تازہ ترین

طلاق

افسانہ

تاریخ    31 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر محمد یونس ڈار
زبیدہ جس کی شادی پندرہ برس پہلے بشیر سے طےہوئی تھی آج بڑی اداس بیٹھی ہے۔ ایک ایسی اداسی جس کی کوئی سرحد ہی نہیں۔ ہر لمحہ ایک اذیت اور ہر رات ایک شب غم۔
  آج ہائی کورٹ کا فیصلہ آنا تھا ۔زبیدہ اور بشیر کے بیٹے انعام سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس کا دامن پکڑنا پسند کریگا۔
زبیدہ اور بشیر میں طلاق دس سال پہلے ہوئی تھی، جب انعام محض چار سال کا تھا ۔پچھلے دس سال سے وہ انعام کے ہمراہ ایک چھوٹے سے پرانے بوسیدہ مکان میں قیام پذیر تھی۔ طلاق کے بعد  زبیدہ کی زندگی بالکل الجھ کے رہ گئ۔ کچھ سال بعد ماں باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ بھائیوں نے بھی وفا نہ کی اور زبیدہ کو ایک دو کمروں والا پرانا مکان رہنے کے لئے دیا گیا۔چونکہ لڑکیوں کو زمین جائیداد میں حصہ دینے کا کوئی رواج ہی سماج میں نہیں تھا اس لئے اس سے بھی محروم رہ گئی۔ مگر بہادر زبیدہ نے ہمت نہ ہاری۔ وہ اگرچہ محض دسویں جماعت پاس تھی مگر اس کا حوصلہ ایک بلند تعلیم یافتہ سے کم نہ تھا۔ 
وہ ہمت اور عزم وہ عظم اگر چہ طلاق کے بعد  ٹوٹ پڑا تھا مگر موجوں کی اس گردش میں وہ پھر سے اُبھر گئی۔
زبیدہ کی شادی 25 سال کی عمر میں بشیر سے ہوئی تھی۔ وہ ایک  مڈل کلاس گھرانے کی تھی جبکہ بشیر ایک دولت مند اور صاحب ثروت خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ شادی سے پہلے سب کا ماننا تھا کہ زبیدہ جس گھر میں بیاہی جائے گی ،اس گھر کو جنت کا نمونہ بنائے گی مگر قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔
انسان جب پیدا ہوتا ہے تو چاروں طرف خوشیاں بانٹی جاتی ہیں مگر کس کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی تقدیر اُسے کس طرف لے جائے گی۔ 
زبیدہ جب بشیر کے گھر میں آئی تو پہلے پہل بشیر کی محبت دیکھ کر وہ اپنے آپ کو ان خوش قسمت لوگوں میں شمار کرنے لگی جن کو محبت کی  یہ دنیا مل جاتی ہے۔ اسے نہ دولت کی فکر تھی نہ جائیداد کی۔ بشیر کی محبت ہی تھی جس میں اس کی دنیا آباد تھی۔ مگر یہ آس، یہ امید یہ رنگینیاں محض عارضی تھیں۔
کچھ ہفتوں بعد ہی جیسے اس آشیانے میں خزاں کی دھندلی ہواوں نے سارے پھولوں کو زخمی کردیا۔ سارے سبزے پر ایک زردی چھا گئی اور محبت اور شفقتوں کا یہ باغ اُجڑ کر رہ گیا۔ بشیر نشہ آور ادویات کا عادی تھا۔ شراب چرس اور Heroin  میں ہی اس کی زندگی کا سُکھ تھا۔ 
یہ بات زبیدہ کو اس وقت معلوم ہوئی جب اس نے ایک رات  بشیر کو کمرے سے فرار پایا۔ کچھ عرصہ بعد سارے راز کھل گئے اور زبیدہ پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ جب زبیدہ نے سوال اٹھائے تو بشیر نے اسے پیٹنا شروع کردیا۔ مارپیٹ ہی اب اس کی زندگی تھی۔ ہر دن بشیر نشہ کرکے لوٹتا اور زبیدہ سے کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے مار پیٹ پر اتر آتا۔
