسر تھیں ہمیں 
کل وہ اصحاب ہمیں چھوڑ گئے 
ان سے قسمت سے ملاقات ہوئی 
تھے جو کمیاب ہمیں چھوڑ گئے
چشمِ پُرنم کو کئی بہتے ہوئے 
دے کے سیلاب ہمیں چھوڑ گئے 
غم کے اشکوں کے سمندر میں کہیں 
کر کے غرقاب ہمیں چھوڑ گئے
ہم نے پلکوں پہ سجائے جو کبھی 
وہ سبھی خواب ہمیں چھوڑ گئے 
ناخدا موجِ تلاطم میں ابھی 
بیچ گرداب ہمیں چھوڑ گئے 
شہر سے کتنے طلبگارؔ ترے
دُرِّ نایاب ہمیں چھوڑ گئے
 
یاسرعرفات طلبگار 
ڈوڈہ،
موبائل نمبر؛ 6006417595
 
 
سوزِ دل ہے نہ لذّت آہ میں ہے
کیسا ڈر میری قاہ قاہ میں ہے
وقت اب ایسا آگیا مجھ پر 
خامشی بولتی کراہ میں ہے
اک نظر نے کیا تھا ، فاش اُسے 
وہ نگہ اب مری نگاہ میں ہے
دل ، جسے عشق میں شغف تھا بہت
پنہ میں نا وہ اَب تراہ میں ہے
کون اُمید چارہ گر  کی رکھے
دوا جب دردِ بے پناہ میں ہے
منتظر سحر کے ، یہ پوچھتے ہیں 
کتنی شب اس شبِ سیاہ میں ہے؟ 
شرطِ اماّں قبول کرکے وہ شخص
روز اب جیتا قتل گاہ  میں ہے
کسی کو کب کی مل گئی منزل 
اور دل میرا کب سے راہ میں ہے
 
راقمؔ حیدر 
حیدریہ کالونی شالیمار حال بنگلور و
موبائل نمبر؛9906543569
 
 
اے خاکِ پا ہے ہماری التجا رقص کر
غم! ختم شد، لذتِ چاہت بڑھا رقص کر
بزمِ تعشق سے آیا ہے مرے نام خط
عنوانِ محفل رکھا ہے "سلسلہ رقص کر"
سب سوچ کی کھڑکیاں تو بند اب کے کرو
پائے گا تو لا علاجی کی دوا رقص کر
یہ راستہ منزلِ مقصود کا ہے حضور
اس راستے پر ہی تم ہونا فنا رقص کر
ہے زیست کی آرزو، دیکھوں اُسے رو بہ رو
گر ہے یہی جستجو، پھر اُٹھ ذرا رقص کر
اب تک حیاتِ بقا کی ابتدا ہی نہیں!
تو کون ہے، بھول جا، سب کچھ مٹا رقص کر
ہونے کو ہے منعقد کل، بزمِ رقص و سرور
اے مردِ درویش خود کو ساتھ لا رقص کر
بسملؔ خیالِ سرابِ شوق سے اب نکل
جو چاہیےسب ملے گا تو سدا رقص کر
 
سید مرتضیٰ بسملؔ
طالب علم ،شعبہ اردو، 
ساؤتھ کیمپس، یونیورسٹی آف کشمیر 
موبائل نمبر؛6005901367
 
 
چوٹ پہ چوٹ گو کھاتے رہے
ہم مگر پھر بھی مسکراتے رہے
 
چلتے بنتے گئے وفا کے رستے پر
کنکر پتھر بھی آڑے آتے رہے
 
تھی طلب خوب اُن سے ملنے کی
دل کو لیکن بہت دَباتے رہے
 
شیوہ اُنکا تھا، اُن نے ٹھکرایا
رسمِ اُلفت کو ہم نبھاتے رہے
 
یہی دستورِ زمانہ تھا صورتؔ
دبے کو ہی سبھی دباتے رہے
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں،
موبائل نمبر؛9622304549
 
 
 
 
 
سرما
کہیں دور نیند سے جاگ کر
پربتوں سے ہوکر
ندی نالوں سے گزرکر
برف زاروں سے پھسل کر
کہ جہاں دونوں ساتھ گئے تھے
چلا آیا اُسی ناکام زیست کا غم۔
چادر اُوڑھے ہوئے آیا
تیری عبادت میں شکستہ ہوکر
فیرن، کمبل اور کانگڑی کی طرح
 
سکینہ اختر
کرشہامہ، کنزر ٹنگمرگ کشمیر
موبائل نمبر؛7051013052
 

تازہ ترین