تازہ ترین

ہائے آگ؟

افسانہ

تاریخ    31 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


عادل نصیر
      دن بھر کی دفتری مصروفیات سے فراغت پانے کے ساتھ ہی گھر کی جانب نکل پڑا تو خلافِ معمول مغرب کی اذان راستے میں ہی سنی۔ خزاں کی سرد شام اور ہلکی بونداباندی سے بدن ٹھٹھر رہا تھا اس پر گاڑی کے انتظار میں ہر گزرتا لمحہ عجیب بے قراری سی پیدا کر رہا تھا۔اس جھنجھلاہٹ میں ہر گزرتی گاڑی کا تعاقب کرنا سکون ربا ثابت ہو رہا تھا۔ یوں کا فی وقت گزرنے کے  بعدجب احساس ناامیدی جاگنے لگا کہ طالع کھل گیا اور میں سواریوں سے ٹھنسی ایک بس میں سوار ہوا۔اپنی عادت سے مجبور میںنے بھیڑ کو چیرتے ہوئے وسط میں جگہ بنا لی۔جگہ توبنا لی مگر تکلف قدرے ناگزیر گزرا کہ گاڑی آگے بڑھتی گئی اور میں اپنی ہی سوچوں میں گم،اپنی قسمت کو کوسنے میں مصروف ،’’یہ کیا نہیں ،وہ ہوا نہیں ، یہ ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔
میں خود کو کوسنے میں محوتھا کہ اچانک بھری گاڑی میں سامنے کی نشست پر براجمان ایک جوان شخص زور سے چلایا۔۔ 
’’ہائے آگ‘‘
سارا ہجوم جاگ اُٹھا اور میں ۔۔جان کی امان پانے کے لئے سامنے کی طرف لپکا ،دیکھا تو کوئی آگ نہ تھی مگر وہ۔۔ دنیا کی ستم گری سے ماند پڑا چہرا ، آنکھیںاندر کو دھنسی ہوئی ۔زرد رنگ کے گال جیسے گلستاں میں خزاں آئی ہو، بال پریشان ، پھٹی پرانی جیکٹ، کلی جیسے نازک ہونٹ پر جھلسنے کے آثار، اب بھی درپےے جان کش لگا رہا تھا۔ خشک آنکھوں سے ایک بار مجھ پر نگاہ کی ، میں نے فوراً رخ بدلا کیونکہ اسکی نگاہوں میں بڑی ہیبت تھی۔ لوگ اسکی اس بیوقوفانہ حرکت پر قہقہے لگا رہے تھے کہ اتنے میں کنڈیکٹر نے کرایہ مانگا تو فوراً جیب سے کچھ پیسے نکال کر تھما دئے اور اپنی دھن میں مگن ہوگیا ۔ میں مسلسل اسے تکتا رہا۔ وہ ہر اگلے لمحہ کے بعد سر کھڑکی سے باہر نکالتا اور زور سے چلاتا ۔’’ہائے آگ۔۔ہائے آگ‘‘۔۔۔۔اور لوگ قہقہے لگاتےــ__ مگر وہ آتش افسردہ ’’شعلے ‘‘تو دیکھ چکا تھا۔
پھر ان آوازوں سے کیا حاصل،شاید اسے بھی سکون مل رہا ہو جیسے مجھے اس گاڑی میں چڑھتے وقت ملا تھا، پھر میں اپنی قسمت کو کوسنے لگا اور اس ظالم بے رحم دنیا کو___ میںاسی کشا کش میں مبتلا تھا کہ وہ اچانک کھڑا ہوا اور چلتی گاڑی سے کود کر ’’ہائے آگ‘‘کے نعرے بلند کرتے ہوئے غائب ہو ا اور سب اسکی پرواہ کئے بغیر اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے۔ کوئی کہتا کہ پاگل تھا تو کوئی وائرس کہہ کر ناک بھنویں چڑھاتا۔ شاید میرے پیچھے بھی کوئی مجھے منحوس پکارتا ہو، میںاسی سوچ کے ساتھ پچھلی سیٹ کے کونے میںبیٹھا سوچتا رہا__شاید یوں ہوا ہوگا اسکے ساتھ یا۔۔۔؟؟
کسی نے میری منزل کا نام پکارا تو میں جھاگا اور اپنے گھر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔ شام ڈھل چکی تھی شہرپر تاریکی کا غلبہ ہو چکا تھا۔ ہر سو سناٹا ۔ کہیں سے کسی بچے کے رونے کی آواز آرہی تھی نہ پرندے کی چہچہاہٹ_کہ میرے لاشعور میں معلوم نہیں گہاں سے ’’ہائے آگ‘‘ہائے آگ‘کے نعرے گونجنے لگے۔ اس شور میں ایسی ہیبتناکی تھی کہ ہر لمحہ میرے قدموں کی رفتار میں اضافہ ہو رہا تھا۔مجھے وہ ہجوم میرا تعاقب کرتا نظر آرہا تھااور یہ احساس اس قدر شدت پکڑتا گیا کہ اچانک میرے حلق سے ایک چیخ  برجستہ نکل کر فضا میں گونجی ـ ‘
ہائے آگ 
میرے گھر کی روشنی چمک رہی تھی اور میں پر سکون تھا۔
���
ہندوارہ،موبائل نمبر7780912382-:
 

تازہ ترین