خار زارِ محبت

کہانی

تاریخ    17 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ناصر ضمیر
ہال میں ہنگامہ ہوا
کچھ لوگ جذباتی ہوکر کرسیاں توڑنے لگے تو کچھ لوگ سٹیج کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔جبھی کسی نے آواز دی
" ارے آگ لگا دو۔۔۔۔۔ آگ"۔ 
ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اس ہال میں لوگ ایک ایک، دو دو کر کے جمع ہورہے تھےاور یہ سب سٹیج ڈراما دیکھنے کے مشتاق تھے۔ انھیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ کچھ دھیر بعد یہ سب ہوگا۔ 
ڈیڑھ گھنٹہ پہلے 
"حیرت کی بات ہے "
"کیا ؟"
"اور نہیں تو کیا، بالکل حیرت کی بات ہی تو ہے"۔
"آخر کیا بھلا؟"
"ہم کتنی مدّت سے ساتھ ہیں؟" 
"ہاں۔۔۔۔ ہیں تو "
"پر .........
’’پر کیا؟"
"پر میں نے ابھی تک تمہارے کان نہیں دیکھے ہیں ۔"
وہ حسبِ معمول یونانی وضع کا سکارف سر پر جمائے آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے ایک گھنٹے کی مشاقانہ محنت کو فائنل میک اپ ٹچ دے رہی تھی اور ہنس بھی رہی تھی  
ہا۔ہا۔ہا........
"کیسی باتیں کر رہے ہو........مسیح!"اس نے پھرتی سے چلتے ہوئے ہاتھ کو روکا اور
 ہی.....۔ہی......۔ہی ۔۔۔۔ہا۔ہا۔ہا
"میری ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے مسیح ۔۔۔۔یہ کیسی باتیں کررہے ہو۔!"
"تم ہنس رہی ہو اور مجھے عجیب شک نے گھیر لیا ہے ۔"
"کس طرح کےشک نے گھیر لیا ہے جناب ؟"
"کہ ۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔کہیں تم کن کٹی تو نہیں"
ہا۔۔۔۔۔ہا۔۔۔۔۔ہا۔۔۔اب اس نے برش نیچے رکھ دیا اور اس کی طرف مڈ گئی۔
"نہیں جناب، ایسا کچھ بھی نہیں ہے "۔شیریں نے اپنی ہنّسی پہ قابو پاتے ہوے کہا اور ساتھ ہی بول پڑی 
"ہاں البتہ میرے ہاتھ .......".اس نے اپنے دودھیا بھرے بھرے ہاتھوں کی طرف مایوسی سے دیکھا۔
"ہاتھوں کو کیا ہوا اچّھے خاصے تو ہیں؟" 
"نہیں مرا مطلب کہ یہ میرے ہاتھ  عورتوں جیسے تو بالکل نہیں۔۔۔۔وہ اب بھی ہنس رہی تھی اور مسیح اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا۔
کچھ وقفے کے بعد 
"او۔مسیح
کتنی بار کہوں تمہیں 
میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کیا کرو ،مجھے اچّھا نہیں لگتا "۔
"اچّھا نہیں لگتا !۔۔۔۔۔ چلونہیں  کرتا پر ۔اتنا تو بتا دو کہ  تمہیں  اچّھا  کیا  لگتا ہے ؟"۔
"تم سے مطلب ........تمہیں کیوں بتاوں؟" 
"اچّھا، نا بتاو کم سے کم مجھ سے بات تو کرسکتی ہو یا پھر تمہیں اس پر بھی اعترض ہے ؟"
"کون سی بات ؟"
"کس طرح کی بات؟" 
"بہت بولتے ہو تم مسیح، بہت بولتے ہو تم "
تبھی میک اپ روم میں ایک بندہ داخل ہوا اور مسیح نے ایک آہ بھری اور سگریٹ سلگا لیا
 "چلیے جناب پردہ اٹھنے کی تیاری ہے۔ "
"تم چلو ہم بھی ابھی آتے ہیں ۔"
"شیریں" 
"ہوں" 
"کیا ؟"
"کیا تمہیں مجھ سے بات کرنا اچّھانہیں لگتا؟" 
"سچ کہو ......کیا۔۔۔۔۔کیا تمہیں مجھ سے محبت نہیں ؟ .....کیا میں اتنا برا ہوں ؟  
"سٹیج پر جانے سے پہلے ایک نظر مجھے دیکھ تو لو ،تاکہ مجھے  بھی کچھ سکون ملے "۔
شیریں کچھ غصہ ہوئی اور جھنجھلا کر بولی ۔
"کتنی بار کہوں ,مجھے یہ سب اچّھا نہیں لگتا ۔"
"شیریں ایک بار، صرف ایک بار، میرے دل کی بات سن تو لو ۔"
پھر وہی بندہ آیا 
"چلیے آجایئے ٹائم ہوگیا ہے ۔"
شیریں خود سے بڑ بڑائی 
