تازہ ترین

باپ

کہانی

تاریخ    24 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز مانوس
پچھلے ڈیڑھ برس سے وہ  اس شہر میں کلکٹر کے عہدے پر فائز تھا ،اس شہر کے لوگ بھی اُس کے کام سے پوری طرح  خوش  تھے اور حُکامِ بالا بھی اُس کی کارکردگی سے مطمئن تھے ۔ویسے تو یہ شہر افرا تفری اور تشدد کے لئے بدنام تھا  اور کئی کلکٹر یہاں سے ناکام ہوکر نکلے تھے لیکن اُس  نے یہ ذمہ داری چیلنج سمجھ کر قبول کی۔ اپنی سوجھ بوجھ اور عقلمندی سے اُس نے نامساعد حالات میں بھی کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آنے دیا بلکہ یہاں آتے ہی اُس نے غریب غُرباء اور مفلوک الحال لوگوں  کے لئے ریڈ کراس فنڈ کے مُنہ کھول دئیے تھے اور  شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے کمیٹیاں بناکر لوگوں کی منفی سوچ کو مثبت فکرمیں بدل د یا تھا ۔۔۔،،
کیا سڑکیں ۔۔۔کیا سرکاری عمارتیں ۔۔۔،کیا جدید سہولیات  سے لیس اسپتال ۔۔۔کیا پارکیں۔۔۔کیا اسمارٹ اسکول غرضیکہ، ضروریاتِ زندگی کے تمام تقاضے اُس نے پورے کردئیے تھے۔ اب کس کو فُرصت تھی کہ روزگار چھوڑ کر فضول کے جھمیلوں میں اُلجھتا ۔۔۔،،
اُس کی کامیابی اور مقبولیت کا یہی راز تھا کہ وہ ہر دن ایک گھنٹہ لوگوں کے مسائل سُن کر فوری کاروائی کی ہدایات دے کر اُن کی پریشانیوں کا ازالہ کرتا ،جس کی وجہ سے لوگ بھی خوش تھے اور آفیسران بھی حرکت میں آجاتے تھے ۔۔۔،،
آج بھی وہ لوگوں کے مسائل سُن رہا تھا کہ ایک نحیف معمر شخص دفتر میں داخل ہوتے ہی اُس کے پاؤں پکڑتے ہوئے بولا۔۔۔،،
خُدا کے لئے مجھے بچائیے ۔۔۔۔!خُدا کے لئے مجھ سے انصاف کیجئے۔۔۔،،
اُس نے معمر شخص کو کاندھوں سے پکڑ کر اوپر اُٹھاتے ہوئے کہا،،یہ کیا  کر رہے ہیں آپ ؟مجھے گنہگار کررہے ہیں ۔۔۔! ہاں بتاؤ کیا بات ہے ؟ اتنے میں اُس نے چپڑاسی کو پانی لانے کے لئے کہا ،،پانی کا گلاس حلق سے اُتارنے کے بعد معمر شخص نے  اپنا آپ سنبھالتے ہوئے کہا۔۔۔،،
کیا کہوں مائی باپ مجھے میرے بیٹوں نے گھر سے نکال دیا ہے ،وہ کہتے ہیں کہ یہ مکان اب ہمارا ہے تم سرکاری گھر میں رہو۔۔۔! جس اولاد کے لئے میں نے اپنا پیارا گاؤں چھوڑا، رشتہ دار چھوڑے،  اپنی جڑوں سے کٹ گیا تاکہ یہ پڑھ لکھ کر زندگی میں کسی قابل بن جائیں ، ان کا مستقبل سنور سکے، جس گھر کو میں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے بنایا اُس پر آج میرا کوئی حق نہیں ؟ آپ ہی بتائیں میں کہاں جاؤں اس  عمر میں ؟ جب تک جسم میں طاقت  تھی محنت کرکے اُن کو پالا پوسا،جوان کیا،آج جب وہ کسی لائق ہوگئے اور اب میرے جسم میں وہ سکت نہیں رہی  تو میں اُن کے کام کا نہیں رہا۔۔۔،،
کیا نام  ہے آپ کا بابا ؟ کلکٹر نے نہایت ہی حلیمی سے پوچھا ،،
اخلاق خان ۔۔۔! اُس نے آنسو بہاتے ہوئے جواب دیا ،،
آپ رونا بند کرو۔۔۔! آپ کی عمر کتنی ہے ؟
یہی کوئی پچتھر سال ہوگی ،اُس نے آستین سے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔،،
اچھا بابا....! یہ بتاؤ،آپ کام کیا کرتے تھے ؟
میں نرا ان پڑھ ہوں مائی باپ ،،،،شہر کی مارکیٹ میں چوکیداری کرتا تھا ۔۔۔۔،،
چوکیداری ؟.کلکٹر کے مُنہ سے بے ساختہ نکلا اور اُس کے کانوں میں، جاگتے رہو ۔۔۔۔۔جاگتے رہو۔۔۔۔۔۔۔۔!کی آواز گونجنے لگی،، 
