تازہ ترین

کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کا خواب

صنعتی پالیسی بجا مگر شروعات بجلی ،پانی اور سڑک سے کریں

تاریخ    26 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو سے لے کر موجودہ وزیراعظم نریندر مودی تک سبھی رہنمائوں نے کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کا عہد کیا۔ہزاروں کروڑ روپے وقتاً فوقتاً مالی معاونت کی صورت منظور بھی ہوئے، بڑے بڑے منصوبے بنائے گئے، زرِکثیر خرچ کیا گیا لیکن کشمیر کبھی سوئزرلینڈ نہیں بن پایا۔ 
جموں کشمیر دراصل ہندوستان کے شمال میں زنسکار، پیرپنچال اور قراقرم ہمالیائی سلسلوں سے گھِری بیضوی شکل کی ایک وادی ہے جو سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اب تو جموں کشمیر الگ اور لداخ الگ خطے ہیں، لیکن مجموعی طور پر سابق ریاستِ جموں کشمیر تہذیبی رنگارنگی، مذہبی رواداری اور الگ الگ ثقافتی رنگوں سے مزین ایک دلکش اور خوبصورت علاقہ ہے، جہاں کے بے پناہ قدرتی وسائل کو بروئے لانے اور خطے کو سوئزرلینڈ بنانے کے وعدے اب اِس قدر پْرانے ہیں کہ عام لوگ اِن وعدوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ 
نامساعد حالات اور کووِڈ لاک ڈائون کی وجہ سے جموں کشمیر کو درپیش اقتصادی بحران کا جائزہ لینے کے لئے جو پارلیمانی وفد دورے پر آیا، اُس کے سربراہ ٹی جی وینکٹیش نے تاجروں، صنعت کاروں اور دوسرے متعلقین سے ملاقاتوں کے بعد کہا کہ کشمیرمیں سوئزرلینڈ بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ کشمیر سوئزرلینڈ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔ 
مغربی، وسطی اور جنوبی یورپ کے ارضیاتی اِرتکاز پر واقع سوئزر لینڈر کی آبادی 85لاکھ اور کْل رقبہ 41290 مْربع کلومیٹر ہے۔ جموں کشمیر کی آبادی 1.25کروڑ جبکہ رقبہ 222000 مْربع کلومیٹر ہے۔ دریائوں، آبشاروں، نہروں، ندی نالوں، تالابوں اور متعدد آبی وسائل سے مالامال جموں کشمیر میں 22 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس میں سے صرف دس فی صد ابھی تک پیدا کی جاسکی ہے۔ جبکہ سوئزر لینڈ میں پن بجلی کی پیداواری صلاحیت کا 99.20فی صد پیدا کیاجارہا ہے اور اس کے علاوہ شمسی توانائی اورنیوکلیائی توانائی کے بڑے بڑے منصوبے ہیں جن سے فیکٹریاں اور ریل گاڑیاں چلتی ہیں۔ جموں کشمیر میں چھوٹی، درمیانہ اور بڑی سڑکوں کے علاوہ شاہراہوں سمیت سڑکوں کی کْل وسعت 20 ہزار کلومیٹر تک ہے جبکہ آدھے جموں کشمیر جتنے سوئزرلینڈ جیسے چھوٹے ملک میں سڑکوں کی کل وسعت 72 ہزار کلومیٹر ہے۔ وہاں جنیوا اور زِیورِچ میں دو بڑے بین الاقوامی ائیرپورٹ ہیں اور اسکے علاوہ فرانس کے دریائے رائن سے ہوتا ہوا آبی ٹرانسپورٹ کا ایک منظم نیٹ ورک ہے۔ اُدھر بھی کئی فٹ برف ہوتی، پہاڑوں سے چٹانیں کھسکتی ہیں، طوفان وغیر آتے ہیں، لیکن ہفتوں بجلی ناپید اور راستے مسدود نہیں ہوتے۔ 