"پتہ نہیں مجھے اس ڈرامے سے کب نجات ملے گی، ایک ہی پلے کرتےکرتے اب میں تھک چکی ہوں ۔"
"کیوں ۔۔کیوں اس دنیا کیا میں ایک ہی کہانی لکھی گئی ہے؟"
"اور اس کہانی کاایک ہی کردار نبھاتے نبھاتے میں اب کافی تنگ آچکی ہوں" ۔
"مسیح ۔۔۔۔۔۔۔۔"
"ہیں"۔
"مسیح
سن رہے ہو نا؟"
"میں اب یہ ڈراما،اس کا کردار نبھاتے نبھاتے اوب چکی ہوں،کیا واقعی تمام دنیا میں بس یہی ایک کہانی،یہی ایک پلے لکھا گیا ہے ۔؟"
"اور دیکھو نا، ان نا مراد لوگوں کو یہ ۔۔۔۔۔یہ لوگ یہ ڈراما دیکھ دیکھ کے تھکتے بھی نہیں "
"مسیح تم سن رہے ہونا ؟"
" ہاں  ہاں سن رہا ہوں اور تمہاری بات سے اتفاق بھی ہے ,مگر۔۔۔۔۔۔۔۔مگر
شریں تم بھول رہی ہو ۔۔۔بھول رہی ہو کہ یہ ڈراما اور اس کی یہ کہانی ہماری روایت اور ہمارے ثقافتی  ورثے کا حصہ ہے, اور اس ڈرامے کو لوگ نہ صرف عظیم مانتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ اب ہم سب کی جذباتی وابستگی  بھی ہے ۔میرا تو ماننا ہے یہ کہانی اب  ہمارے عقیدے میں شامل ہوچکی ہے۔"
"اب تو لوگ یہ پلے  دیکھنا بھی ایک ۔۔۔۔۔"
"خیر مجھے پتہ نہیں کہ دنیا میں کہیں اور  کوئی کہانی لکھی بھی گئی ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر ہماری دنیا تو بس یہی ہے اور اتنی ہی ہے اور ہم سب اسی میں خوش ہیں۔ ویسے میں تمہیں کیوں سمجھا رہا ہوں؟"
تھوڑے توقف کے بعد
"تمہیں کچھ سمجھانے  کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہم لوگ یہ کردار  بہت دنوں سے سٹیج پر نبھاتے آرہے ہیں ۔  ہم سے پہلے بھی لوگوں نے یہ کردار نبھائے ہیں اور آیندہ بھی یوں ہی نبھاتے جائیں گے اور سب اسی میں خوش ہیں ۔"
"خوش۔۔۔۔خوشی۔۔۔۔۔"شیریں نے مسیح کی بات کاٹتے ہوے کہا" اپنی خوشی کا تو سب کو خیال ہے پر ۔۔۔میرا کیا ۔۔۔۔میرا کیا ؟
"ویسے بھی اس کہانی میں اتنا کیا ہے؟"
"ایک سپاٹ سی کہانی ہی تو ہے !"۔
"پہلے سین میں" 
تم دیوتاؤں سے آشیرواد لےکر مجھ سے ملنے آتے ہو اور کہتے ہو۔
" میں جنگ پر جا رہا ہوں "
اور جانے سے پہلے تم  اپنی محبوبہ یعنی مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ "میں واپس آؤں گا،ضرور آؤں گا،" "صرف واپس ہی نہیں،بلکہ فتح یاب ہوکر لوٹوں گا"
" بس تم میرا انتظار کرنا اور اپنی ہمت بنایئے رکھنا"
 اور میں یعنی تمہاری محبوبہ کہتی ہوں ۔
"میرے محبوب" 
"میں تمہاری امانت ہوں" 
" میں تمہارا انتظار کروں گی "
" ضرور کروں گی پر اگر تم نہیں لوٹے، تو میں تمہارے انتظار میں جان دے دوں گی "۔
دوسرے سین میں تم لوٹ آتے ہو 
پر جب تم واپس لوٹتے ہو تو تم دیکھتے ہو کہ تمہاری محبوبہ کو کوئی اور اپنے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف لے گیا ہے،تم بہت افسردہ ہو جاتے ہو ۔پر تم  ایک اور جنگ لڑتے ہو ،اپنی محبوبہ کو واپس لانے کے لیے۔ 
تیسرے سین میں 
خوش قسمتی سےتم یہ جنگ بھی جیت لیتے ہو ۔
چوتھے سین میں ۔۔۔۔۔۔شیرین نے ایک لمبی سانس لیتے ہوے کہا
چوتھے اور آخری سین میں 
تمہارے ۔ ۔۔۔۔تمہارے وہ مشہور مکالمے جو لوگوں نے کئی بار سنے ہیں اور بار بار سننا چاہتے ہیں ۔
"دیوتاؤں کے آشیرواد سے مجھے کوئی نہیں ہرا سکتا پر میں تمہاری محبت میں دل ہار بیٹھا ہوں ۔"
" اب میں تمہیں واپس تو لے آیا ہوں پر ۔۔۔۔۔؟ پر میں تمہیں  طاقت کے بل پر نہیں۔۔۔۔۔ تمہیں  اپنی سچی محبت سے پانا چاہتا ہوںاور اگر میرا عشق سچّا ہے تو تم میرا ہاتھ ضرور تھام لو گی ۔"
