حالیہ برف باری اورمکررتجربہ | انتظامیہ کا اقبالِ جرم بَجا،مجرم کو سزا بھی دی جائے

کڑواسچ

تاریخ    18 جنوری 2021 (00 : 12 AM)   


عبدالقیوم شاہ
جنوری کے آغاز میں وادی کے اطراف و اکناف میں بھاری برف باری ہوئی۔سرینگر میں بھی اڑھائی فٹ برف نے زندگی کا پہیہ جام کردیا ، مفصلات اور دْور دراز پہاڑی علاقوں کی حالت سب پر عیاں ہے۔ محکمہ موسمیات اور دیگر ماہرین نے یہ نام نہاد اعلان کردیا کہ چالیس سال بعد اس طرح کی برفباری ہوئی ہے اور انتظامیہ نے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کردئے کہ ’’چالیس سال سے ہمارے پاس برف ہٹانے کی جدید مشینری نہیں ہے‘‘۔ مشرقی یورپ، روس، امریکہ کے الاسکا، ایریزونا اور خطہ ٔ ارض کے مختلف گوشوں میں دس دس فٹ برف ہوتی ہے، لیکن ہمارے یہاں برف باری کا مطلب کچھ اس طرح ہے؛
بجلی بند
پانی بند
سڑکیں اور پل بند
انٹرنیٹ تو پہلے ہی بند ہے
امتحانات ملتوی
نوکریوں کے انٹریوز کا التوا
تعمیراتی کام ٹھپ
دفتروں میں کم حاضری سے کام کاج بند 
سائلین کی فائلیں الماریوں میں بند
سرینگر۔جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک بھی بند
اول تو مجھے ’’پہلی بار‘‘  کی اصطلاح پر جائز شک ہے۔ یہ سب میڈیا میں اس لئے اْچھالا جاتا ہے تاکہ انتظامیہ کوBenifit of Doubtدیاجائے۔ تاکہ یہ کہا جائے کہ ’’انتظامیہ کیا کرسکتی ہے، غیرمتوقع طور پر چالیس سال بعد ایسا ہوا ، اب جو کچھ ہورہا ہے اس کو ہی غنیمت جانئے‘‘۔ 
2019  میں نومبر کے شروع میں ہی تباہ کن برف باری ہوئی تھی۔ بجلی کا بحران تو پیدا ہوا لیکن سڑکوں پر برف ہفتوں تک جمع نہیں رہی۔ اس سال ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ’’پہلی بار‘‘ یہ مصیبت آن پڑی ہے۔ 2018 میں بھی شدید برف باری کے بعد درجہ حرارت صفر سے کئی ڈگری نیچے چلاگیا تو جھیل ڈل کی سطح جم گئی اور اْسوقت کے ڈویڑنل کمشنر کو باقاعدہ بْلیوارڈ کا گشت کرنا پڑا، یہاں تک کہ جھیل کی جمی سطح پر مستیاں کرنے والوں کو نقد جرمانے اور قید کا انتباہ دینا پڑا۔ مسلہ یہ ہے کہ غافل انتظامی حکمران اپنی ناہلیوں اورسہل کوشی کو عوام کی قلیل المدّت یاداشت کے پیچھے پوشیدہ رکھنے کی گِھناونی کوشش کرتے ہیں اور سادہ لوح عوام بھی اس سحر میں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ 
پہلی بات یہ کہ جب کشمیر میں قدِآدم برف ہوتی تھی تب بجلی بھی فوراً بحال ہوجاتی تھی اور پینے کے پانی کی قلّت سردیوں میں کبھی سْنائی نہیں دی۔ اور یہ تب کی بات ہے جب سے نصف درجن واٹرسپلائی سکیمیں تعمیر کرکے چالو بھی کردی گئی ہیں۔
پہلے ہم تازہ برف باری کی بات کرتے ہیں۔ سرینگر کے میئر جْنید عظیم متو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ چالیس سال سے کارپوریشن کو برف ہٹانے کی کوئی مشین نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پچھلے سال 6 کروڑ روپے کا تخمینہ جدید مشینری کے لئے بنایا گیا اور منصوبہ منظور بھی ہوا، پیسہ محکمے کے پاس بھی ہے، لیکن چند افسران نے لیت و لعل سے کام لے کر مطلوبہ مشنری خریدنے کا عمل شروع ہی نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عنقریب ایسے افسروں کے نام ظاہر کریں گے جوبلاجواز عوام کو مصائب میں دھکیل رہے ہیں۔
 ان الزامات پر میونسپل کارپوریشن کے کمیشنر یا مکانات و شہری ترقی کے محکمے نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ عام شہری اس کا مطلب یہی نکالے گا کہ دال میں بہت کچھ کالا ہے۔ پچھلے ہی سال قانون بنایا گیا جسکی رْو سے نااہل اور عدم کارکردگی کے حامل افسروں کو فوراً سبکدوش کیا جائے گا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو لیفٹنٹ گورنر اور اْن کے مشیر کس گھڑی کے انتظار میں ہیں؟ 
سینکڑوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر عام ہوئے جن میں عام لوگوں کو خود سڑکوں سے برف ہٹاتے دکھایا گیا، پہاڑی دیہات سے لوگوں نے بیماروں کو چارپائی پر برفیلی پہاڑیوں سے کِھسکاتے ہوئے ہسپتال پہنچایا اور سرینگر۔جموں شاہراہ پر ہزاروں درماندہ مسافر اور ٹرک ڈرائیور ٹھٹھرتے ہوئے اللہ اللہ کرتے نظر آئے۔ 
جہاں تک سرینگر سے جموں تک کی 300 کلومیٹر طویل اور دشوار گذار شاہراہ کا تعلق ہے تو کہ یہ شاہراہ پچھلے 70 سال سے مسلسل توجہ طلب رہی ہے۔ صرف اتنا بدلا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے وقت یہ ’’بانہال کارٹ روڑ‘‘ یعنی تانگے کے لئے موزون سڑک تھی، اور اب اس پر گاڑیاں چلتی ہیں۔ سڑک کو جموں کی طرف چارگلیاروں والی بنایا گیا ہے لیکن جواہر ٹنل کے آر پار کئی پہاڑیوں کو چیر پھاڑ کرکے جو نئی سْرنگیں نکالی گئی ہیں اْن کی تعمیر کے وقت ماہراین ارضیات سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا اور نتیجہ یہ پہاڑ اندر سے کھوکلا ہوگیا اور معمولی بارش یا برف سے سڑک دھنس جاتی ہیاور پسیاں گرتی ہیں، پھر شاہراہ نہ صرف ہفتوں بند رہتی ہے بلکہ اس پر سفر بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف بن جاتا ہے۔ 
یہ پہلا موقعہ ہے کہ بارڈر روڈس آرگنائزیشن (بی آر او) جیسی جنگی تنظیم لوہے کا بیلی برِج بنارہی ہے۔ صدہیف اس انتظامیہ پر جو چھاتی تان کر یہ شرمناک اعتراف کرتی ہے کہ دس روز تک سڑک بند رہے گی اور بی آر او اس تذویراتی شاہراہ پر فوج اورنیم فوجی کاروانوں کے نقل و حمل کی خاطر بیلی برِج پر ہنگامی کام شروع کرتی ہے۔ منموہن سنگھ سے نریندر مودی تک کے ادوار میں لاکھوں کروڑ روپے کے پیکیج کا جو اعلان کیا گیا تھا اْس میں سے خطیر رقوم نیشنل ہائی وے کے لئے مخصوص تھی، اْس پیسے کا کیا ہوا؟ 
تِبّت کو چین کے ساتھ ملانے والی خطرناک ترین ہمالیائی سڑک پر چینی حکومت نے 1200 کروڑ روپے کی لاگت سے دْنیا کی بلند ترین ٹنل تعمیر کرکے تِبّت کو 2016 میں ہی چین کے ساتھ ملا دیا ہے۔ چین نے یہ کارنامہ فقط چار سال کی مدت میں کردِکھایا اور ہم پونے تین سوکلومیٹر کی شاہراہ پر سات دہائیوں سے لگے ہوئے ہیں۔ تِبّت ہائی وے کا مقابلہ جموں ہائی وے سے کیجئے تو آپ دھنگ رہ جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے جو سڑک بنائی اور اس پرجو دنیا کی بلند ترین ٹنل تعمیر کی ہے وہ پوری دْنیا میں خطرناک ترین ٹوپوگرافی ہے، اس پر سال بھر پسیوں اور چٹانوں کے کھسکنے کا خطرہ رہتا ہے، لیکن اس کا انتظام بھی نہایت مہارت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
ہمارے یہاں اس سال کی برف باری کو ہی لیجیے۔ نومبر 2019 کے تجربات کو دیکھتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے مْشیر مسٹر بٹناگر نے پچھلے سال ستمبر میں ہی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی جس میں سبھی متعلقین نے شرکت کی۔ بٹناگر نے اعلان کیا کہ برف ہٹانے سے متلق پیشگی تیاری نہایت اہم ہے۔ انہوں نے میٹنگ میں اعلان کیا کہ اٹلی سے چار جدید ترین مشینیں خریدی جارہی ہیں۔ بعد ازاں اکتوبر میں ڈویڑنل کمشنر پی کے پولے نے ایک اور میٹنگ میں یہ تصدق کی کہ یہ مشینیں خریدی جاچکی ہیں اور ان میں ایک جموں صوبے جبکہ باقی تین کشمیر کے لئے مختص ہیں۔ پھر نومبر بھی اور دسمبر بھی۔ اگر اس سب کے باوجود دو ہفتوں تک برف سے سڑکیں ڈھکی رہیں تو ایل جی آفس کو گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ بلکہ ابھی بھی سڑکیوں کے حاشیوں پر برف کے ڈھیر ہیں جسکی وجہ سے سر پھٹادینے والا ٹریفک جام اب روز کا معمول بن رہا ہے۔ گاڑیوں کے طاق اور جفت نمبروں کے حساب سے سڑک پر چلنے کے قانون کا شوشہ ڈالنے والے جونیئر افسر ایک بار یہ سوچتے کہ ٹریفک جام کی اصل وجہ کیا ہے؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں اب انتظامیہ اخباری سْرخیوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے، زمینی سطح پر عام لوگ اس احساس میں جی رہے ہیں کہ قوانین کی پاسداری بھی وہی کریں، ٹیکس بھی وہی ادا کریں اور ناہل و غیرمخلص افسران کی غلطیوں کا خمیازہ بھی وہی بھگتیں۔ 