کچھ مہینے  بعد زبیدہ کو ایک اور زہر غم کا پیالہ پینا پڑا جب اسے یہ پتہ چلا کہ بشیر کے شادی سے پہلے ہی ایک لڑکی سے تعلقات رہے ہیں اور یہ تعلقات آج بھی برابر قائم ہیں۔ زبیدہ نے ایک بار  بشیر کو فون پر  اس لڑکی سے بات کرتے ہوئے سنا۔ اسے یقین نہیں آیا اور جسم میں ایسی کپکپی طاری ہوئی کہ غش کھا کے زمین پر گر پڑی۔
زبیدہ پر ایسی قیامت ٹوٹ پڑی کہ اس کی ہمت جواب دینے لگی۔ وہ حاملہ تھی اور محض اس امید پہ زندہ تھی کہ وقت کے ساتھ ساتھ بشیر میں تبدیلی آجائے گی مگر یہ محض ایک گمان تھا۔ انعام کے پیدا ہونے کے بعد بھی بشیر ویسا ہی تھا۔ اسے نہ بیوی کی فکر تھی نہ بچے کی۔ وہ اپنی لذتوں میں محو تھا۔ زبیدہ کو بھروسہ تھا کہ بشیر کے گھر والے بشیر کو صحیح راہ پر ڈالنے میں اس کا ساتھ دیں گے مگر وہاں بھی بات نہ بنی۔ بشیر ایک بگڑا ہوا شہزادہ تھا۔ ہوس نے اسے اندھا کر دیا تھا۔ اس کے پاس دولت تھی، جس سے وہ کچھ بھی خرید سکتا تھا، مگر زبیدہ ایک مجبور عورت تھی جو سب کچھ سہتی چلی آ رہی تھی ۔شوہر کا ظلم ایک طرف تو دوسری جانب ساس سسر کے طعنے۔ زبیدہ کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی۔ سب ملکر زبیدہ کو ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔ ساس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ 
"تو ہی ہے کرم جلی جس نے اس گھر کا ماحول بگاڑا ۔تجھے شوہر کو صحیح راہ پر ڈالنا نہ آیا۔ گھر سنبھالنا کیا خاک آئے گا "۔
دسمبر کی ٹھٹھرتی سردی تھی اور زبیدہ اپنے ماں باپ کے گھر آئی ہوئی تھی۔ دوپہر کو ڈاک کا ہرکارہ آنگن میں نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں لفافہ دیکھ کر زبیدہ پر خوف طاری ہوا۔ اسے جیسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔ ہرکارہ لفافہ زبیدہ کے بھائی کو تھما کر چل دیا ۔
لفافہ کھولا گیا۔ اس کے اندر طلاق نامہ تھا جو بشیر نے بذریعہ ڈاک بھیجا تھا۔
زبیدہ جم سی گئی اس کی گود میں انعام دودھ پی رہا تھا۔ وہ معصوم لڑکا اپنی ہی دنیا میں مست تھا ۔اسے کیا پتہ تھا کہ اس کی دنیا بننے سے پہلے ہی اجڑچکی ہے۔
یہ سب مناظر آج زبیدہ کے سامنے رواں تھے- آج ہائی کورٹ کا فیصلہ آنا تھا۔
زبیدہ انہی خیالوں میں گم تھی۔ مگر آج ہائی کورٹ کیا فیصلہ دسناتا ہے وہ بے پرواہ تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ زندگی نے اسے جو سزا دی ہے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ۔اگر انعام آج اپنی ماں  کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو وہ کیسے اس درد کا ازالہ کر سکتا ہے جس درد کی تپش جان لیوا ہے ۔وہ درد جو طلاق کی صورت میں زبیدہ کو دس سال پہلے مل چکا ہے۔
���
 تجن پلوامہ،موبائل نمبر؛ 6005636407
 

تازہ ترین