"اور ہاں "
مسیح نے شیریں کی بات کاٹتے ہوے کہا
 پھر میں تمہارے قدموں میں گر کرتمہاری نیلی  موٹی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی محبت کی درخواست کرتا ہوں۔ تم ہنسی خوشی میری درخواست قبول کرتی ہو اور یوں ہمارا کبھی نہ ختم ہونے والا۔۔۔۔"ہاں۔۔۔۔ہاں  ابدی ملاپ ۔۔۔۔۔۔لافانی ملن ہوجاتا ہے"۔ 
اور پھر وہی نغمہ گونج اٹھتا ہے۔ جسے محبت کا نغمہ کہتے ہیں،اور پردہ گرا دیا جاتا ہے  ۔
اس بار مسیح نے قہقہہ لگاتے ہوے کہا 
"کیوں میں نے ٹھیک کہا نا؟"
شیریں پہلے کچھ مسکرائی اور پھر سنجیدہ ہوکر بولی 
" کیوں یہی ایک کہانی لکھی گئی ہے ؟۔"
" میں اب اس سے بالکل ہی اوب چکی ہوں،
جانتی ہوں  اس کہانی میں ہمارے دیوتاؤں کا , پوروجوں کا ذکر  ہے,اسی لیے کہانی کے خلاف کوئی کچھ کہہ نہیں  سکتا اور نا ہی اس میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے اور ہاں  اس سے انکار  بھی ممکن نہیں ہے ۔"
"کریں بھی تو کیا کریں؟" 
 مسیح نے کہا 
"ہمارے یہاں بس ،یہی ایک کہانی ہے، ہمارے آبا و اجداد نے بھی یہی کیا ہے ,ہم بھی یہی کر رہے ہیں اور ہمارے بعد بھی جو لوگ آیں گے وہ بھی یہی ناٹک کھلیں گے ۔"
" تماشائیوں کا بور ہونا یا ان کی اکتاہٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وہ سالہاسال  سے دیکھ رہے ہیں اور محظوظ ہو رہے ہیں "۔
تبھی مسیح نے  شیریں کے چہرے پر چھائی اُداسی بھانپ لی ۔
"تم اتنی ملول کیوں ہو شیریں  ؟"۔مسیح نے بے چین ہوکر پوچھا 
"نہیں کچھ نہیں "
شیریں نے ٹال دیا 
شریں جب تیار ہوکر میک اپ روم سے نکلی اور سٹیج کی طرف بڑھنے لگی تو مسیح نے روک کر کہا 
"شیریں تمہیں مجھ سے محبت نہیں تو نا سہی، پر مجھ پر ہمیشہ بھروسہ کر سکتی ہو۔"
پردہ اُٹھا   
تالیوں کی گونج 
پہلا سین
دوسرا سین 
تیسرا سین 
چوتھا اور آخری سین 
"میں تمہیں اس چُنگل سے آزاد تو کر لے آیا ،پر میں تمہیں سچّی محبت سے پانا چاہتا ہوں" ۔
"اب تم  اپنی  مرضی بتاؤ"
 "تب تک میرا سر تمہارے قدموں میں جھکا رہے گا "۔
سٹیج کے پیچھے محبت کا نغمہ گانے والے گیت گانے کے لیے تیار ہونے لگے ۔
سر جھکانے سے قبل مسیح نے شیریں کی نیلی موٹی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ میں ایک مجبور عاشق کی طرح دیکھا ۔۔۔۔۔
مسیح کے ایسے  دیکھنے سے شریں گھبرا گئی 
مسیح شیریں  کو کچھ عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا اور
 شیریں کو مسیح کا جسم بے جان سا لگا 
اس سے پہلے وہ چیخ پڑتی مسیح نے اپنے جسم کو جنبش دی، سارے ہال میں یکایک سناٹا چھا گیا۔ایک پل کوجیسے لوگوں نے اپنی سانسیں بھی روکے رکھیں البتہ دل زور سے دھک دھک کر رہے تھے ۔
شیریں کو کچھ خیال نہیں رہا کہ وہ سٹیج پر اپنا کردار نبھا رہی ہے۔  مسیح کی یہ اداکاری  دیکھ کربنا سوچے سمجھے وہ کہہ اٹھی 
"پاگل ہو گئے ہو کیا ، تم نے تو میری جان ہی نکال دی ۔مجھے لگا ۔۔۔؟"
"مجھے لگا ۔۔۔۔کہ تم" 
مسیح مسکرایا اور بولا 
: سچ مانو۔۔۔۔۔ میں پاگل ہی تو ہوں  ۔ایک دم پاگل '۔۔۔۔۔۔تمہارا پاگل ۔۔۔۔۔۔"۔
"یقین نہیں آتا ہے نا۔۔۔لو ددددیکھ ۔۔۔۔ 
اسکے ساتھ ہی مسیح نے آخری بار ہچکی لی ۔
���
جلال آباد سوپور 
موبائل نمبر؛9419031183, 7780889616
 

تازہ ترین