۔ 26جنوری پر فقید المثال سیکورٹی بندو بست

سڑکوں پر ٹریفک غائب، لوگوں کی آمد و رفت ،بازار اور تجارتی مراکز بند

تاریخ    27 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// مثالی سیکورٹی حصار کے بیچ وادی میں26 جنوری کی تقریبات منعقد ہوئیں،جبکہ سڑکوں اور بازاروں میں سناٹا چھایارہا۔ 3دائروں پر مشتمل حفاظتی انتظامات کے بیچ وادی میں 26 جنوری کی مناسبت سے سب سے بڑی تقریب سرینگر کے سونہ وار کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی جہاںلیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے ترنگا لہرا کر مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔سرینگر اور وادی کے تمام اضلاع میں بازار اور دیگر تمام کاروباری و تجارتی مراکز بند رہنے کے علاوہ سڑکوں سے مسافر و نجی گاڑیاں غائب رہیں۔شہر اور وادی کے تمام قصبہ جات میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس و فورسز کے ہزاروں اہلکاروں کو سریع الحرکت رکھا گیا تھا جبکہ شہر میں اسٹیڈیم کی جانب جانے والی سڑکوں کو سیل کیا گیا تھا۔شہر کو مختلف اضلاع سے ملانے والی سڑکوں کے ساتھ ساتھ تمام بین ضلعی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑا کی گئیں تھیں۔پوری وادی میں قریب 2بجے تک پرائیویٹ اور مسافر گاڑیوں کا کہیں کوئی نشان تک نہ تھا۔حتیٰ کہ لوگوں کو پیدل چلتے ہوئے بھی نہیں دیکھا گیا۔پوری وادی کے سبھی قصبوں اور بڑے دیہات اور مارکیٹوں میں ہر طرح کی سرگرمی مسدود رہی۔ گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں، بازار بند رہے، تجارتی مراکز مقفل تھے، ہر طرح کی ٹریفک بند تھی اور لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔تاہم شہر میں 2بجے کے بعد اکا دکا پرائیویٹ گاڑیاں چلنا شروع ہوئیں اور کہیں کہیں ایک آدھ دکانیں بھی کھل گئیں۔ 26جنوری کے موقعہ پر حفاظتی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پورے شہر سرینگر میں حفاظت کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور چپہ چپہ پر رکاوٹیں اور ناکہ بندی کی گئی تھی جسکے نتیجے میں شہر میں ہو کا عالم تھا۔ پولیس اہلکاروں نے پورے شہر میں سڑکوں پر خار دار تاروں کو بچھایا تھا۔لالچوک کو گھنٹہ گھر کے قریب سیل کیا گیا تھا۔موبائیل بنکروں کے علاوہ بکتر بند گاڑیوں کو بھی اہم داخلی راستوں پر رکاوٹ کے بطور کھڑا کیا گیا تھا۔ وادی کے شمال و جنوب کے اضلاع میں بھی عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔
 

تازہ ترین