اب ذرا خدارا انصاف کریں کہ کہاں سوئزرلینڈ اور کہاں جموں کشمیر۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہاں کی برفانی ڈھلانوں پر جو سکیئنگ ہوتی ہے وہ ہمارے یہاں کھلن مرگ اور افروٹھ میں بھی ہوتی ہے۔ محض اس مماثلت کے لئے ہمارے رہنما کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کا دیرینہ خواب پالے ہوئے ہیں۔مرکزی حکومت کا ایک دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ دفعہ 370 جموں کشمیر کی ترقی میں ایک رکاوٹ تھا۔ 
جہلم سے بہت پانی بہہ چکا ہے، حالات کے تھپیڑوں نے کشمیر کے اجتماعی مزاج کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا اور روایتی سیاست گویا وینٹی لیٹر پر ہے۔ ایسے میں لوگ ہر اُس وعدے کو امید کی کرن سمجھ رہے ہیں جو نئی دلی کے وزیراعظم دفتر یا ہمارے یہاں کے راج بھون سے کیا جارہا ہے۔ 
کسی نے خوب کہا ہے کہ وعدہ اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ وعدہ سچا ہوتا ہے ، اور اگر سچا نہ ہو تو پھر جھوٹا ہوتا ہے۔ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ ہوتے ہی اگست 2019 میں حکومت نے اعلان کیا کہ چند ہفتوں کے اندر اندر یہاں ایک عالمی سرمایہ کاری کی چوٹی کانفرنس ہوگی جس میں دنیا بھر کے سرمایہ اور بھارتی صنعت کار جموں کشمیر میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کرکے اس خطے کو سوئزرلینڈ بنا دیں گے۔ دو سال ہونے کوہیں، گلوبل اِنوسٹر سمٹ نہیں ہوا۔بالاخر یہ سمٹ دلی میں ہوا جہاں کئی وعدے دہرائے گئے۔ اس دوران مقامی تاجروں نے سیاسی اور وبائی لاک ڈائون کی وجہ سے اقتصادی خسارے کا حجم ایک لاکھ کروڑ روپے تک آنک لیا ہے، لیکن چند رعایتوں کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ پچاس ہزار نوکریوں کا اعلان ابھی تک اخباری سرخیوں میں پھڑپھڑا رہا ہے۔ 
جموں کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کے چکر میں حکومت نے 50 ہزار کنال اراضی پر مشتمل لینڈ بینک کا اعلان کیا اور یہ بھی اعتراف کیا کہ 5000 کروڑ روپے مالیت کے اقتصادی منصوبے زیرغور ہیں۔ حالانکہ فی الوقت جموں کشمیر میں صرف 1938کنال اراضی کا رقبہ صنعتی سرگرمیوں کے زیر ِ استعمال ہے۔ 
گزشتہ برس اکتوبر میں جموں کشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے بعد نئی صنعتی پالیسی کے تحت محکمہ صنعت و تجارت کو 24000 کنال رقبہ اراضی ٹرانسفر کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ محکمہ جنگلات سے باقاعدہ اجازت کے بعد مزید 3000 کنال زمین محکمے کے سپرد کی جائے گی۔ 
اس سال 7 جنوری کو لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے صنعتی ترقی کے لئے 28400 کروڑ روپے مالیت کی سکیم کا اعلان کیا۔ یہ رقم اگلے 17 سال تک صنعتی ترقی کے لئے خرچ کی جانی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو انتظامی کونسل نے نئی صنعتی پالیسی کو منظوری بھی دے، جسکی رْو سے چالیس برس تک صنعت کاروں کو زمین لیز پر دی جائے گی اور لیز کی مدّت نوّے برس تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ یہ بظاہر ایک بہتر اور قابل تحسین اقدام ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس پالیسی میں زنگ آلودہ فیکٹریوں کے احیاء ، نئی فیکٹریوں کے قیام، نئے صنعت کاروں کی مالی معاونت اور پرانے صنعت کاروں کے قرضوں میں سود کی چھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔    
