تازہ ترین

گپکار الائنس

گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

تاریخ    25 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


رشید پروین ؔ ،سوپور
 اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں ،میں اس عنوان کی مختصر سی تشریح ناگزیر سمجھتا ہوںاس لئے کہ اخبارات پڑھنے والے عام فہم آدمی بھی اس شعر کی گہرائی کو پا سکیں۔ یہ مرزا غالب کا شعر ہے  ؎
قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم 
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو 
 اس خوبصورت اور دلنواز شعر کی جو تشریح میں سمجھ سکا ہوں وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ صیاد نے بہت پہلے ایک پرندے کو آزاد فضاؤں سے محروم کرکے اپنے قفس میں قید کیا تھا۔ ایک روز صیاد نے دوسرے پرندے کو بھی قید کر کے اسی قفس میں بند کیا۔ پہلے قیدی نے فوراً ہی اس پرندے کو پہچانا کیونکہ ان دونوں کے آشیانے ایک ہی جنگل میں نزدیک یا شا ید ایک ہی درخت کی شاخوں پر تھے۔اب پہلا پرندہ دوسرے دوست سے حال چال پوچھتا ہے لیکن وہ پرندہ غمگین اور اداس اپنی زباں نہیں کھول سکا۔ اتفاق سے کل شام ہی آسمان میں بادل گرجے تھے ، بارشیں ہوئی تھیں،بجلیاں گری تھیں اور پہلے قیدی پرندے نے سمجھ لیا کہ کل بجلیوں کی زد میں میرا آشیاں بھی آچکا ہے، اس لئے میرا دوست مجھ سے اس کی تباہی اور بربادی اپنی زباں پر نہیں لا پاتا۔ تو پہلا پرندہ اپنے نئے ساتھی کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہتا ہے کہ دوست تم اداس نہ ہو ، جو آشیاں کل بجلیوں کی زد میں آچکا ہے ،میرا وہ تھا ہی کہاں ؟ میں تو بہت پہلے ہی اس سے محروم ہوچکا ہوں اور قیدی کا ٹھکانہ تو یہی پنجرہ ہوتا ہے جہاں سے وہ صرف آزاد فضاؤں کا تصور ہی کرسکتا ہے اڈان نہیں بھر سکتا ۔
یہ اتحاد کشمیریوں کا آشیانہ تھا ہی نہیں۔ مطلب اس کے ساتھ ان کی توقعات بھی کہاں وابستہ تھیں جو آج اس کے تنکے تنکے ہونے کا غم ہمیں نڈھال کرتا ۔اس لئے یہ اتحاد بنا ہی ٹوٹنے کے لئے تھا اور ہم نے پہلے ہی اپنے ایک آرٹیکل میں اس کے ’’بخیر انجام ‘‘کا واضح عندیہ تھا ۔یہ اتحاد ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۰؁ ء کو عمل میں لایا گیا تھا اور اس کے صدر فاروق عبداللہ مقرر ہوئے تھے ۔تین بڑی اکائیوں این سی، پیپلز کانفرنس اور پی ڈی  پی کے علاوہ اس میں اور بھی کچھ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں تھیں۔ اس اتحاد سے عوام کی کوئی زیادہ امیدیں پہلے ہی سے وابستہ نہیں تھیں اور نہ اس اتحاد کو عوام نے پرندے کی طرح اپنا آشیاں ہی سمجھا تھا۔ اس کی وجوہات عام فہم آدمی کی سمجھ سے بھی باہر نہیں کیونکہ یہ سیاسی اتحاد ان تمام چہروں اور آزمائے ہوئے لوگوں کا ملن تھا جو اقتدار ی سیاست کے سوا اپنی ساری زندگی میں اس سے آگے نہ سوچ سکے ہیں اور نہ ان کی بصیرت ہی اقتدار سے آگے کبھی مستقبل کو دیکھ اور سمجھ سکی ہے۔
