صنعتی سیکٹر کے تئیں حکومتی سنجیدگی خوش آئند

تاریخ    26 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں 22جنوری کو منعقدہ انتظامی کونسل کی میٹنگ میں جموں اینڈ کشمیر انڈسٹریل لینڈ الاٹمنٹ پالیسی 2021-30 کو منظوری دی گئی جس کے تحت جموں اور کشمیر میں یکساں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے ایک منظم صنعتی لینڈ بنک کے قیام کو بھی منظوری ملی۔ نئی پالیسی کے تحت صنعتی علاقوں کیلئے مختلف معاملات کو مدِ نظر رکھ کر بلاک اور میونسپل سطح پر زون مقرر کئے جائیں گے ۔ پالیسی کے تحت 30 دنوں کے اندر صنعتوں کیلئے اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق درخواستوں کی جانچ پڑتال اور اُن کا جائزہ لینے کیلئے صوبائی سطح کی پروجیکٹ اپرائیزل اور ایولویشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی ۔ چوٹی کی سطح کی لینڈ الاٹمنٹ کمیٹی ، ہائی لیول لینڈ الاٹمنٹ کمیٹی اور صوبائی سطح کی لینڈ الاٹمنٹ کمیٹی 45دنوں کے اندربالترتیب200 کروڑ ، 50 سے 200 کروڑ اور 50 کروڑ روپے کی مالیت کے پروجیکٹوں کیلئے دی گئی درخواستوں کے حق میں اراضی کی الاٹمنٹ کا فیصلہ کرے گی۔ پالیسی کے تحت اراضی سرمایہ کار کوپہلے مرحلے میں40 سال کیلئے لیز پر دی جائے گی جس میں 99 سال کی توسیع بھی کی جا سکتی ہیں اور دو سال کی مقررہ مدت کے اندر اگر سرمایہ کار مؤثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے تو اس کی اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ بھی ہو سکتی ہے اور اگر کوئی صنعتی یونٹ تین سال کے اندر مصنوعات تیار کرنے میں ناکام رہے یا لیز ڈیڈ کی خلاف ورزی کرے تو اُن کی اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ ہو گی ۔اس سے قبل گزشتہ دنوںلیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ دنوںجموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کے ذریعہ صنعتی شعبے میں صنعتی نمو ، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کیلئے 28400 کروڑ روپے مالیت کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ پیکیج2021کا اعلان کرتے ہوئے کہاتھاکہ مرکزی کابینہ نے جموں وکشمیر کیلئے 28400کروڑ روپے مالیت کے صنعتی پیکیج کو6 جنوری کومنظور کیا اور اس کا مقصدمرکزی انتظام والے علاقے میں صنعتی سیکٹر کو فروغ دیکر ساڑھے4 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنا ہے۔گوکہ اُس پیکیج اور اب اس نئی صنعتی پالیسی کے خد وخال ابھی تک مکمل طور واضح نہیں ہوچکے ہیں تاہم سننے میں یہی آرہا ہے کہ اب صنعتی سیکٹر کو بلاک سطح تک توسیع دی جائے گی اور کوشش کی جائے گی کہ جموںوکشمیر کے دیہات میں بھی صنعتوں کا جال بچھ جائے۔شاید اسی مقصد کیلئے محکمہ صنعت و حرفت مسلسل لینڈ بینک کو توسیع دے رہا ہے اور صنعتی بستیوں کے قیام اور پرانی بستیوں کو توسیع دینے کیلئے حکومت مذکورہ محکمہ کو48ہزار کنال اراضی منتقل کر نے کا منصوبہ رکھتی ہے جس میں سے اب تک 24ہزار کنال اراضی منتقل کی جاچکی ہے ۔منتقل شدہ 24ہزار کنال میں سے16ہزار جموں جبکہ8ہزار کنال کشمیر صوبہ سے ہے۔محکمہ کا کہنا ہے کہ نجی سیکٹر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے صحت ،تعلیم ،صنعت اور دیگر شعبوں میںمقامی و غیر مقامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور منصوبہ کے تحت حکومت کی کوشش رہے گی کہ زیادہ سے زیادہ صنعتی یونٹ قائم ہوں تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ معیشت کو فروغ دیاجاسکے ۔بادی النظر میں حکومت کاصنعتی پیکیج اوراب نئی صنعتی پالیسی بہت اچھے لگ رہے ہیں اور یہی تاثر ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ ارباب بست و کشاد کو جموںوکشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کی فکر دامن گیر ہے اور حکمران جموںوکشمیر میں صنعتوں کا جال بچھانا چاہتے ہیںتاہم ماضی کے تجربات کچھ اچھے نہیں ہیں۔نئی صنعتی بستیوں کا قیام احسن ہے اور یقینی طو ر پر زیادہ سے زیادہ صنعتی بستیاں قائم ہونی چاہئیں تاکہ آمدن کے ذرائع بڑھ سکیں تاہم اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ ہماری پہلے سے موجود صنعتی بستیوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے اور ان صنعتی بستیوں میں کام کررہے بیشتر صنعتکار سرکار کی عدم توجہی کا رونا رو رہے ہیں۔جموں شہر اور ا سکے مضافات میں قائم چند صنعتی بستیوں کو چھوڑ کر پورے جموںوکشمیر میں صنعتی بستیوںکا حال بے حال ہے ۔کہنے کو تو لوگوںنے صنعتیں قائم کرنے کے نام پر ان بستیوں میں زمینیں لے رکھی ہیں لیکن صنعتی بستیوںکی اندر کی کہانی انتہائی حوصلہ شکن ہے کیونکہ بیشتر کارخانے یا تو بند ہوچکے ہیں یا پھر خسارے پر چل رہے ہیں۔جموںوکشمیر کی صنعتی بستیوں کو سب سے پہلے بجلی کی غیر مناسب سپلائی کا مسئلہ درپیش ہے ۔بجلی سپلائی کا حا ل بے حال ہے اور جب بجلی متواتر نہ ہو تو صنعتوں کا چلنا محال ہی ہے ۔دوسرا مسئلہ صنعتوںکے قیام کیلئے انتہائی تکلیف دہ عمل ہے ۔اب تک تو یہی روایت رہی ہے کہ مقامی صنعتکاروںکو درجنوں این او سیز کے نام پر ستایا جاتا تھا اور وہ تھک ہار کر ایسے منصوبے ہی ترک کردیتے تھے ۔سبسڈی کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور ابتدائی سرمایہ کی فراہمی میں بنک لیت و لعل سے کام لیتے تھے ۔اس پر طرہ یہ ہے کہ خام مال انتہائی مہنگا ہونے کے سبب بیشتر کارخانے ایام طفولیت میں ہی بند ہوجاتے تھے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں پرائیوٹ سیکٹر کبھی پنپ ہی نہیں پایا کیونکہ ماحول موافق نہیں تھا اور نہ ہی حکومتی سطح پر مقامی صنعت کاروںکی حوصلہ افزائی کی جارہی تھی ۔اب شاید حالات بدل چکے ہیں اور جس بڑے پیمانے پر زمینیں لی جارہی ہیں اور 48ہزار کنال اراضی کا لینڈ بنک قائم کرنے کا منصوبہ ہے تو بدیہی طور یہی لگ رہا ہے کہ حکومت اب بڑے پیمانے پر یہاں صنعتیں قائم کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے تاہم اس عمل میںمقامی سرمایہ کاری کو ہی پہلی ترجیح دی جائے تاکہ معیشت کا پہیہ مقامی طور ہی گھومتا رہے، جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا ورنہ معیشت کا جنازہ نکل جانا طے ہے۔

تازہ ترین