۔4جی کی بحالی کیلئے وزیراعظم سے ڈاکٹرفاروق کی اپیل | باتیں 28ہزارکروڑ پیکیج کی،80 ہزارکروڑ کا کیا ہوا؟

تاریخ    18 جنوری 2021 (00 : 12 AM)   
(عکاسی: میر عمران)

نیوز ڈیسک
جموں//نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کی ہے کہ جموں کشمیر میں4جی انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے اس سہولیت کے نہ ہونے اور سخت موسم سرماسے لوگوں کو درپیش مشکلات کواُجاگر کیا۔انہوں نے کووِڈ- 19ٹیکہ کاری کی کامیابی کی دعاکی اور لوگوں پرزوردیا کہ وہ مجموعی ترقی اورخوشحالی کیلئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوہرحال میں برقرار رکھے۔ ایک کتاب کے اجراء کی تقریب پرڈاکٹر فاروق نے کہا،’’وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ 5جی بھارت میں آرہا ہے جبکہ ہمیں 4جی انٹرنیٹ موبائل سے محروم رکھاجارہا ہے،کرسی چھوڑ کر انہیں یہاں آناچاہیے اور یہاں رہ کر دیکھیں کہ ہم کس طرح 2جی(خدمات) میں جی رہے ہیں‘‘ ۔ گجردیش خیراتی ٹرسٹ کے اہتمام سے منعقدہ تقریب پراس کے سرپرست مسعوداحمدچودھری سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس اور باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مسعود احمدچودھری کی سوانح حیات کے اجراء کے موقعہ پرڈاکٹر فاروق نے کہا،’’طلاب گھروں میں بیٹھے ہیں اور وہ انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم حاصل کررہے ہیں ، تاجروں کاانحصار بھی انٹر نیٹ رابطے پر ہے،میں وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جگہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے ،خداکیلئے ہمیں 4جی دیدوتاکہ ہم اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور ہم آگے بڑھ سکیں‘‘ ۔ فاروق عبداللہ نے سرینگرجموں شاہراہ پرجھولا پل تعمیر کرکے ٹریفک کو بحال کئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’’یہاں28000کروڑ روپے کے پیکیج کی باتیں ہورہی ہیں ،پہلے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس سے قبل کے80000کروڑ روپے کے پیکیج کا کیا ہوااورکہاں یہ پیسہ گیا؟ہماری حالت دیکھئے اوراگریہاں فوج نہیں ہوتی سرینگرجموں شاہراہ ایک سال بندرہتی‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جموں کشمیرمیں لوگوں کو منفی درجہ حرارت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا،’’میں کشمیرمیں  درپیش مشکلات کے بارے میں کیا کہوں،جہاں بجلی نہیں ،پٹرول،ڈیزل اور تیل خاکی کی قلت ہے اور روزمرہ کی چیزوں کی کمی ہے،جموں ،کشمیر کادروازہ ہے اوریہ دل پراثر کرنے والی بات ہے کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کشمیرکیلئے ریل رابطہ2007تک مکمل کرنے کا وعدہ کیاتھا اور اس کو موجودہ حکومت نے2022تک بڑھایا ہے ۔امید ہے کہ یہ2040 میںنہ بن جائے جب میں زندہ نہیں ہوں گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بھائی مصطفی کمال کو نصیحت کی ہے کہ وہ سرینگر جموں شاہراہ پرسفرنہ کریں کیوں کہ اس پر جگہ جگہ پتھر گرآتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں سیاست نہیں کررہا ہوں،یہ جموں کشمیرکی آج کی حالت ہے،کل میں نے دہلی کے وزیراعلیٰ کا نئے سال کا مبارکبادی کا کارڈ وصول کیا اور پانچ روزقبل باہرکے ملک سے نومبر میں بھیجی گئی چھٹی وصول کی،میں نے اُسے فون کیا اورکہا کہ وہ آئندہ کوئی خط نہ بھیجا کر یں ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے اور موجودہ حکومت نے صارفین کوچوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیاتھا۔انہوں نے کہا کہ یہ دارالحکومتوں کاحال ہے میں نہیں جانتا گائوں دیہات اور دوردراز علاقوں کی صورتحال کیا ہے۔اس موقعہ پرانہوں نے ٹرسٹ پرزوردیا کہ وہ چودھری کی کتاب کا اردو میں ترجمہ کرائیں اورکہا کہ وہ سوچتے ہیں کہ اردومسلمانوں کی زبان ہے لیکن نہیں جانتے کہ یہ صرف مسلمانوں کی ہی زبان نہیں بلکہ ملک کی ایک زبان ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ ہم مر جائیں گے لیکن زبان(اردو) رہے گی اوریہ بھارت کی شناخت ہے۔
 

تازہ ترین