جموں کشمیر کو اگر سوئزرلینڈ کا عشر ِعشیر بھی بنانا ہے تو شروعات بجلی، پانی اور سڑک سے کرنا ہوگی۔ یہاں کے تاجروں اور سیاستدانوں کو دہائیوں سے عادت پڑ گئی ہے کہ وہ نئی دلی کے سامنے کشکول لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ سبسڈی اور مالی معاونت کی راگنی گاتے ہیں۔ اور نوکرویوں کی بھیک مانگتے ہیں۔ حکومت کو موجودی زمینی صورتحال کا دیانت دارانہ تجزیہ کرنے کے بعد صنعتی پالیسی کو لاگو کرنا چاہئے تاکہ ایسے بہتر اقدامات کا کوئی واضح فائدہ بھی ہو۔
کشمیرمیں چند فٹ برفباری کیا ہوئی تمام اضلاع ایک دوسرے سے منقطع ہوگئے اور کشمیر کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ہفتوں تک کٹ گیا۔ بیرون جموں کشمیر جانے والی واحد قومی شاہراہ پر فوج کو جھولا پل (بیلی برِج) تعمیر کرنا پڑا تاکہ ضروری اشیا کی قلّت پیدا نہ ہو۔ حکام کو اپیلیں کرنا پڑیں کہ لوگ ضروری سازوسامان کو احتیاط سے خرچ کریں۔ پیٹرول اور ڈیزل اور مٹی کے تیل کے بحران کا خطرہ سر پر منڈلاتا نظر آیا۔ابھی بھی پوری وادی اور جموں کے بیشتر علاقوں میں سو فی صد بجلی بحال نہیں ہوپائی ہے۔ گردوغبار سے اٹے برف کے ڈھیروں نے اہم راستوں کو مسدود کردیا ہے۔ اندرونی رابطہ سڑکوں کا حال یہ ہے کہ کولگام میں غریب اور مفلوک الحال کنبے کے دو بچے سردی سے مر گئے۔ شوپیان میں ایک علیل خاتون اور ایک مریض سڑکوں پر برف ہونے کی وجہ سے ہسپتال پہنچتے پہنچتے دم توڈ بیٹھے۔ لاسی پورہ اور کھنموہ میں دو بڑے صنعتی مراکز ہیں، جہاں اکثر فیکٹریوں نے پیداوار روک دی کیونکہ مال سے بھری گاڑیاں کہاں سے نکل پاتیں اور نکل بھی جاتیں تو قاضی گنڈ میں پھنس جاتیں۔ اکثر فیکٹریوں میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے تالا چڑھایا گیا۔ 
جولائی 2019میں ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے مرکزی وزیر نِتِن گڑکری نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ 2648 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہورہی نئی بانہال ٹنل اور ملحقہ شاہراہ پر %74 فی صد کام مکمل ہوچکا ہے اور یہ منصوبہ جولائی 2020 میں مکمل ہوجائے گا۔ لیکن جیسا کہ ہر منصوبے کے ساتھ ہوتا ہے، یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا۔ سرینگرجموں قومی شاہراہ کا حال بد سے بدتر ہی ہوا اور اس سال بھاری برف باری کے بعد جب ٹنل بند ہوگئی اور شاہرہ پر جگہ جگہ چٹانیں کھسکتی رہیں تو فوج نے جنگ عظیم دوم کے دوران برطانوی ملٹری انجینئروں کا ایجاد کردہ فولاد اور لوہے کی کیبل سے بنے ’’بیلی برِج‘‘ کو عبوری طور بچھا کر ٹریفک کو بحال کیا گیا۔ ابھی پچھلے ہی سال کی بات ہے کہ مرکزی سرکار نے اعلان کیا کہ کشمیر میں بانہال ہائی وے اور سرینگر میں تین نئے فلائی اووَروں سمیت شاہراہوں کے 17 بڑے پروجیکٹ دردست لئے گئے ہیں، لیکن تھوڑی سی برف نے کشمیر کا ناطہ بیرونی دنیا سے کاٹ کے رکھ دیا۔ 
