علامہ اقبال ؒ سے منسوب اشعار

شاعرِ مشرق کے تخیل کی بلندی کیساتھ ایسا مذاق لمحۂ فکریہ

تاریخ    26 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹرفیاض الدّین طیّب
جیسا کہ ہم جانتے ہیں ،جب سے بنی نوع انسان معرض وجود میں آیا ، تب سے ہی اس نے اپنی ہستی کو کسی نہ کسی کام یا ہنر میں آزمایا یا پرکھا۔ نتیجے کے طور پر ہر ایک فرد نے اپنی بصیرت کے مطابق اپنے علم وعمل کو ایک مخصوص ڈھانچے میں ڈال کر اپنی شخصیت کا تعارف کروایا۔انہیں  شخصیات میں سے ایک منفرد شخصیت علامہ اقبا ل کی ہے جنہوں نے اپنے قول وفعل سے ہر میدان میں طبع آزمائی کی۔ اس لئے جہاں تک ان کے کارنامے اور ان کے پیغام کا تعلق ہے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہوں نے دنیا کے ہر قوم کے لئے اپنے کلام چاہے نثری ہو یا شعری سے سیراب کرنے کی بے حد کوشش کی۔لیکن اکثر لوگ اقبال اور ان کے کلام کو ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود رکھتے ہیں ۔ میرے خیال سے یہ اقبال جیسے ایک عظیم فلسفی شاعر کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیونکہ اس سے ادب اور تعمیر ِ ادب کو تنگ دائرے میں بند کیا جاتا ہے ۔یہ المیہ ہے کہ اقبال سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں نے انہیں ایک خاص فرقے اور مذہب کا شاعر بنانے کی کوشش کی ہے ۔جس کی وجہ سے اقبال کی فنی، فکری، آفاقی ،تخلیقی اور فلسفیانہ تصورات پسِ پشت رہ گئے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی شاعری کا وہ حصہ دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے جو جذبۂ حب الوطنی، انسان دوستی ، ہندومسلم اتحاد ، امن ومحبت اور بھائی چارگی سے عبارت رکھتا ہے۔ 
 ازاں بعد، اقبال کے ساتھ اس سے بھی بڑی ناانصافی اپنے عروج پر ہے ۔ وہ یہ کہ اقبال جیسے شاعر اور فنی محاسن کے مالک کے ساتھ بے شمار اشعار منسوب کئے جاتے ہیں جو کہ ان کے نہیں ہیں ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یاتو کچھ اشعار ایسے ہیں جو کلیات اقبال میں شامل نہیں ہیں، پھر بھی ان کو کلیات اقبال ہی سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ یا تو وہ اشعار باقیات ِ اقبال سے ہیں یا تو ان کا متروک کلام ہے۔اس حوالے سے یہ کہنا کہ اکثر پڑھے لکھے لوگ بنا تحقیق کے ، بغیر کلیات اقبال کو دیکھے اشعار کو شائع کرتے رہتے ہیں ۔ اس لئے اس حوالے سے میں آپ تمام پڑھے لکھے لوگوں تک چند گزارشات پہنچانا چاہتا ہوں ۔ امید ہے کہ آپ غور فرماکر ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔
 آج کل دیکھا جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ واقعی جھوٹ کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ یہاں میں جس چیز کی طرف آپ کی توجہ چاہتا ہوں وہ یہ کہ کسی شاعر کا شعرہو یاکسی کا قول ہو ،بہرحال یہ خیال رہنا چاہئے کہ انہیں کسی اور کے ساتھ منسوب نہ کیا جائے ۔ اب اسی حوالے سے میں خاص طور پر یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اقبال کے اشعار اور ان کے کلام کے ساتھ خدارا انصاف کیجئے کہ ان کا کلام کسی دوسرے کے ساتھ قطعاً منسوب نہ کریں اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی دوسرے شعراء کے اشعار منسوب کرنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ علامہ اقبال اس امت کے حکیم ہیں ،دانائے راز ہیں ، مفکر ہیں ، مجدد ہیں ، شاعری کی دنیا میں منفرد حیثیت رکھنے والی ایک عظیم شخصیت اور شاعرہیں۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب وہ اپنا کلام لکھنے جارہے تھے تو ان پر ایک کیفیت طاری ہوجاتی اور وہ اسی وقت قرآن شریف طلب کرتے ۔یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسی شخصیت کے ساتھ نہ جانے کن کن اشعار جو اسلوب سے لگ بھگ خالی ہوتے ہیں یا جن کا کوئی وزن بھی نہیں ہوتا ہے کو منسوب کیا جاتا ہے۔ اس لئے یہ واقعی برداشت سے باہر ہے کہ ان کے ساتھ ایسا ظلم کیا جائے۔ علامہ اقبال ایک عالمگیر اور آفاقی شاعر  اور فلسفی گزرے ہیں ۔ ان کے ساتھ کسی اور بے وزن شاعر کا شعر منسوب کرنا یا جوڑنا واقعی بڑی ناانصافی ہے۔ 
