سڑک حادثات … انسانی جانوں کا ضیاع کب رُکے گا؟

تاریخ    27 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں سرینگر قومی شاہراہ پر گزشتہ ایک دہائی کے دوران 8ہزار سڑک حادثات رونما ہوئے ہیں جن میں1750انسانی جانیں تلف ہوئی ہیںجبکہ12,131لوگ ان حادثات میں زخمی ہوچکے ہیں۔یہ اعداد وشمار اپنے آپ میں بتارہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں ٹریفک کنٹرول کا نظام اپنی ابتری کی انتہاء کو پہنچ چکاہے۔ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب کسی نہ کسی علاقے سے سڑک حادثات میں انسانی زندگیوں کے اتلاف کی خبریں موصول نہ ہوتی ہوں۔اس طرح کی اموات اب معمول اور معمولات کا حصہ بنتا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اخبارات میں بھی حادثاتی اموات کی خبریں سرسری طور شائع کی جاتی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ سڑک حادثات صرف ہمارے یہاں ہی رونما ہورہے ہیں۔ سڑک حادثات دنیا کے ہر خطے میں رونما ہوتے ہیں اور ان میں انسانی جانوں کا اتلاف بھی ہوجاتا ہے لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ جموںوکشمیر میں تسلسل کے ساتھ ہر دن حادثاتی اموات کی شرح میں اضافہ ہورہاہے۔ثانیاً یہ کہ ہمارے یہاںتسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے ان سڑک حادثات کی جو عمومی وجوہات ہیں، وہ عام طور کہیں دیکھنے کو نہیں ملتیں ہیں۔ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ٹریفک کے ناقابل برداشت دبائومیں اضافے کے باوجود سڑکوں کی تنگ دامانی،ٹریفک قوانین و ضوابط سے عوام کی بے حسی، اندھا دھند طریقے سے ڈرائیونگ لائسنسوںکی اجرائی،محکمہ ٹریفک میں افرادی قوت کی کمی وغیرہ ایسے مسائل ہیں جو وادی میں ٹریفک حادثات کی عمومی وجوہات میں شامل ہیں۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخرحکومت ان مسائل کا تدارک کرنے میں ناکام کیوں ثابت ہورہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے پاس ٹریفک حادثات کی ان عمومی وجوہات سے نمٹنے کیلئے کوئی ٹھوس پالیسی ہی نہیں ہے۔جہاں تک گاڑیوں کے تعدادمیں روز افزوں اضافے کا تعلق ہے یہ مسئلہ تو پوری دنیامیں پایا جاتا ہے۔ زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس طرح کے مسائل کا پیدا ہونا ایک فطری بات ہے لیکن فرق یہ ہے کہ سنجیدہ فکر حکومتیں ترقی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچہ کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔ گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کا مسئلہ تو ترقی یافتہ ممالک کو بھی درپیش ہے لیکن ان ممالک میں وقت کے تقاضوں کے تحت سڑکوں کی تعمیر و تجدید اور نئے نئے منصوبوں پر تسلسل کے ساتھ کام جاری رہتا ہے۔ہمارے یہاں ابھی بھی بیشتر سڑکوں کا حجم وہی ہے جو آج سے تیس چالیس سال پہلے تھا۔ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارے یہاں ٹریفک قوانین و ضوابط کی پاسداری کرنے میں بھی متعلقہ محکمے کو افرادی قوت کا سنگین مسئلہ در پیش ہے جسکی وجہ سے محکمہ ٹریفک کے اہلکار صرف شہر اور قصبہ جات کے مرکزی بازاروں تک ہی متحرک نظر آتے ہیں۔باقی علاقوں میں اس حوالے سے جنگل کا راج ہی نافذ ہے۔ ہمارے یہاں بغیر لائسنس گاڑی چلانا ایک عام بات ہے،اکثر ڈرائیور ناتجربہ کا ر ہونے کے باوجود سڑکوں پر گاڑیاں دوڑانے سے نہیں ہچکچاتے ہیں۔اس طرح سے یہ ناتجربہ کار ڈرائیور نہ صرف اپنی بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں کے لئے بھی باعث خطرہ بنے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ہمارے یہاں محکمہ ٹریفک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہو۔ دراصل یہاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اس قدر عام ہے کہ ہر کسی کو دھر لینا یا خلاف ورزی کرنے سے روکنا محال بن گیا ہے۔حق بات تو یہ ہے کہ اگر ہمیں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کو قابو کرنا ہے تو حکومت کو ایک جامع منصوبہ مرتب کرکے اسے عملانا ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت نظام ٹریفک میں ترجیحی بنیادوں پر بہتری لانے کی ضرورت ہے لیکن اس ضمن میں حکومت اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے کیونکہ یہ کام نہ ہی یکطرفہ طور حکومت کرسکتی ہے اور نہ ہی عوام اپنے بل بوتے پر کچھ کرسکتا ہے۔ اس ضمن میں حکومت اور عوام کا تال میل اور آپسی تعاون ناگزیر ہے۔یہ بات طے ہے کہ ٹریفک نظام میں بہتری لانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مزید چند سال تک اس حوالے سے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جائے تو پھر ٹریفک نظام کی خامیوں کودورکرنا انتہائی مشکل امر ثابت ہوسکتا ہے۔فی الوقت ٹریفک نظام میں بہتری لانے کیلئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام اور اہلکاروںکے علاوہ ٹریفک پولیس پر بھاری ذمہ دریاں عائد ہوتی ہیں۔اس حوالے سے سب سے اہم قدم یہ ہوسکتا ہے کہ سب سے پہلے قوانین ضوابط کی پاسداری یقینی بنائی جانی چاہیے۔ بغیر لائسنس گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف قانون کو سختی سے نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ کوئی بھی ناتجربہ کار شخص گاڑی چلاکر دوسروں کی زندگی کیلئے باعث خطرہ نہ بنے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹریفک نظام کی خامیاں دور کرنے کے ساتھ ساتھ وادی کی اہم سڑکوں اور شاہرائوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق کشادہ بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کرے کیونکہ یہ بات یقینی ہے سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں کی تعداد میںروزافزوں اضافہ ہوتا رہے گا۔ حکومت کو مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کر نے کیلئے ٹھوس اورد ور رس نتائج کی حامل پالیسی اپنانا ہوگی تاکہ اس حوالے سے حال اور مستقبل کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔اگر ٹریفک کے دبائو میں حسب توقع اضافہ بھی ہوتا رہے اور سڑکوں کی تنگ دامانی کے علاوہ ٹریفک قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی کا سلسلہ بھی جاری رہا تو مستقبل میں سڑک حادثات پر قابو پانا محال بن جائے گا۔

تازہ ترین