پانی کے بارے میں سابقہ کالموں میں بہت کچھ عرض کرچکا ہوں۔ اب حال یہ ہے کہ کشمیر میں جل شکتی محکمے کے اعلیٰ حکام منہ چھپاتے پھرتے ہیں کیونکہ خود وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ ’ہرنل جل‘ منصوبے کے بعد اس سال مارچ تک پورے جموں کشمیر میں سب کو پینے کا صاف پانی گھروں میں نلوں کے ذریعہ بلاخلل مہیاہوگا۔ اربوں روپے کا سرمایہ اس کے لئے مختص ہے لیکن ہمارے افسران غفلت کی نیند میں ہیں۔ سرینگر کے مشرق میں مل شاہی باغ کی لائن میں پڑا معمول شگاف دو سال سے ٹھیک نہیں ہوپارہا۔ 
بجلی کا حال سب پر عیاں ہے۔ کسی بھی برزگ کانگریسی لیڈر سے پوچھ لیجئے کہ 1986 کے سرما میں جب اُسوقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے فیصلہ کیا کہ وہ نیشنل ہائی وے کا معائنہ کرتے ہوئے بانہال روڈ سے ہی سرینگر جائیں گے تو فاروق عبداللہ کو اُنہیں لینے کے لئے قاضی گنڈ جانا پڑا۔ وہاں سے دونوں نے کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا اور جب ڈاک بنگلہ میں پہنچے تو بجلی نہیں تھی۔ اس پر راجیو گاندھی نے فاروق عبداللہ سے کہا کہ بجلی کی ترسیلی لائنیں زیرزمین بچھانے کا منصوبہ بنائیں تاکہ مرکزی حکومت اُس میں مالی معاونت کرکے سردیوں میں بجلی کے بحران کو ہمیشہ کے لئے حل کرسکے۔ منصوبہ بنا بھی، کچھ سامان خریدا بھی گیا لیکن وہ سب محکمہ بجلی کے ردی خانے میں اب بھی زنگ کھا رہا ہے۔ چند سال کی ہی بات ہے کہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ کی موجودگی میں اُسوقت کے وزیر برائے بجلی، کوئلہ اور توانائی کے مرکزی وزیرمملکت پِیوش گوئیل نے ’پاور فار آل‘ یعنی ’سب کے لئے بجلی‘ نامی منصوبے کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اس موقعہ پر کہا کہ جموں کشمیر کی انتظامیہ کو تمام تر ضروری معاونت دی گئی ہے کہ تاکہ ایک سال کے اندر اندر جموں کشمیر میں چوبیس گھنٹہ بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے۔ حکومت تحلیل ہونے کے بعد شائد سابق گورنر ستیہ پال ملک نے اسی فائل کی بنا پر وعدہ کیا تھا کہ کشمیر میں گھر گھر بجلی ہوگی اور دن رات ہوگی۔ لیکن پچھلے تین سال سے بجلی کا جو حال ہے ، ایسا لگتا ہے کہ بجلی محکمے کے اعلیٰ حکام کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کا کتنا بیڑا غرق ہوچکا ہے۔ 
بجلی ہفتوں اور مہینوں بند رہے، قومی شاہراہ پر ٹریفک بار بار معطل رہے، مقامی فیکٹریوں سے شاہرائوں کی طرف جانے والی رابطہ سڑکیں نہ صرف خستہ ہوں بلکہ معمولی برف باری کے بعد بند ہی ہوجائیں اور برف ہٹانے کے لئے کوئی کارگر مشین تک نہ ہو ، تو ایسے میں سوئزرلینڈ بنانے کا مشن کیونکہ کامیاب ہوگا۔ لاکھوں کنال زمین بھی صنعت کاروں دیجئے، مشینیں خریدنے کے لئے اربوں روپے قرضے دیجئے، سرمایہ کاری کا ڈھول پیٹتے رہئے، لیکن جب تک پانی، سڑک اور بجلی سے شروعات نہیں ہوگی تب تک سوئزرلینڈ بنانے کے وعدے اخباری سرخیوں اور ٹی وی مباحثوں کا موضوع ہونگے اور زمین پر کچھ نہیں بدلے گا۔ 
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں)
 رابطہ ۔ 9469679449
 abdulqayoomshah57@gmail.com