ٹاٹا موبائل میں سوئے کپوارہ کے2 افراد کی موت

بانہال میں مسافروں کے احتجاجی مظاہرے اور پتھرائو

تاریخ    25 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


محمد تسکین
بانہال // جموں سرینگر شاہراہ  بند ہونے کی وجہ سے بانہال ریلوے سٹیشن پر ایک ٹا ٹا موبائل لوڈ کیریئرمیں کپوارہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی پر اسرار طور پر موت واقع ہوئی۔ اگرچہ فوری طور پر موت کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی تاہم غالب امکان ہے کہ دونوں کی موت شدید سردی یا دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی ہوگی۔ کیونکہ گاڑی میں لحاف اور کمبلوں کے علاوہ کانگڑی اور کوئلہ بھی پایا گیا ۔ اس واقعہ کیخلاف درماندہ مسافروں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور پتھرائو بھی کیا۔ایس ایچ او بانہال نعیم الحق نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اتوار کی صبح ٹاٹاموبائل نمبرJK098/7358 میں سوئے ہوئے دو افراد کو بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا اور انہیں وہاں موجود پولیس اور رضاکاروں کی مدد سے فوری طور پر ایمرجنسی ہسپتال بانہال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ مرنے والوں کی شناخت 22 سالہ شبیر احمد میر ولد عبدالرشید میر ساکن مود کرالہ پورہ اور 30 سالہ ماجد گلزار میر ولد محمد گلزار میر ساکن دردسن کرالہ پورہ کپواڑہ کے طور ہوئی ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ماجد گلزار اور شبیر احمد اپنے لو ڈ کیرئر میں 3 روز قبل جمو ں سبزی لینے گئے تھے تاہم واپسی پر جب وہ بانہال پہنچ گئے تو شاہراہ بند ہونے سے وہ رات بھر اپنی ہی گا ڑی میں رہے لیکن صبح ان کو گا ڑی میں مر دہ پایا گیا ۔ واقع کی خبر پھیلتے ہی ریلوے سٹیشن چوک بانہال میں سنیچر سے درماندہ مسافروں نے ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے وہاں موجود پولیس کی رکاوٹوں کو توڑااور کئی گاڑیوں پر پتھرائو بھی کیا تاہم پولیس نے حالات کو قابو میں کیا۔ایس ایچ او نے کہا کہ پولیس نے ان مشتبہ اموات کی تحقیقات کرنے کیلئے ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ  174   کے تحت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔  واقع کے بعد ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام اور ایس ایس پی رام بن حسیب الرحمان نے بانہال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنرنے کہا کہ گزشتہ رات بانہال میں ایک ہزار کے قریب درماندہ مسافروں کیلئے کھانے پینے اور راحت مراکز میں رہنے کا انتظام کیا گیا تھا لیکن بیشتر مسافر رات کا کھانا کھانے کے بعد واپس اپنی گاڑیوں میں چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد ہی گاڑی میں ہوئی دو افراد کی موت کی اصل وجوہات کا پتہ لگ سکتا ہے تاہم ابتدائی تفتیش سے بظاہر یہ ا موات کوئلے سے خارج ہوئی گیس کی وجہ سے واقع ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درماندہ مسافروں کا اسرار تھا کہ انہیں زیر تعمیر بانہال قاضی گنڈ فورلین ٹنل کے ذریعے جانے کی اجازت دی جائے جو ان کے زیر اختیار میں نہیں تھا کیونکہ فورلین ٹنل کے اندر کا کام ابھی چل رہا ہے اور ایسے میں تعمیراتی کمپنی زیر تعمیر ٹنل کے ذریعہ کسی بھی قسم کا ٹریفک چلانے کے حق میں نہیں ہے۔ اس دوران مہلوکین کے رشتہ دار سہ پہر بعد بانہال پہنچے جہاں پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاشوں کو ورثا کے سپرد کیا گیا۔ 
 

تازہ ترین