 قدم قدم پر فریب کاری نے سیاست کاروں کے لئے ایک یہی اقتداری راہ چھوڈ دی اور پھر آنے والی نسلوں نے اس ہدف کے بغیر کبھی کسی اور بہتر منزل کا انتخاب نہیں کیا ۔اس لئے مجھے لگتا ہے کہ کہ جو چیز ٹوٹنے کے لئے بنی ہی ہو، اس پر کسی قسم کا افسوس نہیں ہونا چاہئے ،ہاں یہ افسوس اور شرمناک بات ہے کہ ہمارے ان بہت ہی بڑے اور بوڑھے سیاست دانوں نے کبھی اپنے عہد اور زباںکا پاس نہیں کیا۔یہ بات اس ضمن میں کہی ہے کہ سجاد غنی لون نے اتحاد سے علیحدگی کی جو وجوہات اپنے لمبے چوڑے مکتوب میں لکھی ہیں ،ان میں سب سے بڑی اور وزن دار وجہ یہی ہے کہ اتحاد نے پراکسی امیدواروں کو کھڑا کرکے اپنے عہدو پیماں اور اتحاد کے روڈ میپ سے نہ صرف انحراف کیا ہے ، بلکہ اگر ان کی یہ بات درست اور صحیح ہے تو یہ اتحاد کی کمر میں خنجر گھونپنے ہی کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے اور ہمیں این سی کے سیاسی کلچر اور روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا پڑے گا۔ اس کے بغیر بھی سجاد صاحب نے کئی وجوہات لکھی اور بیان کی ہیں جس  سے صاف اور واضح ہوجاتا ہے کہ اس اتحاد میں جمع پارٹیاں کبھی ایک دوسرے کے ساتھ نہ تو مخلص تھیں اور نہ اتحاد کے اہداف کو پانے اور حاصل کرنے کی ان میں کوئی خواہش یا جستجو ہے۔ انہوں نے ایک اور وزن داراورمبنی بر منطق دلیل یہ بھی دی ہے کہ اس اتحاد کے باوجود ہم نے ان کے خلاف یہ الیکشن نہیں لڑا جو۵ اگست کے المیے اور سانحہ کے ذمہ دار تھے بلکہ ہم نے یہ انتخابات بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑے ہیں پراکسی امیدواروں کو کھڑا کرکے ۔ظاہر ہے کہ جو اپنے ساتھ مخلص نہیں، عوام اور کشمیر کے بڑے کاز ان کے لئے کیا معنی رکھتے ہوں گے ؟۔ سجاد لون صاحب شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں اپنا ووٹ بینک رکھتے ہیں جس طرح محبوبہ جی بھی جنوب میں اپنی ووٹ پراپرٹی کی مالک ہیں۔ایک بات اور جو انہوں نے کی ہے جو معقول لگتی ہے وہ یہ کہ اتحاد کرنے کے بعد ہمیں اس اتحاد کے اہداف تک پہنچنے کے لئے قربانیوں کی ضرورت تھی ۔شاید اس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جہاں اور جتنے امیدواروں کو مختلف پارٹیوں کے لئے مخصوص رکھا گیا تھا وہ اس پر قانع رہتی اور کوئی بھی کھیل پردے کے اندر رہ کر کھیلنے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے تھی اور دیکھا جائے تو اس کی ضرورت بھی نہیںتھی کیونکہ پہلی بار یہ مین سٹریم پارٹیاں اپنی مجبوریوں کی وجہ سے متحد ہوئی تھیں۔
 یہ انتخابات اسی ایک بنیاد پر لڑے گئے تھے کہ ایک واحد پارٹی کو کسی طرح ان اداروں سے دور رکھا جائے ،مجھے لگتا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ این سی نے شاید کوئی عبرت مکافات عمل سے حاصل نہیں کی ہے اور جو اس پارٹی کے ساتھ جو ہوا اور کیا گیا ، اس کا تقاضا تھا کہ این سی کی تھنک ٹینک لانگ ٹرم اہداف مقرر کرتی اور شاٹ ٹرم میں اس طرح کے انتخابات شامل تھے ہی لیکن سب مین سٹریم کے اتحاد کو آگے بڑھانا بھی اس کی ذمہ داری تھی تاکہ مستقبل قریب میں اس اتحاد سے شاید اس سے بڑے فائدے اٹھائے جاسکتے یا اس اتحاد کو ایک نئی شکل و صورت سے آراستہ کرکے کشمیر کی واحد آواز میں تبدیل کیا جاتا ، لیکن افسوس کہ اقتدار جب منزل ہو تو اس سے دوری کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں ہوتی اور اس کے لئے ضمیر اور زباں دونوں کا قتل لازمی اور ناگزیر ہوجاتا ہے ۔اس اتحاد کے ٹوٹنے اور بکھرنے پر طنزیہ ردعمل جو سید الطاف بخاری ،صدر ’اپنی پارٹی‘ نے دیا ہے وہ دلچسپ ہے لیکن حیران کن نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ’’اتحاد وقت سے بہت پہلے ہی ٹوٹ گیا ‘‘۔ ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ اتنی جلد یہ سیکولراتحاد اپنے دن پورا کر لے گا اور یہ بھی کہ انہیں امید رہی ہوگی کہ یہ ایک ڈیڑھ یادو برس تک اپنی سانسیں لیتا رہے گا ۔انہوں نے اس اتحاد کو تب بھی اور آج بھی اسی انداز میں پیش کیا ہے کہ اس جھنڈے تلے جمع شدہ لوگ استحصالی ، موقعہ پرست ،ابن الوقت ، دھوکہ دہی اور عوام کے جذبات کی بلیک میلنگ کرنے والی جماعتیں ہیں ۔
