تازہ ترین

مبینہ واٹس ایپ چیٹ لیک اور ٹی آرپی قضیہ

انکشافات کے گرد و غبار سے حقائق کی چھان پھٹک ہوجائے

تاریخ    26 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


محمد ارشد چوہان
متنازعہ اینکر پرسن ارنب گوسوامی کو پچھلے چند ماہ سے ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی) گھوٹالے کا سامنا ہے۔ اسی کیس کی تفتیش کرتے ہوئے ارنب کی ایسی مبینہ واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی ہیں جو ہوشربا ہیں۔ دراصل پچھلے کچھ برسوں سے بھارت میں جس طرح مین سٹریم میڈیا کام کر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ جان بوجھ کر کسی فرد یا کمیونٹی کا میڈیا ٹرائل کرنا ہو یا دیش بھر میں ڈھیروں اصل مدعوں سے ہٹ کر ایسے ایشوز کو ٹی وی ٹاک شوز کا حصہ بنانا جو موجودہ حکومت کا بیانیہ ہو یا کم از کم جس سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچے، یہ سب ایک منظم پلان کے تحت ہوتا ہے۔ملک کے زیادہ تر ٹی وی چینلز کم وپیش اس گیم کا حصہ ہیں۔ ٹی وی چینل یا اخبارات چند کو چھوڑ کر انگریزی ہوں یا ہندی یا کسی اور زبان میں، ان سب کا برین واشنگ کا ذریعہ مشترک ہی ہے اور وہ ہے "واٹس ایپ فاروارڈنگ" ۔ لاکھوں میں بھکتوں کی تعداد ہے جن کا سورس آف نالج واٹس ایپ ہے ۔ اسی لئے اسکو بھارت اوٹس ایپ یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے قلع قمع سے لیکر اقلیتوں کے خلاف ہرزہ سرائی اور پاکستان مخالف بیانیے تک حقائق کو بالکل توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اوپر سے یہ سب دانستہ طور پر ہوتا ہے تاکہ عام عوام میں حقائق کے برعکس افواہیں پھیلائی جائیں۔پھر کیا ہے بس مسیج ٹائپ کیا تو دھڑلے سے واٹس ایپ فاروارڈنگ شروع۔لاکھوں کی تعداد میں اندھ بھکت ہیں جو جھوٹ کے جال میں پھنسے چلے جاتے ہیں۔ یہ واٹس ایپ یونیورسٹی بھی عجیب ہے کہ بھکتوں تک جو مسیج پہنچتا ہے اس پر حقائق جاننے کے لئے یا اسکو چیک کرنے کے لئے کہ آیا فیک تو نہ ہیں، 0.1 فی صد سعی بھی نہیں کی جاتی۔
 واٹس ایپ یونیورسٹی نے اپنے ایک عظیم سکالر ارنب گوسوامی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ گوسوامی کی جو واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی ہیں وہ براڈکاسٹ آڈئنس ریسرچ کونسل آف انڈیا (بارک) کے سابق سی ای او کے ساتھ کی گئی مبینہ بات چیت ہے۔ بارک کے سابق سی ای او جن کا نام پرتھو داس گپتا ٹی آر پی سکینڈل میں مہاراشٹر پولیس کی حراست میں ہیں۔یہ چیٹس کیسے لیک ہوئیں، پولیس نے گپتا کے فون تک رسائی حاصل کی یا کچھ اور لیکن گوسوامی اپنے چینل ریپبلک ٹی وی پر جو زہر اگلتے رہے وہ سب مع تاریخ و وقت سامنے آیا ہے۔مثلاً 14 فروری 2019 کو جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سی آر پی ایف پر ایک خود کش دھماکہ ہوا جس میں 40 نوجوان لقمہ اجل بن گئے تھے۔لیک ہونے والی چیٹ میں گوسوامی پرتھو داس سے ان ہلاکتوں پر خوشی منا رہے ہیں کہ اب ری پبلک ٹی وی کی ریٹنگ بڑے گی۔ اس لیک میں سیکورٹی اداروں سے متعلق معلومات بھی گوسوامی کے پاس پہلے سے موجود ہوتی تھیں۔ پلوامہ واقعہ کے بعد انڈین فضائیہ نے 26 فروری کو پاکستان کے بالا کوٹ میں فضائی حملہ کیا جس کو سر جیکل اسٹرائیک کا نام دیا گیا۔2019 کے پارلیمانی انتخابات میںبی جے پی نے اس اسٹرائیک کا نام اپنی سیاسی ریلیوں میں بھر پور استعمال کیا۔ بھا جپا کا کہنا تھا کہ اسمیں دہشت گردوں کو مارا گیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ کسی جانی نقصان کی تردید کی ہے۔یہ وہ ایکشن تھا جس کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے بیچ جنگ کا سا ماحول بن گیا تھا۔ اس کے 24 گھنٹوں کے اندر ایل او سی پر پٹرولنگ کے دوران ابھینندن والا معاملہ ہو گیا۔ہندوستانی آرمی کے کام کو الیکشنز میں استعمال کرنے پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے بھاجپا ہدف تنقید بھی رہی جس پر بھا جپا کی طرف سے انکو غدار اور پاکستان کے ایجنٹ جیسے القابات سے بھی نوازا گیا۔