 موجودہ دور میں انٹرنیٹ کی دنیا اور سوشل میدیا کے ذریعے بالخصوص فیس بُک پر علامہ اقبال کے نام کے ساتھ منسوب بے شمار اشعار گردش کرتے نظر آرہے ہیں ، جن کا اقبال کے ساتھ یا ان کے اندازِ فکر اور اندازِ سخن سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ جہاں تک کلام اقبال اور پیامِ اقبال کو عام کرنے کا تعلق ہے ،تو مختلف النوع سیمناروں ، پروگراموں اور ادبی تقاریب کے مواقع پر ان کے کلام اور پیغام کو پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پڑھے لکھے لوگ اور اقبالیات سے شغف رکھنے والے اسکالرس بھی اکثر اس غلطی کے شکار ہوجاتے ہیں کہ فیس بُک پہ اقبال کے ساتھ منسوب اشعار کو اک دم پسند کرکے شیئر کرتے ہیں۔ یہ تو اقبال کی ذات اور ان کے پیغام کے ساتھ بالکل ناانصافی ہے۔ 
اب میں چند اشعار پیش کروں گا جو کہ اقبال کے نہیں ہیں لیکن پھر بھی زور زبردستی سے انہیں اقبال کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اللہ رحم کرے۔ حالانکہ ایسے اشعار میں بھی ، قوم ، عقاب ،اسلام، خودی، عشق وغیرہ جیسے الفاظ ملتے ہیں اور قارئین بھی ان اشعار کو اقبال کے ہی سمجھتے ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ان کا لہجہ ہی نہیں ہے ، کیونکہ ان کا طرزِ شاعری بالکل اس سے مختلف ہے ۔ یہ کسی شاعر کی خامہ فرسائی ہے۔ جیسے کسی نے محسن نقویؔ کے اشعار لکھ کر ان کے جواب کو اقبال کے ساتھ منسوب کیا ہے ، جبکہ اس کا جواب کسی دوسرے شاعر نے لکھا ہے۔
محسن نقوی نے کہا:
 کہتے ہیں بڑے فخر سے ہم غم نہیں کرتے
ماتم کی صدا سنتے ہیں ماتم نہیں کرتے     
وہ لوگ بھلا سمجھیں کیا رمزِ شہادت
جو عید تو کرتے ہیں محرم نہیں کرتے     
کیوں آپ کا دل جلتا ہے کیوں جلتا ہے سینہ
ہم آپ کے سینے پہ تو ماتم نہیں کرتے 
محسن یہ مقبول  ر وایت  ہے  جہاں میں 
قاتل کبھی مقتول کا ماتم  نہیں کرتے
 اب کسی نے ان اشعار کا جواب لکھا ہے جنہیں اقبال کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔دیکھئے یہ چند اشعار:
کہہ دو غمِ حسین منانے والوں سے 
مومن کبھی شہدا ء کا ماتم نہیں کرتے 
ہے عشق اپنی جان سے بھی زیادہ آلِ رسولؐ سے
یوں سرِ عام ہم ان کا تماشا نہیں کرتے
روئے  وہ  جو منکر ہے شہادتِ حسین ؑ کا
ہم زندہ جاوید کا ماتم نہیں کرتے
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ محسن نقوی کی ولادت سے بھی قبل علامہ اقبال کی وفات ہوچکی تھی، پھر وہ کس طرح محسن نقوی کو جواب دے سکتے تھے۔ محسن نقوی کی پیدائش ۵ مئی ۱۹۴۷؁ء کو ہوئی ہے۔ جبکہ علامہ اقبال کی پیدائش ۹ نومبر ۱۸۷۷؁ء کوہوئی تھی اور وفات ۲۱ اپریل ۱۹۳۸؁ء کو ہوئی ۔ بڑا ظالمانہ رویہ ہے ان لوگوں کا جو اس طرح اور اس ناشائستہ طریقے سے اقبال کے کلام کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں ۔ میں ایسے افراد سے ملتمس ہوں کہ وہ ادب کے دائرے میں رہ کر ادبی شخصیات کا بالخصوص یہا ں علامہ اقبال سے معافی مانگیں ورنہ وہ آخرت میں ان کا گریبان پکڑکر لائیں گے اور ان کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔ اب دیکھئے چند اشعارجنہیں زبردستی اقبال سے منسوب کیا گیا ہے :
بات سجدوں کی کی نہیں خلوصِ نیت کی ہوتی ہے اقبال
اکثر لوگ خالی ہاتھ لوٹ آتے ہیں ہر نماز کے بعد
سجدہ عشق ہو تو عبادت میں مزا آتا ہے 
خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ بس فرض ادا کرنا ہے 
ایسا لگتا ہے کوئی قرض لیا ہو رب سے
تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کردے اقبال
تو جھکتا کہیں اور ہے اور سوچتا کہیں اور ہے 
دل پاک نہیں ہے تو پاک ہوسکتا نہیں انسان
ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت
کبھی ہنسی آتی ہے تو کبھی اپنے آپ کو ادیب ، محقق ، اسکالر کہنے والوں پر رونا آتا ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے اشعار کو اقبال سے منسوب کرتے ہیں ۔ افسو س صد افسوس !  