 اتحاد کو جیسا کہ پہلے سے ہی ظاہر تھا، ہر حال میں ٹوٹنا ہی تھا لیکن اتنی جلد ٹوٹنے سے بی جے پی کے یہاں بھی گھی کے چراغ جلانے کا موقعہ ہاتھ آیا جو کشمیری عوام کی رسوائی کا باعث بھی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے کہ آخر ہماری یہ قیادت جو پچھلے ستر برسوں سے کسی بھی ہدف اور منزل کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ کبھی ان خطوط پہ سوچا ہی نہیں ، اور اقتدار کے دائرے سے باہر آئے ہی نہیں ، کب تک عوام کے کندھوں پر سوار انہیں اقتدار کی طرف دوڈ لگانے کے لئے ہانکتے رہیں گے۔ اب یہاں عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ بھی انہیں ایسے مواقع کیوں دیتے ہیں اور کیوں پچھلے ستر برس سے کشمیری عوام ان کا بوجھ ڈھونے پر مجبور ہیں۔ اس کا سادہ سا مگر بہتر جواب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس جمہوری طرز نظام میں حکومت پارٹیوں کی بنتی اور آتی جاتی ہے اور پارٹی میں وہ لوگ سر فہرست ہوتے ہیں جن میں تمام منفی اوصاف موجود ہوں۔ دراصل ہم چانکیائی سیاست سے بہت متاثر ہیں ،جہاں سام ،دام اور ڈنڈ کے دائروں میں تمام اور کلیدی روڈ میپ طے کیا جاتے ہیں۔ اس لئے عوام کے پاس کوئی آپشن نہیں رہتا اور اسی آپشن کے نہ ہوتے ہوئے ڈی ڈی سی انتخاب میں عوام کے ایک حصے نے اپنی چھوٹی چھوٹی روزمرہ کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر یا یہ بھی کہ اپنی پارٹی کے ساتھ منسلک رہنے کی خاطر ووٹ دئے۔
 این سی رہنماؤں کو پراکسی کی کوئی ایسی ضرورت میرے خیال میں نہیں تھی لیکن اس کا آپ کیا کریں گے کہ مرض حکیم کی دواؤں سے شفا یاب تو ہوتا ہے لیکن عادت کسی بھی شفاخانے اور دوا سے بدل نہیں جاتی۔سجاد غنی لون کے اس اتحاد کو الوداع کہنے سے یہ اتحاد ہی بے معنی سا ہوجاتا ہے ۔ہم پھر یہ دہرانا چاہیں گے کہ اگر سجاد صاحب کے یہ سارے الزامات درست ہیں تو محبوبہ مفتی ان دنوں زبردست کشمکش  اور اضطراب میں ہوگی کیونکہ پراکسی امیدوار یہاں وہاں سب جگہ یا کم و بیش بہت ساری جگہوں پر رہے ہوں گے جس میں انہیں دے گئے انتخابی علاقے بھی رہے ہوں گے ۔وہ ابھی چپ ہیں ۔میرے خیال میں ابھی تک نہ تو فار وق عبداللہ اور نہ محبوبہ یا دوسرے اتحادی نے کوئی با ضابطہ بیان جاری کیا ہے ،سوائے یوسف تاریگامی کے ،جنہیں افسوس ہے لیکن انہیں مواخذے کی بات کرنا چاہئے تھی جو نہیں کی ہے۔ بہر حال دوسرے اتحادی کس سوچ میں ڈوبے ہیں، اس کا پتہ نہیں لیکن اندازہ یہی ہے کہ پی ڈی پی پیپلز کانفرنس کے بعد اس الائنس کی بڑی پارٹی ہے ،اس کا بیان کچھ دیر میں متوقع ہے لیکن یہ بیان کیا ہوسکتا ہے ،اس کے سوا کہ وہ یاتو سجاد غنی لون کے بیان کی تصدیق کرے گی۔ تصدیق ہوتی ہے توعلیحدگی کا اعلان بھی منطقی نتیجہ بنتا ہے اور دوسراآپشن یہ ہے کہ دوسری چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ فی الحال خاموشی ہی کو بہتر سمجھا جائے لیکن ایسا اب اس کے اپنے حق میں بھی ٹھیک نہیں اور یوں شاید آنے والے دنوں میں ہمیں پی ڈی پی کے بھی گپکار الائنس سے الگ ہونے کی خبر مل سکتی ہے۔