 یہاں توجہ طلب بات یہ ہے کہ ارنب نے بالاکوٹ اسٹرائیک سے تین دن پہلے یعنی 23 فروری 2019 کووٹس ایپ چیٹ میں مبینہ طور لکھا کہ حکومت پاکستان کیساتھ کچھ ایسا کرنے والی ہے کہ سب لوگ خوش ہو جائیں گے۔ مبینہ لیک میں گوسوامی نے اپنے قبیلے کے لوگوں (صحافیوں) کو بھی نہیں بخشا اور ان کے متعلق توہین آمیز جملے بھی لکھے۔ ان صحافیوں میں راجدیپ سر دیسائی، ساگریکا گوش، ارون پوری، رجت شرما، نویکا اور راہل شیو شنکر وغیرہ شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں جوڈیشری سے متعلق اور ججوں کو خریدنے جیسے مسیجز بھی مبینہ سامنے آئے ہیں۔اسی طرح پرتھو داس گپتا بھی گوسوامی کو کہہ رہا ہے کہ وہ ایوان اقتدار میں اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے اسکو (گپتاکو) پرائم منسٹر آفس میں میڈیا صلاح کار تعینات کروائیں۔
کہانی یہی ختم نہیں ہوتی۔ 05 اگست 2019 کومرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کو آئین ہند میں شامل خصوصی پوزیشن واپس لے لی تھی۔03 فروری کو گوسوامی کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقات ہوتی ہے۔اسی تاریخ کو وہ پرتھو داس کو مسیج کرتا ہے کہ ایسا ایسا ہونے والا ہے اور ری پبلک چینل نے رپورٹنگ کے لئے اپنے 50 نمائندے جموں و کشمیر بھیج دئیے ہیں ۔
 یہ گھوٹالہ ٹی آر پی سے بھی بڑا ہے کیونکہ اس میں سیکورٹی سے متعلق خفیہ معلومات پر بات چیت بھی شامل ہے جو انتہائی حساس ہوتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ارنب تک یہ معلومات وقت سے پہلے کون پہنچا رہا تھا۔ گوسوامی کے دونوں گھوٹالوں (ٹی آر پی، واٹس ایپ لیک) پر مین سٹریم میڈیا کی اکثریت "ان دیکھی اور ان سنی" کے فارمولے پر گامزن ہے۔ مجال ہے کہ اتنے بڑے اسکینڈلز پر میڈیا سوال اٹھائے۔ شاید چینلز کو واٹس ایپ یونیورسٹی سے ہی مسیج ملا ہو کہ خبر دار اس ایشو پر کوئی لب کشائی کرنے کی کوشش کرے تو خیر نہیں سمجھنا۔ گوسوامی کو واٹس ایپ کا وائس چانسلر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جو چیٹ لیکس سامنے آئی ہیں وہ اپنے ٹی وی چینل پر ان ہی موضوعات پر گفتگو کرتے رہے ہیں۔پاکستان، کشمیر اور اقلیتوں کے خلاف زہر اگلنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ مہمانوں کو اپنے ٹاک شوز میں بلا کر انکی تذلیل کرنا اس شخص کا شیوہ رہا ہے۔پھر مخصوص مائنڈ سیٹ کے لوگ بلائے جاتے تھے جو ان موضوعات پر موصوف کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے اور دوسروں کی تذلیل کرتے۔پچھلے تین۔چاربرسوں سے ریپبلک ٹی وی پر ہر روز جنگ کا سماں رہتا تھا۔اسی طرح کی فاروارڈنگ واٹس ایپ کے ذریعے کرائی جاتی ہے تاکہ لوگوں ایک اپنے من گھڑت بیانیے کا لباس پہنایا جائے۔نہ جانے کتنے بے گناہ ایسی فاروارڈنگز کی بھینٹ چڑھ گئے- اب یہ چیٹ لیک بھکتوں کے لئے ایک کھلا مسیج  ہے کہ جب وائس چانسلر کو یہ یونیورسٹی پھنسا سکتی ہے تو عام طالب علم بھی شکنجے میں آ سکتے ہی- بھکتوں کیلئے جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کا واحد آسرا واٹس ایپ فاروارڈنگ ہے ۔یہ فاروارڈنگ ان کے پاس پہنچنی چاہیے پھر دنیا بھر کی یونیورسٹیاں بھی اگر کہیں کہ بھائی صاحب یہ مسیج من گھڑت ہے اور اپنی مرضی کے معنی پہنا کر فاروارڈ کیا جا رہا ہے لیکن یہ بھولے طالب علم اپنی یونیورسٹی (واٹس ایپ) ہی کو سپریم سمجھتے ہیں۔ لیکن ایسا تو ہو کہ کم از کم اس سب کی اصل حقیقت عوام کے سامنے رکھی جائے کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے۔خاموشی توڑ کر کوئی تو بتائے کہ کیا یہ چیٹ لیک اور ٹی آر پی قضیہ واقعی حقیقی ہیں یا ممبئی پولیس کی ایک فرضی کہانی؟۔
(کالم نگارکا تعلق پونچھ جموںوکشمیر سے ہے اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر ہیں) 
 ای میل۔mohdarshid01@gmail.com