ہزاروں کسان ٹریکٹروںسمیت دلی میںداخل ہونے میں کامیاب

لال قلعے پر پرچم لہرایا ، پُر تشدد جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ،100سے زائد زخمی

تاریخ    27 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 نئی دلی // یوم جمہوریہ کے موقعے پر ہزاروں کسان ٹریکٹروںسمیت نئی دلی میں داخل ہوئے جہاں وہاں پہلے سے موجود پولیس و فورسزکی بھاری نفری نے ان کی پیش قدمی کو روک دیا اور کسانوں کی طرف آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں وہاں کشیدگی کا ماحول پھیل گیا ۔اس بیچ کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کئی کسانوں کے علاوہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔پولیس کسانوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے جگہ جگہ آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کر رہی ہے۔ کسانوں اور پولیس کے درمیان شہر میں کئی جگہ جھڑپیں ہوئی ہیں اور اس دوران ایک کسان کی ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔کسانوں کے ایک بڑا ہجوم لال قلعہ تک پہنچ گیا ہے اور سینکڑوں مظاہرین قلعہ کی فصیل کے اس مقام پر کھڑے ہوئے جہاں روایتی طور پر یوم کے روز قومی پرچم لہرایا جاتا ہے۔پنجاب ہریانہ، مغربی اتر پردیش، راجستھان اور کئی دیگر ریاستوں سے ہزاروں کسان اپنے ٹریکٹر لے کر دلی کے نواح میں پہنچ گئے اور اپنے مطالبہ کو منوانے کے لئے نعرے لگائے ۔مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ کسانوں کو یوم جمہوریہ کے موقع پر ریلی نہیں کرنی چاہیے تھی اور وہ کسی اور دن یہ ریلی کر سکتے تھے۔اس دوران کسان یونیینز نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے تینوں زرعی قوانیں واپس نہیں لیے تو وہ یکم فوری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔ادھرد ہلی پولیس نے مشتعل کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑیں اور امن برقرار رکھیں اور اپنے طے شدہ راستوں سے واپس لوٹ جائیں۔دہلی پولیس آخر تک کافی تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن مشتعل کسانوں نے طے شرائط کو ماننے سے انکار کردیا اور طے وقت سے پہلے ہی اپنی مارچ شروع کردی اورمظاہرین نے تشدد وتوڑ پھوڑ کا راستہ چنا۔انہوں نے بتایا کہ مشتعل کسانوں کی تخریب کاری کے پیش نظر دہلی پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے تحمل کے ساتھ ضروری اقدامات کیے ۔
 

 اضافی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کا حکم

امیت شاہ نے اعلی سطحی اجلاس میںصورتحال کا جائزہ لیا

نئی دہلی// مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مشتعل کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد آج یہاں ایک اعلی سطحی اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا اور دارالحکومت میں اضافی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کا حکم دیا وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق مسٹر امیت شاہ نے ہوم سکریٹری ، دہلی پولیس کے کمشنر ، انٹلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر اور بہت سارے دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے دارالحکومت میں سیکیورٹی کی صورتحال سے وزیر داخلہ کو آگاہ کیا اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے کئے جارہے اقدامات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دارالحکومت میں اضافی نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا جائے۔ کچھ متاثرہ علاقوں میں نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ کچھ کو دوسری جگہوں پر تعینات کیا گیا ہے۔پولیس کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کو نظرانداز کرتے ہوئے مشتعل کسانوں نے دارالحکومت میں لال قلعہ اور آئی ٹی او کے پاس آنے کے بعد پولیس سے جھڑپ ہوئی۔ اس کے بعد کچھ علاقوں میں صورتحال کچھ وقت کے لئے بے قابو ہوگئی۔
 

تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں:راہل

نئی دہلی// کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے یوم جمہوریہ کے موقع پر قومی دارالحکومت دہلی میں کسان تحریک کے دوران ہوئے تشدد کے درمیان زراعت سے متعلق تینوں قانونوں کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور اس سے نقصان ملک کا ہی ہوتا ہے ۔مسٹر گاندھی نے کہا،‘‘تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔چوٹ کسی کو بھی لگے ، نقصان ہمارے ملک کا ہی ہوگا۔ ملک کے مفاد کے لئے زرعی قانون واپس لو۔’
 

دہلی کی سرحد اور نواحی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند

نئی دہلی// احتجاج کرنے والے کسانوں کے ٹریکٹروں کے ساتھ دارالحکومت کے اندر تک داخل ہوجانے اور پولس کے ساتھ ان کی جھڑپوں کے بعد حکومت نے سنگھو بارڈر، غازی پور، ٹکری بارڈر وغیرہ سرحدوں اور ان کے آس پاس کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی عارضی طورپر بند کردی ہے ۔وزارت داخلہ نے منگل کے ایک حکمنامہ جاری کرکے روز انڈین ٹیلیگراف ایکٹ 1885 کے تحت دفعات کا استعمال کرکے سنگھو بارڈر، غازی پور، ٹکری ، نانگلوئی اور مکربا چوک اور اس سے ملحقہ قومی راجدھانی خطے میں دن 12 بجے سے رات 11 بج کر 59 منٹ تک انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

تازہ ترین