بجلی اور جل شکتی محکمے کے کئی چیف انجینئروں نے پچھلے دو سال کے دوران دو سو مرتبہ جھوٹ بولا۔ سرینگر میں آلسٹینگ گِرڈ سٹیشن ہو یا مل شاہی باغ میں پینے کے پانی کی پائپ پر پڑا شگاف، اڑھائی سال سے افسران ایک دوسرے کا نام لے کر پتلی گلی سے نکل رہے ہیں۔ ایسے افسروں سے کون جواب طلب کرے گا؟ وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر میں جو لوگ بھی تعینات ہیں اْنہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کشمیر میں ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے لئے حالات کتنے سازگار ہیں۔ کیا یہاں بجلی کی فراہمی بلاخلل ہے، پینے کے پانی کا کیا حال ہے، سڑکوں پر نقل و حمل کا کیا منظر ہے وغیرہ۔ کشمیریوں کو اخباری سرخیوں سے بہلانے کی روایت اب فرسودہ ہوچکی ہے۔ کچھ تو ڈھنگ کا ہو جو نظر آئے۔
یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ آیا لوگوں کو اجتماعی طور مصیبتوں سے دوچار رکھنا کوئی سرکاری پالیسی ہے یا پھر ناہل افسران اس قدر لاڈلے ہیں کہ اْنہیں کم از کم جواب دہ بھی نہیں بنایا جاسکتا ہے۔اگر سردیوں میں عبورومرو، بجلی ، پانی اور ضروری اشیاء کی ایک ساتھ قلّت ہوجائے تو انتظامیہ کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ 
ایل جی سنہا اور اْن کے مشیروں کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ اگر کشمیری افسر کام نہیں کررہے یا وہ نااہل ہیں تو اْنہیں بدل دیا جائے۔ ویسے بھی تقریباً ہر ضلع میں غیرمقامی ڈی سی ہیں، پولیس کی قیادت کم و بیش باہر والوں کے ہاتھ میں ہے، پالیسی سازی پر بھی غیرکشمیری مامور ہیں۔ اب اگر نچلی سطح پر عمل آوری کا فقدان ہے تو افسروں کو نئے قانون کے تحت سبکدوش کیا جائے۔ پھر دیگرریاستوں کے فعال اور قابل افسر تعینات کئے جائیں اگر واقعی مقامی افسر نااہل ہیں۔ 
حکمران جب رعایا کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں تو معاشرے میں لاقانونیت اور انارکی پھیل جاتی ہے۔ کیا ایل جی انتظامیہ اسی لاقانونیت اور انارکی سے خوش ہے؟ کیا اس سب میں وزیروں جیسے مزے لْوٹنے والے مْشیر شریک ہیں؟ کیا یہ انتظامیہ چند سرمایہ داروں اور بڑے ٹھیکیداروں کے لئے محض دولت اِکھٹا کرنے کا ایک ذریعہ ہے؟ کیا کوئی اخلاقی پہلو نہیں جس کی بنا پر انتظامیہ سے سوال کیا جاسکتا ہو؟ 
اگر دہائیوں پْرانے قوانین راتوں رات بدل سکتے ہیں تو انتظامیہ پر دہائیوں سے لگا زنگ ہٹایا کیوں نہیں جاسکتا۔ لیفٹنٹ گورنر کومثال قائم کرنی چاہیے۔ پچھلے تین ہفتوں کے دوران جو کچھ ہوا اْس کی بنا پر بجلی، پانی اور بلدیاتی اداروں کے سربراہوں اور اْن کے معاونین کو فوراً نوکریوں سے نکال دیا جائے۔ اس طرح کے سخت گیر قدم کی ضرورت ہے، کیونکہ جب حالات غیرمعمولی ہوں تو غیرمعمولی اقدامات کی حاجت ہوتی ہے۔ ایسا نہ کیا گیا تو عام شہری کا یہ قیاس حقیقت کا روپ دھارن کرے گا کہ انتظامیہ لوگوں کو اجتماعی طور سزا دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور جو کچھ انتظامیہ کے نام پر ہورہا ہے وہ محض چند مْٹھیوں کو گرم کرنیکا فقط ایک بہانہ ہے۔
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں)
 رابطہ ۔ 9469679449
abdulqayoomshah57@gmail.com 
 

تازہ ترین