ہاں مائی باپ ،چوکیداری ۔۔۔! عیال کو پالنے کے لئے کچھ تو کرنا تھا ،سو چوکیداری کر لی ۔۔۔،،
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔! آپ بے فکر رہیں آپ کو کوئی گھر سے نہیں نکالے گا ،،
دیکھو  !  ان  کو ساتھ لے جاؤ اور ان سے پتہ معلوم کرکے ان کے تینوں بیٹوں کو میرے سامنے حاضر کرو ،اُس نے ناظر سے کہا ،،ناظر اخلاق خان کو ساتھ لے کر دفتر سے باہر نکل گیا تو ظہور احمد  اپنے ماضی میں کھو گیا ۔۔۔،،
وہ دور داراز گاؤں کے رہنے والے تھے۔ اُس کا باپ ممدو  بچوں کو تعلیم.دلانے  کے لئے شہر مُنتقل ہوگیا تھا، جہاں وہ شہر کے بڑے بازار کی چوکیداری پر مامور ہوگیا، جہاں سے اُسے اچھی خاصی رقم بطورِ تنخواہ مل جاتی تھی جس سے وہ اپنے عیال کی کفالت کرتا تھا۔ اُس کی تینوں اولادیں تعلیم کےزیور سے آراستہ ہورہی تھیں سب سے بڑا ظہور تھا جو بی اے فائنل ایر میں تھا زندگی سادگی اور آرام سے گزر رہی تھی اور وہ اس سے خوش بھی تھے کہ ایک رات دورانِ گشت ممدو نے دیکھا دفعتاً ایک دُکان میں سے آگ نمودار ہوئی  اُس نے جلدی سے فائر سروسز کو فون کردیا اور خود آگ بجھانے کی کوشش کرنے لگا تاکہ آگ مزید نہ پھیلے۔ اُس نے تنِ تنہا بڑی جرأت مندی سے آگ کو پھیلنے روک دیا  دریں اثنا وہ بُری طرح جُھلس گیا باقی کام آگ بجھانے والے عملے نے کردیا اور بازار کی ساری دکانیں جلنے سے بچ تو گئیں لیکن ممدو نے وہیں دم توڑ دیا۔۔۔،،
اب جب کہ گھر میں کمانے والا کوئی نہیں تھا گھر کیسے چلتا،تقریباً ایک ماہ تک بازار کمیٹی مدد کرتی رہی کیونکہ ممدو نے اپنی جان گنوا کر باقی دکانوں کو بچایا تھا، لیکن ظہور کے ضمیر نے یہ گوارا نہیں کیا کہ وہ باپ کی قربانی کے عوض مُفت میں کھاتا رہے آخر یہ کب تک چلتا ؟اس کا  ضمیر بیدار ہوگیا ایک دن اُس نے بازار کمیٹی کے صدر سے کہا ،،آپ نے جتنی مدد کرنی تھی کرلی ،اب اگر آپ  کچھ مدد کرنا ہی چاہتے ہیں تو مجھے والد کی جگہ چوکیداری کے لئے رکھ لیجئے!  یہ سُن کر صدر ششدر رہ گیا لیکن ظہور نے کہا کہ اب وہ آپ سے مُفت میں کچھ بھی نہیں لے گا تو صدر کی آنکھیں فرط جذبات سے بھر آئیں ،اُس نے ظہور سے کہا۔۔۔،،
لیکن بیٹا تمہاری پڑھائی کا کیا ہوگا ؟ظہور نے جیسے پہلے ہی اس سوال کا جواب سوچ رکھا تھا ،اُس نے کہا ،،آپ اُس کی فکر نہ کریں میں دن میں کالج جایا کروں گا اور رات کو اپنی ڈیوٹی نبھاؤں گا ،میں آپ کو شکایت کا موقعہ باکل نہیں دوں گا ،آخر کار بازار کمیٹی نے ظہور کو یہ سوچ کر چوکیدار  رکھ لیا کہ اس کے باپ نے بڑی ایمانداری  اور وفاداری سے اپنی ڈیوٹی نبھائی تھی ۔۔۔،،
اس طرح ظہور نے گھر کو بکھرنے نہیں دیا۔ ایک طرف ماں کی بیماری اوپر سے دو بہن بھائیوں کی تعلیم کا خرچہ ۔۔۔،،اُس نے گریجویشن مکمل کر لی ۔۔۔ رات کو وہ چوکیداری کرتا اور دن کو لائیبریری میں بیٹھ کر کُتب کا مطالعہ کرتا ،آج تک تو اُسے والد سے ہر چیز ایک ہی حُکم پر میسر ہو جاتی لیکن اب اُسے احساس ہو ریا تھا کہ اُس کے باپ کو کتنی مشقت کرنی پڑتی تھی اُن کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ۔۔۔،، دن کو وہ کسی دکان پر بطورِ سیلز مین کام کرتا اور رات کو اپنی آنکھوں کا تیل جلا کر بازار کی رکھوالی کرتا تھا،، لائبریری میں کافی تعداد میں نوجوان مسابقتی امتحان کی تیاری میں مصروف تھے۔ دورانِ مطالعہ اُس کے ذہن میں آیا کیوں نہ وہ بھی مسابقتی امتحان کی تیاری کرے ، پھر وہ پوری طرح جُٹ گیا، دو سال کے عرصہ میں اُس نے خود کو امتحان کے لئے تیار کرلیا ،،