ذرا ان مندرجہ ذیل اشعار کو دیکھئے کہ اقبال کو کہاں سے کہاں پہنچا رہے ہیں یہ نادان لوگ۔ 
مسجد خدا کا گھر ہے، پینے کی جگہ نہیں 
کا فر کے دل میں جا، وہاں خدا نہیں 
کرتے ہیں لوگ مال جمع کس لئے یہاں اقبال 
سلتا ہے آدمی کا کفن جیب کے بغیر
 اکثر مولوی حضرات اورمقررین مندرجہ ذیل شعر کو اقبال کا ہی سمجھ کر اسے ممبر شریف پر پڑھتے ہیں ۔جبکہ یہ ان کا ہے ہی نہیں ۔ ایسا کرنے سے وہ بھی اپنے آپ کو جھوٹوں میں شامل کرتے ہیں ۔ذرا دیکھئے اس شعر کو: 
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
 نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
بعض اوقات چند لوگ اپنی بات کو معتبر بنانے کے لئے واضع طور پر من گھڑت اشعار اقبال سے منسوب کرتے رہتے ہیں ۔ مثلاََ یہ اشعار غالباََ شدت پسندوں کے خلاف اقبال کے پیغام کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں ، جبکہ ان کا اقبال سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ذرا ان اشعارکو دیکھئے:
 اللہ سے کرے  دور تو  تعلیم بھی فتنہ 
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لئے  اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
اس کے علاوہ اقبال کو اپنا حمایتی بنانے کی کوشش مختلف مذہبی و مسلکی پہلوئوں سے بھی کی جارہی ہے۔ جبکہ اقبال ایک غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر پوری دنیا کے سامنے اپنا پیغا م لے کر آئیں ۔ اقبال نے انسانیت کے حق میں بات کی ، بھائی چارے ،ہمدردی، امن و آشتی  اور محبت اور احترامِ آدمیت کے بارے میں اپنا پیغام پیش کیا ۔ اقبال اردو کے واحد شاعر ہیں جنہوں نے آفاقی پیغام سے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ ان کا یہ شعر ملا حظہ کیجئے کہ کس طرح  انہوں نے ایک دوسرے سے عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے کی دعوت دی:
آدمیت احترام آدمی باخبر شو از مقامِ آدمی
اس شعر کے علاوہ ان کے اس آفاقی شعر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر ایک عالمگیرشہرت یافتہ شاعر ہیں :
درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دلی ،نہ صفاہاں ،نہ سمرقند
دیکھئے ذرا کس انداز سے حکیمِ مشرق کے ساتھ ادب کے دشمن محو تفریق ہیں ۔ اللہ انہیں ہدایت بخشے۔ دیکھئے یہ چند اشعار:
جہاں پہ ختم ہوتی ہے حدودِ انسانی
وہی سے پنجتن کی شان کا آغاز ہوتا ہے 
مزید یہ اشعار دیکھئے؛
 اس بات کی گواہ ہے تربتِ بتول ؑکی
ناراض کلمہ گو سے ہے بیٹی رسولؐ کی
اقبال جس سے راضی نہیں بنت ِ مصطفیٰؐ 
اُس کلمہ گو نے ساری عبادت فضول کی
اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے اشعار ہو سکتے ہیں جن پر میری نظر نہ پڑی ہو ۔چونکہ میں اقبالیات سے منسلک ہوں اس لئے میں ان من گھڑت ،بے جا اور نامناسب اشعارسے چشم پوشی اختیار کریں۔ میں نے اس کام کو فرض جان کر آپ لوگوں تک پہنچایا تاکہ آپ بھی جب کہیں پہ اقبال صاحب کے ساتھ منسوب اشعار کو دیکھیں تو پہلے جانچ لیا کریں ، کیونکہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی بھر پور کوشش کی جانی چاہیے۔ اردوزبان وادب کے معمار، ادباء اوراقبالؒکی ذات سے انسیت رکھنے والوں سے سے بھی گزارش ہے کہ اس طرح کے اشعار کے رد میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ہر شاعر کے کلام کی نشاندہی کرکے اس طرح کی خدمات سر انجام دیں ۔
 رابطہ ۔کنٹریکچول لیکچرر،اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی، کشمیر یونیورسٹی
 ای میل۔Fayyaztayyib18@gmail.com
 فون نمبر۔7006025010
 

تازہ ترین