تازہ ترین

درد کا مارا

افسانہ

تاریخ    31 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


شبنم بنت رشید
میرا نام آفتاب ہے۔ میں بچپن سے اکثر دنیا کے غموں اور تکلیفوں کی اندھیری راہوں پر بھٹکتا رہا۔ دادی کو شاید اس بات کا علم تھا کہ میں وہ نصیب اپنے لئے لکھ کر نہیں آیا ہوں، جس نصیب کی بدولت انسان کی جانب خوشیاں خود بہ خود چلی آتیں ہیں۔
گھر میں ہلچل کا ماحول بڑھتے ہی دادی نے مجھے بتایا کہ تمہاری ماں دلہن بن کر واپس اس گھر میں آنے والی ہے ۔ ماں کا چہرہ ذہن میں آتے ہی میں خوش ہوا لیکن ابو نے دلہن ماں کے پاس جانے سے پہلے ہی منع کیا ۔ 
جس دن دلہن ماں کو گھر آنا تھا ابو نے حد ہی کردی، مجھے پڑوسیوں کے گھر لے کر انکے حوالے کر کے رکھا۔ لیکن دادی نے مجھے واپس گھر لاکر ابو کو ڈانٹ کر کہا کہ کیوں اس درد کے مارے کو بےگانہ بنا رہے ہو؟  اس کا ہمارے سوا اس دنیا میں ہے ہی کون۔ ماں کے صدمے سے اس بیچارے نے پہلے ہی ہنسنا، کھیلنا چھوڑ دیا اب تو زیادہ بھوک بڑھنے کے ساتھ ساتھ ااسکا بستر بھی گیلا ہونے لگا ہے۔ 
پہلے دن میں یہ طے نہ کر سکا کہ دلہن ماں میری ماں ہے یا کوئی اور کیوں کہ میں نے دروازہ کے پیچھے رہ کر اسکے مہندی سے رنگے ہاتھوں اور صرف اسکے ڈوپٹے کو دیکھ لیا، چہرہ بالکل دیکھ نہ پایا۔ چند دنوں کے بعد جونہی میری نظر اسکے چہرے پر پڑی تو وہ میری ماں تھی ہی نہیں بلکہ بعد میں پتہ چلا دادی مجھے بہلا رہی تھی۔
مزید کئی دن گزر گئے تو دادی نے آہ بھرتے ہوئے مجھ سے کہا شاید نئی بہو دل کی بڑی مفلس ہے کیونکہ اسکا رویہ اور مزاج عجیب سا ہے ۔ 
پہلے دن سے ہی میرے دل میں دلہن ماں کا خوف بیٹھ گیا اسلئے میں اسکے سامنے ہر گز نہ جاتا تھا ۔ پھر بھی وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر مجھے ڈانٹتی رہتی تھی ۔ ساتھ ساتھ میرے خلاف ابو کے کان بھرنے لگی۔ میں سہم جاتا تھا جس وجہ سے دادی اسے کبھی  لڑ پڑتی تھی تو کبھی اسے سمجھا کر کہتی تھی کہ کیوں بہو اس مسکین کو ستاکر اپنے کھاتے میں گناہ لکھوارہی ہو۔ اس بات سے دلہن ماں آپے سے باہر ہوکر دادی پر طرح طرح کی تہمتیں اور الزام لگاکر اسکے ساتھ بہت بُرا برتائو کرنے لگی۔ گھر میں لڑائی جھگڑا روز کا معمول بن گیا۔ تنگ آ کر  دادی نے ابو سے کہا کہ آفتاب کو عشرت کے گھر چھوڑ آو۔ ابو مجھ دوسرے دن عشرت بوا کے گھر چھوڑ آئے لیکن مجھے محسوس ہوا کہ وہ اپنے گھر میں بالکل بے اختیار ہیں ۔ پھر بھی دن میں کئی بار وہ چوری چھپے مجھے گھر میں بچاکھچا کھانا کھلاتی رہی، جس وجہ سے اسکی ساسوں ماں کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔ بہو! کیا تمہیں اس بات کا احساس ہے ؟ یہاں جگہ کی کتنی تنگی ہے۔ گھر میں پہلے سے چار چار بچے موجود ہیں۔ انہیں رزق مہیا کرانا کتنا مشکل ہے۔ ایک پیسہ سو سو بار سوچ کر خرچ کر تے ہیں اوپر سے بن بلائے تمہارا بھتیجا فرصت سے آکر گھر میں بیٹھ گیا۔ دن بھر کھتا رہتا ہے اور بستر گیلا کرکے پورے گھر میں بدبو پھیلا کر ہمارا سکھ چین چھین لیا۔ وہ دن بھر یہی واویلا کرکے عشرت بوا کی توہین کرنے لگی۔ بے عزتی سہتے سہتے جب اسکے سر سے پانی اوپر ہوگیا تو اُس نے ابو کو گھر بلایا۔
 
ابو مجھے گھر لے آئے تو دوسرے دن صبح کی چائے پی کر ہی مجھے چھوٹی پھپھو عفت بوا کے گھر پہنچایا ۔ ابو نے اسے سمجھایا کہ آفتاب کو کوئی مرض نہیں ہے بلکہ چھوٹا بچہ ہے۔ یہاں رہ کر ہنسنے کھیلنے لگے گا تو اسکی طبیعت بھی ٹھیک رہے گی ۔ عفت بوا مجھ پر جان چھڑکتی تھی۔ وہ مجھے اپنے گھر میں اپنے قریب دیکھ کر بہت خوش ہوئی ۔ اسکے گھر میں مجھے بہت مزہ آیا۔ وہ طبیعتا بالکل دادی جیسی تھی ہمدرد ، خیال رکھنے والی اور بات سمجھنے والی۔ اسکی رسوئی میں ہر روز لذیذ کھانا بنتا تھا ۔ مجھے بھی پیٹ بھر کے ملتا تھا۔ یہاں کوئی بندش نہ تھی ۔ اسکے سسرال والے بھی اچھے تھے۔ پہلے دن سے بوا نے میرا نے لئے دوا اور دعا شروع کئے ۔ گلے میں تعویز بھی پہنایا۔ مگر میرے طبیعت میں کوئی بدلائو نہ آیا۔ اسی لیے وہ میری کمزوریاں اپنے سسرال والوں سے زیادہ دیر چھپا نہ پائی۔ جب انہیں پتا چلا تو وہ ان کے سامنے بڑی شرمندہ ہوئی۔ بوا نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن انکا رویہ بھی بدل گیا۔ انہوں نے عفت بوا سے کہا کہ شاید آپکے بھتیجےکے سر پر بہت بُرا سایا ہے ۔ اس سے پہلے کہ اس گھر میں اسکے ساتھ کچھ اُلٹا سیدھا ہوجائے بہتر ہے کہ اسے اپنے ہی گھر بھیج دو۔ مجبور ہو کر بوا نے ابو کو گھر بلاکر ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا کہ بھائی جان مجھکو غلط نہ سمجھنا۔ سسرال والوں کے سامنے ناک اونچی رہنی چاہیے۔ چھوٹا بچہ سگا بھتیجا در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے تو کھاتا رہے۔ ابو واپسی کے رستے میں بڑبڑاتے رہے اور اپنی کسی بھی بہن کے ساتھ آئندہ رشتہ نہ رکھنے کی قسم کھائی ۔
میں ابو کی انگلی پکڑ کر گھر پہنچا ۔ شاید دادی میرا غم دل میں لے کر علیل اور کمزور ہوچکی تھی۔ اُس نے مجھے اپنے پاس بٹھا کر کہا کہ بیٹا میں تمہارا انتظار کر رہی تھی ۔ میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں ۔ مجھ کو معاف کرنا میں تمہارے لئے کچھ نہ کرپائی۔ مجھے بڑھاپے میں اپنے بیٹے نے بڑا بے بس بنا دیاکیونکہ وہ صرف اپنے بارے سوچتا ہے ۔ وہی تمہاری اس حالت کا ذمہ دار ہے ۔ ورنہ تم تو اپنی ماں کے لاڈلے تھے ۔ وہ سادہ طبیعت کی مگر نیک خاتون تھی مگر تمہارے ابو کو پسند نہ تھی۔ طلاق دے کر اسے گھر سے نکال دیا۔ اسکا کوئی اپنا نہ تھا نہ اسکی طرف سے بولنے والا نہ لڑنے والا اور نا ہی اسے کوئی پناہ دینے والا۔ پتا نہیں اب وہ کہاں ہے ۔ زندہ بھی ہے یا نہیں ۔ میں نہیں جانتی ۔ میرے بیٹے میں یہ بھی نہیں جانتی کہ تمہارے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے مگر تم اپنی حفاظت خود کرنا کبھی ہمت نہ ہارنا ۔ پھر دادی دل کھول کر روئی۔ میں نے اسے چپ کراکے اسکے آنسوں صاف کئیے اور اسے کہا کہ دادی میں چھوٹا ضرور ہوں لیکن سب سمجھتا ہوں۔ مگر دادی یہ طلاق کیا ہوتا ہے؟ طلاق لفظوں کا زہر بھرا وہ خنجر ہوتا ہے جو بے غیرت، بے حس اور بے ضمیر شوہر اپنی بے قصور بیوی کے سینے میں گھونپ کر اسکے ساتھ کئی کئی زندگیوں کو زندہ درگور کرتے ہیں ۔ اس طلاق سے تو بسے بسائے گھر تباہ و برباد ہوجاتے ہیں دادی نے جواب دیا ۔ بے ضمیر،  خنجر ، زہر میں ابھی دادی کے کہے ہوئے لفظوں کو ذہن میں دہرا دہرا کر سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا تو دوسرے دن دادی انتقال  کر گئی ۔ 
ایک رات کو میں نے دلہن ماں کو ابو سے باتیں کرتے سنا۔ وہ ابو سے کہہ رہی تھی کہ تمہاری ماں کو گزرے ہوئے پورے پندرہ دن ہوگئے ۔ کیا  تمہیں پتہ نہیں کہ میں ماں بننے والی ہوں ۔ خوش رہنا چاہتی ہوں ۔ گھر میں بھی خوشیوں بھرا ماحول چاہتی ہوں ۔ جتنی جلدی ہو سکے آپ اس منحوس آفتاب کو دور کہیں کسی یتیم خانے میں داخل کریں ۔ آپ کے لیے تو عمر بھر کا بوجھ ہے ہی لیکن میرے لیے بھی درد سر بن گیا ہے ۔ اس نے تو بستر گیلا کر کر کے میرا جینا ہی حرام کردیا ۔ پیٹ تو کبھی اسکا بھرتا نہیں۔ طلاق دیتے وقت اسے اپنی ماں کے حوالے کر دینا چاہیے تھا ۔ ابو کے اندر اتنی مجال نہ تھی کہ وہ دلہن ماں کو کسی بات پر ٹوکتے بلکہ  وہ تو ہوں ہاں میں جواب دے کر اسی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے ۔ 
دوسرے دن دوپہر سے پہلے ہی یتیم خانے کی گاڑی گھر کے آنگن میں داخل ہوئی۔ ابو نے کاغذی لوازمات پورے کئے۔ دلہن ماں نے میری کپڑوں کی گھٹری گاڑی میں رکھ کر اپنا دامن چھڑایا۔ لیکن میں نے ابو کا دامن پکڑ کر روتے ہوئے کہا ابو میں کہیں نہیں جاوں گا۔ میں نہ آج کے بعد زیادہ کھانا مانگوں گا اور نا ہی بستر گیلا کروں گا۔ مجھے اپنے سے الگ نا کرو۔ آج ابو بالکل خاموش تھے۔ انکی آنکھوں میں میرا درد پنہاں تھا مگر وہ خود دلہن ماں کے سامنے بھیگی بلی بن گئے تھے ۔ کچھ دیر بعد گاڑی ہوا سے باتیں کرتے ہوئے مجھے یتیم خانے لے گئی۔
