غزلیات

تاریخ    24 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 کوئی پتھر نہ کوئی ہیرا نہ تارا ہوگا
روشنی دیتا ہے تو اشک ہمارا ہوگا
 
جو بھی دیوانے کو جی جان سے پیارا ہوگا
سنگِ اوّل بھی اُسی دوست نے مارا گیا
 
جو کوئی عرش پہ گردش میں ستارا ہوگا
اے صنم وہ بھی تِرے ہجر کا مارا ہوگا
 
عمر بھر بھول نہ پائے گی کبھی بھی شبنم
پھول کے پہلو میں جو وقت گذارا ہوگا
 
ہم کو معلوم ہے کیوں ہو نہ سکے وعدے وفا
آپ کے وعدوں کے اَلفاظ میں پارا ہوگا
 
ایک سے ایک حسیں آئیں گے کاندھا دینے
میری میت پہ بھی جنت کا نظارا ہوگا
 
یہ تو گِرداب کی اَوقات نہیں تھی پنچھیؔ
جس جگہ ڈوبی ہے کشتی وہ کنارا ہوگا
 
سردارپنچھیؔ
جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڈ، کھنہ پنجاب
موبائل نمبر؛09417091668
 
بات ہے اب کے مرے وہم و گماں سے آگے
ہے نگہ جلوہ طلب حسنِ بتاں سے آگے
 
تُو نے سمجھا ہے جسے منزلِ مقصود نہیں
منزلِ عشق تو ہے منزلِ جاں سے آگے
 
دل ہوا ہمدمِ جبریلِ امیں سدرہ نشیں
عقل بڑھتی ہی نہیں سود و زیاں سے آگے
 
عمر بھر نالہ کناں پھرتے رہے شہر بہ شہر
اور ہم کرتے بھی کیا آہ و فغاں سے آگے
 
لوٹ کے پھر سے وہ آجائیں یہ ممکن ہی نہیں
قافلہ جن کا گیا عمرِ رواں سے آگے
 
 ریحان احمد ریحان 
پونچھ جموں و کشمیر 
موبائل نمبر؛ 9622088702
 
 
ہجر کی قید میں نہ مار مجھے
بے دلی سے سہی پکار مجھے
خاک میں ڈال یا سنوار مجھے
آزما یوں نہ بار بار مجھے
دے گیا زخم بے شمار مجھے
راس آئی نہیں بہار مجھے
بچ کے نکلا میں خار زاروں سے
اک نگہ نے کیا  شکار مجھے
جام کس نے پیا یہ ہوش نہیں 
دیکھتے ہی چڑھا خمار مجھے
قیس ہوں شہر میں ٹھکانہ نہیں 
آ گیا دشت میں قرار مجھے 
ہاتھ عارفؔ تمام ملتے رہے 
کرچکے ہیں جو تار تار مجھے 
 
جاوید عارفؔ
شوپیاں،کشمیر،موبائل نمبر ؛7006800298
 
 
نظر کا جام ہے ساقی
نشہ وہ عام ہے ساقی
ہمیں رغبت ہے پینے سے
ہوئی پھر شام ہے ساقی
اگر نفرت ہے پینے سے
توچاہت خام ہے ساقی
بسا تھا جس میں میخانہ
وہی گُمـــنام ہے ساقی
کبھی شہرت تھی دنیا میں
مٹا اب نام ہے ساقی
بدلتے رنگ پیمانے
اُسی کا کام ہے ساقی
نظر سے وہ پلا ئیںتو
وہ  میرا دام ہے ساقی
جسے کہتے ہو تُم ناشاؔد
وہ مے آشام ہے ساقی
 
ناشاؔد جی
دیالگام ، اننت ناگ
 
 
جس دل میں وہ نام نہیں ہے 
اس کا کوئی بھی دام نہیں ہے
 
ان کا پیار نہیں ہے سچا
من میں جن کے رام نہیں ہے
 
سُونی سُونی ہے یہ دنیا 
لب پہ تیرا نام نہیں ہے
 
یہ تو بتا دے تیرے دل میں 
کب سے میرا نام نہیں ہے
 
جس کو غرض ہے اپنی ہوس سے 
عشق میں کیا وہ خام نہیں ہے
 
دنیا ہے جسپالؔ دُورنگی 
چین نہیں آرام نہیں ہے
 
جسپال کور
نئی دلی، 
موبائل نمبر؛9891861497
 
 
ہم نے جب بھی اِدھر اُدھردیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
 وہ جو رہتے ہیں زات میں غلطان
ہر قدم اِنکا پر خطر دیکھا
سب مناظر  ہیں یاں پہ صحرائی
دور تک کب کوئی شجر دیکھا 
جس میں روشن ہوں اُلفتوں کے چراغ
خُلد سے کم نہیں وہ گھر دیکھا
 رازِہستی کو  پالیا جس  نے 
بس وہی شخص باخبر دیکھا
 لا تعلق تھی جو دعا دل سے
اس دعا کو ہی  بے اثر دیکھا  
 جو صدائے ضمیرسے غافل
ایسے لوگوں کو در بدر دیکھا
پھر سنبھلنے میں ایک عمر لگی
ایک دن اس کو آنکھ بھر دیکھا
ہر طرف خار زار تھا بسملؔ
زندگی کا عجب سفر دیکھا
 
خورشید بسملؔ
تھنہ منڈی راجوری
موبائل 9086395995.