سرکاری ملازمتوں کے کچھ خصوصی زمرے

۔23ریاستوں اور 8مرکزی علاقوں میں انٹر ویو ختم

تاریخ    26 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی// وزیر اعظم کے آفس میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹرجتیندر سنگھ نے کہا کہ23 ریاستوں  اور جموں کشمیر سمیت8مرکزی زیر انتظام خطوںمیں اقربا پروری یا بدعنوانی کے الزامات کو ختم کرنے کے لئے سرکاری ملازمتوں کے کچھ زمروںکے انٹرویو ختم کردیئے گئے ہیں۔ جتیندر سنگھ نے پیر کو کہا کہ انٹرویو بند کرنا بڑے پیمانے پر عوامی مفاد میں ثابت ہوا ہے اور وہ نچلی سماجی و معاشی طبقے سے آنے والے امیدواروں کیلئے ایک سطحی کھیل کا میدان بھی پیش کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا’’اس سے سرکاری ملازمتوں میں تقرریوں میں اقربا پروری یا بدعنوانی کے الزامات کی گنجائش بھی ختم ہوجاتی ہے ‘‘۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ انٹرویو کے خاتمے کا مطالبہ وزیر اعظم نریندر مودی نے2015 میں لال قلعہ پر اپنے یوم آزادی کے خطاب میں کیا تھا اور محکمہ پرسنل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) نے انٹرویوز ختم کرنے کے احکامات جاری کرنے کے لئے پوری مشق کو فوری طور پر مکمل کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یکم جنوری 2016 سے مرکزی حکومت میں گروپ،بی (نان گزٹیڈ) اور گروپ سی اسامیوں کے  انٹریو ختم ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ ریاستی حکومتوں کو ابتدائی تحفظات تھے ، لیکن انہیں یہ خوشی ہوئی ہے کہ ڈی او پی ٹی کی طرف سے مستقل دلیل کے بعد ، ریاست اور بی جے پی کی بیشتر حکومتوں نے اس فیصلے میں اس منطق کو دیکھا اور آخر کار اس پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہایہاں تک کہ جموں و کشمیر میں ، جہاں حکومت نے ابتدا میں یہ قاعدہ متعارف نہیں کرایا تھا ، اب لیفٹیننٹ گورنر راج کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تحریری امتحان میں میرٹ کی بنیاد پر خالصتاً ان اساموں پر انتخاب کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی اصلاحات جن کا کچھ سال پہلے تک کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ، ڈی او پی ٹی کو وزیر اعظم مودی کی حمایت اور ذاتی مداخلت کی وجہ سے متعارف کرایا جاسکا۔کچھ دوسری اہم اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے ’’جو ہندوستان میں حکمرانی کے چہرے کو بدل دے گی‘‘  جتندرسنگھ نے مختلف وزارتوں اور محکموں میں ملازمتوں پر تقرری کے لئے مشترکہ اہلیت ٹیسٹ (سی ای ٹی) کے لئے قومی بھرتی ایجنسی (این آر اے) کے قیام کا ذکر کیا۔
 

تازہ ترین