پرلمنری میں اُس نے اچھے خاصے نمبرات لائے تھے، اُس کے بعد مینز میں بھی وہ کامیاب رہا ،اب جبکہ اہم مرحلہ پرسنلٹی ٹیسٹ کا تھا ،وہ سہما سہما انٹرویو کے لئے کمرے میں داخل ہوا اور اجازت لےکر کُرسی پر بیٹھا تو اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ، خُدا کا نام لے کر اُس نے تمام سوالات کے جوابات دئیے اور سب کچھ خُدا پر چھوڑ کر کمرے سے نکل آیا ۔۔۔،،
دن گُزرتے گئے۔ وہ چوکیداری کی ڈیوٹی برابر نبھاتا رہا ۔تقریباًڈیرھ سال کے بعد نتائج منظرِ عام پر آئے تو وہ کامیاب اُمید واروں میں سرِ فہرست تھا۔بازار کمیٹی والوں نے اُس کے اعزاز میں عشائیے کا انتظام کرکے اُسے وہاں سے رُخصت کیا۔۔۔،،
سر یہ ہیں اخلاق خان کےتینوں بیٹے   ! ناظر کی آواز سے اُس کی سوچوں کا سلسلہ منقطع ہو گیا ،اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا تو اُس کے سامنے تین ہٹے کٹے جوان سر جُھکائے کھڑے تھے اُس کا چہرہ غُصے سے سُرخ ہوگیا۔۔۔،،
آپ تینوں کو شرم آنی چاہئے۔۔۔!!!
جس باپ نے تمہں جوان کرنے کے لئے اپنی جوانی  شہر کی چوکیداری میں گُزار دی ،آج تم اُس کی قربانیوں کا یہ صلہ دے رہے ہو ،اُسے گھر سے نکال کر در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے سر راہ چھوڑ رہے ہو۔۔۔،،
افسوس ہے تم جیسی اولاد پر۔۔۔،،آج تم جو سلوک اپنے باپ سے کر رہے ہو کل وہی سلوک تمہاری اولاد بھی تمہارے ساتھ کرے گی ۔۔،،
اس عمر میں والدین کی ضرویات پوری نہ کرنے اور ان کی تذلیل کرکے گھر سے نکالنے کی پاداش میں تم تینو ں کو چھ ماہ کے لئے جیل بھیجا جاتاہے ،اُس نے کاغذ پر کچھ لکھ کر پین نیچے رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔،،
بس بابا اب تم خوش ہو ؟ اب یہ گھر تمہارا ہے ۔۔۔ب تمہیں کوئی گھر سے نہیں نکالے گا۔۔۔ سرکاری گھر میں اب تم نہیں یہ تینوں رہیں گے _لے جاؤ ان کو  پولیس کی حراست میں دے دو ۔۔۔،،
اُس نے اخلاق خان کے چہرے کے تاثرات پڑھتے ہو ئے کہا ۔۔۔،،
ناظر اُن تینوں کو کمرے سے باہر لے جانے لگا تو اخلاق خان نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔۔،،
مائی باپ آپ نے فیصلہ تو سُنا دیا لیکن میری ایک عرض سُن لیجئے ۔۔۔!
ہاں ہاں  بے فکر ہو کر  بولو کیا کہنا چاہتے ہو ؟
اب تمہیں ان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں!
مائی باپ میرا دل یہ کیسے گوارا کرے گا کہ میں عالیشان مکان میں رہوں اور میرے لخت جگر جیل میں ۔۔۔۔! انہیں معاف کر دیجئے حضور۔۔۔
یہ الفاظ سُن کر کلکٹر ظہور کا گلا رُند گیا اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں،اُس نے میز پر سے لکھا ہوا کاغذ اُٹھایا اور پُرزے پُرزے کر کے کوڈے دان میں ڈال دیا ۔۔۔
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر،موبائل نمبر؛9419463487