روز روز میرے کپڑے اور بستر دیکھ کر وہاں کے چند شرارتی بچوں نے میرا مذاق بنایا۔ جس وجہ سے میں سخت ہی بے چین ہوا۔ جیسے تیسے کئی دن گزر گئے پھر ایک برستی اور تاریک رات کو وہاں کا راستہ ٹٹولتے بھاگ نکلا۔ اندازے سے چلتا رہا۔ چلتے چلتے اتنا تھک گیا کہ ایک درخت کے نیچے ڈھیر ہوگیا۔ نیند کا غلبہ تھا، اسلئے گہری نیند سو گیا۔ آنکھ کھلی تو خود کو ایک کمرے میں پایا۔ دوسرے کمرے میں باتیں ہورہی تھیں۔ ایک آدمی  کسی دوسرے آدمی سے کہہ رہا تھا کہ ابھی تو سو رہا ہے ۔ دن بھر اُسے آرام کرنے دو تو شام کو اسے تمہارے حوالے کر دوں گا۔ پھر باہر دروازہ بند ہو نے کی آواز آئی، شاید ان میں سے ایک چلا گیا۔ پھر بھونچال کے جھٹکے کی طرح میرے کمرے کا دروازہ کھلا، ایک آدم ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ لے کر آیا۔ شکل اور لہجے سے بالکل قصائی لگ رہا تھا۔ میں ڈر کے مارے اٹھ کے بیٹھ گیا ۔ اس نے مجھ سے کئی سوال پوچھے۔ مجھ پر خوف طاری تھا اسلئے کوئی جواب نہ دے سکا ۔ کھانے کی پلیٹ میری طرف بڑھائی ۔ پھر ایک بڑا سا چاقو نکال کر ایک طرف رکھ دیا۔ ستم جھیلتے جھیلتے تھوڑا سا سمجھ دار ہوگیا تھا اسلئے میں سمجھ گیا کہ میرے ساتھ ضرور کچھ نہ کچھ برا ہونے والا ہے۔ اسلئے شام ہونے سے پہلے ہی اس آدمی کو چکمہ دے کر وہاں سے بھاگ نکل گیا۔
بے خبری کے عالم میں نہ جانے کیسے زندگی نے مجھے ایک بہت ہی بڑے بس اڈے میں پہنچایا ۔ یہاں نئی پرانی بے شمار گاڑیاں تھیں ۔ زندگی رواں دواں تھی ۔ ہر کوئی جلدی میں تھا۔ کسی کو کسی کی فکر نہ تھی اور نا ہی کوئی کسی کو جانتا پہچانتا تھا۔ ہر روز یہ اڈہ نئے نئے لوگوں کے ہجوم سے بھر جاتا تھا۔ شام ہوتے ہی سنسان بھی ہوجاتا تھا۔ اڈے کے پیچھے قطار میں بے شمار بوسیدہ اور خستہ گاڑیاں پڑی تھیں۔ ان ہی میں سے ایک گاڑی کو میں نے چن کر اپنا آشیانہ بنایا۔ ٹھیلے والوں کی صدائیں، اجنبی لوگوں کے بھیڑ، گاڑیوں کا شور اور تیل کی مخصوص بو سے گزرتا ہوا دن بھر مانگ مانگ کر اپنا پیٹ بھرتا ۔ شام ہوتے ہی چپکے سے گاڑی میں گھس کر میں سہم جاتا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا وہی تو ایک سائبان تھا۔ مگر رات تو میرے لئے کسی میدان جنگ سے کم نہ ہوتی تھی ۔ 
ماں!
ماں تم ہو کہاں
رات بڑی دشوارہے 
دادی پاس نہیں
نیند آتی ہے
گہرا اندھیرا ہے
بستر گیلا ہے 
ڈستی تنہائی ہے ۔
چوہے، کیڑے آتے ہیں 
مچھر بھی ستاتے ہیں 
مگر                  
خود کو یوں بہلاتا ہوں 
تم میرے سرہانے ہو
بال سہلاتی ہو
لوری سناتی ہو
دھیرے سے سلاتی ہو
صبح سورج اُگتا ہے 
وہ مجھے جگاتا ہے 
بھوکا پیاسا ہوتا ہوں
جی بھر کے روتا ہوں 
پھر تمہیں بلاتا ہوں
ماں!
ماں تم ہو کہاں 
انتہائی تکلیف دہ مرحلوں سے بار بار گزرتا ہوا وقت کے ساتھ بڑا ہوا۔ کمزوریوں سے چھٹکارا ملا تو ایک نئی دنیا سے تعارف ہوا۔ باقائدہ مزدوری کرنے لگا۔ ساتھ ساتھ اس وجود کو تلاشتا رہا جسکو کبھی اپنے وجود سے الگ نہ سمجھا۔ یہ جانتے ہوئے ہوئے بھی کہ سمندر میں انسان ایک سوئی ڈھونڈسکتا ہے کیا؟ اسلئے ایک روز دل میں محبت اور امید کے دیئے روشن کرکے گھر چلا گیا۔ وہ گھر ویسا کا ویسے بلکہ پہلے سے بدتر قبرستان جیسا۔ بڑی مشکل سے دلہن ماں نے دروازہ کھولا۔ پہچانتے ہی خوش ہونے کے بجائے کہا تم کسی مٹی کے بنے ہو؟ چہرے پرعمرکے اثرات عیاں لیکن پیشانی پر پہلے کی طرح اکڑ اور نفرت کی لکیریں موجود تھیں۔ پوچھنے پر بتایا کہ کئی مہینے پہلے ابو فوت ہو گئے ہیں ۔ ابو کی موت سے زیادہ اس بات کا افسوس ہوا کہ کیوں دلہن ماں کا دل آج بھی جذبات سے خالی ہے۔کچھ دیر اپنی نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔ پھر کھڑا ہوا اور دلہن ماں سے کہا کہ چلتا ہوں ماں۔ میں درد کا مارا جیسے آیا ویسے لوٹ کے جانے لگا، رک کر کرتا بھی کیا۔ زخم ہرے اور قدم بوجھل ہوگئے۔ دل تو درد سے بھر گیا۔ پہلا قدم صحن کے باہر رکھنے والا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی "بھائی!" میرے قدم رک گئے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا ذرا سے فاصلے پر ایک خوبرو نوجوان ننگے پاؤں کھڑا تھا۔ شکل، صورت،  قد اور خد و خال میں بالکل ابو جیسا۔ میرے بھائی! اس نے دوبارہ کہا۔ ماں آپ کو مرا ہوا ثابت کرنے پر تلی تھی لیکن میں پہلے سے یہ بات ماننے سے انکار کر رہا تھا۔ کئی مہینے پہلے ابو کی محبت سے محروم ہوا ہوں۔ بھائی اب آپ بھی مجھے  اپنی محبت سے محروم نہ کرو۔ بھائی خدا کے لئے آپ مجھے چھوڑ کر نہ جائو میں اپنے حصے کی تمام خوشیاں آپکے قدموں میں ڈال دوں گا میرا وعدہ ہے۔آپ بڑے بھائی ہونے کا فرض پورا کرو یا نہ کرو میں چھوٹے بھائی ہونے کا حق ضرور رکھتا ہوں۔ وہ میرے قریب آیا میرے دونوں ہاتھ تھام لئے۔ مجھے گلے لگا کر کہا بھائی اب میں آپ کے بنا ایک پل بھی رہ نہ پاوں گا۔ اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے اُس نے کہا بھائی ابو کہتے تھے کہ میں بالکل آپ پر گیا ہوں کیونکہ میں بچپن میں بڑا پیٹو تھا اور بستر بھی گیلا کرتا تھا۔ 
دروازے پر کھڑی دلہن ماں آج پہلی بار چپ تھی۔ ظاہر سی بات تھی وہ اپنے بیٹے کی باتوں سے کہاں متفق ہونگی لیکن وہ سوچ رہی ہوگی کہ  کیا کبھی وقت ایسے گردش میں آتا ہے، جب محبت کا آفتاب اُگ کر اپنے عروج پر آتا ہے تو دور دور تک نفرت کی پرچھائیوں کو خود بہ خود سمٹ کر ہمیشہ کے لئے فنا ہونا پڑتا ہے ۔
���
پہلگام اننت ناگ
موبائل نمبر؛ 9419038028