" بدنصیب ماں"

افسانہ

تاریخ    17 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر محمد یونس ڈار
معمول کے برعکس صبح صبح نوکر نے میرے کمرے کے دروزے پہ دستک دی- میں نے آنکھیں نیم کھلی کرتے ہوئے آواز لگائی تو اس نے جواب دیا کہ" صاحب حفیظہ بیگم کا انتقال ہوا"۔ 
حفیظہ بیگم جوکہ ہمارے بغل والے مکان میں عرصہ دراز سے مقیم تھی۔ میں انہیں آنٹی جی کہہ کر پکارتا تھا ۔وہ تھی تو بہت ہی بہادر مگر پچھلے بیس برس سے وہ اندر ہی اندر پگھل کر رہ گئی تھی۔ گویا خزان کے پھول کی طرح جو حالات سے لڑنا تو چاہتا ہے مگر اندر کی نمی آہستہ آہستہ کم پڑ جاتی ہے اور چند ہفتوں میں وہ بکھر جاتا ہے۔
حفیظہ بیگم اس مکان میں اپنے ایک وفادار نوکر کے ساتھ رہ رہی تھی۔ بچپن میں مجھے یاد ہے کہ اس بغل والے مکان میں کافی چہل پہل رہتی تھی۔ حفیظہ بیگم کا شوہر نورمحمد، جسے میں انکل جی کہہ کر پکارتا تھا، مجھے اکثر جنرل نالیج کے سوالات پوچھتا رہتا تھا۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔چھوٹا والا بیٹا مدثر میرا ہم جماعت تھا اور شہر کے ایک مشہور پرائیویٹ سکول میں زیر تعلیم تھا۔ میں گاؤں کے ہائر اسکینڈری اسکول میں پڑھ رہا تھا۔ وہ گرمی کی چھٹیوں میں گھر آتا اور پھر ہم خوب سیر و تفریح کرتے، دن بھر باغوں اور کھیت کھلیانوں کے چکر لگاتے تھے۔
نورمحمد کا بڑا بیٹا انور میاں میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھا اور بیٹی ہادیہ یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھی۔ نور محمد خود ایک فارمسی کمپنی کا مالک تھا۔
نورمحمد اپنے دونوں بیٹوں کو ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا تاکہ مستقبل میں اس کی فارما کمپنی کو اور زیادہ فروغ ملے۔
پیسہ اس کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔
حفیظہ بیگم بھی اسی دوڑ میں لگی ہوئی تھی۔ وہ اگرچہ خاتون خانہ تھی مگر فرصت کے لمحات میں وہ بھی اپنے شوہر کی فارما کمپنی میں بعض کاغذی کام انجام دیتی تھی۔ گویا دونوں میاں بیوی دن رات اس تگ ودو میں لگے تھے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے۔
یہاں سوال بچوں کے مستقبل کا بھی تھا۔ میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ملنا مشکل تھا۔ انور میاں یوکرین کے ایک ایسے میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھا جہاں تعلیم تو اچھی ملتی تھی مگر فیس بہت ہی زیادہ تھی۔
اب مدثر بھی بارہویں جماعت میں تھا اور اگلے سال اس کو بھی بنگلہ دیش کے ایک میڈیکل کالج میں بھیجنا تھا۔ وہاں کی فیس کا بھی انتظام کرنا تھا۔
اس کے علاوہ ہادیہ کی شادی بھی ایک مسئلہ تھا ۔اس کی شادی ایک ڈاکٹر کے ساتھ طے ہوئی تھی جو بیرون ملک میں جاب کر رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نور محمد دن رات کو ایک کرنے میں لگا ہوا تھا۔
دن گزرتے گیے ۔مدثر بنگلہ دیش چلا گیا اور میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اکیلا پڑ گیا۔ میں نے کالج میں ایڈمیشن لیا۔ اب نور چچا کے گھر آنا جانا بھی کم ہو گیا۔ ان کا نوکر بشیرا اگرچہ بعض اوقات میرے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلتا تھا مگر مدثر کے جانے کے بعد یہ مشغلہ بھی ختم ہوگیا۔
حفیظہ بیگم بشیرے سے ہر کام لیا کرتی تھی۔ اس کو ڈانٹنا اس کا معمول تھا۔ مگر بشیرا ایک وفادار نوکر تھا وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔یہی نوکری اس کا دین بھی تھا اور ایمان بھی،لہٰذا حفیظہ بیگم کی ڈانٹ اسے ایک معمول لگتی تھی۔
کچھ سال بعد ہادیہ کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ شادی کے کچھ ہفتے بعد ہی وہ اپنے شوہر کے ہمراہ پردیس منتقل ہوئی۔ نور محمد کے گھر کی چہل پہل آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ 
دونوں بیٹوں نے ڈاکٹری کی پڑھائی ختم کی۔ انور میاں نے USMLE کا امتحان پاس کرکے امریکا میں قیام کیا۔ جبکہ مدثر نے سعودی عرب کا رخ کیا، حالانکہ نورمحمد نے بہت کوشش کی کہ دونوں صاحبزادے کشمیر میں ہی مقیم ہوں مگر دونوں انور میاں اور مدثر راضی نہ ہوئے۔
بیٹوں کی بے رخی نے نورمحمدکو غمزدہ کردیامگر وہ پھر بھی اپنے کام میں مشغول رہا ۔اب اس کے پاس دولت تو کافی تھی مگر کوئی ہدف نہ تھا۔ پوری زندگی اس نے اپنی فارما کمپنی کی ترقی میں لگا دی تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسہ اکٹھا کرکے اپنی اولاد کا مستقبل بناسکے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہی اولاد بڑھاپے میں انہیں اکیلا چھوڑ دے گی۔
پیسہ کمانے کے لئے کتنے ناجائز طریقے استعمال کر کے اپنے ضمیر کو داو پر لگا دیا ۔ اپنی اولاد کی دنیا بنانے کے لیے اصولوں اور ضوابط کا گلہ گھونٹ دیا۔ نورمحمد اکثر دن بھر یہی سوچتا رہتا تھا اور آہستہ آہستہ راتیں بھی اسی سوچ میں کٹنے لگیں۔
نورمحمد ماضی میں واپس جانا جاتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ  کاش زندگی اسے ایک اور موقع دے دیتی۔ وہ اپنی غلطیوں کوسدھارتا ۔ وہ پہلے اپنی اولاد کو انسانیت اور انسانی رشتوں کی اقدار سکھاتا۔ اس کے بعد انہیں دنیاوی تعلیم دیتا۔ وہ پیسہ اکٹھا کرنے کی خاطر اپنی فارما کمپنی میں جعلی ادویات تیار نہ کرتا ۔اگر چہ ان دھاندلیوں  سے نور محمد نے پیسوں کے انبار جمع کئے مگر یہی روپیہ ان کی اولاد کو اندھا کر گیا ۔نور محمد اپنی بے بسی کے لیے کس کو ذمہ دار ٹھہراتا۔ وہ خود ہی ملزم بھی تھا اور قاضی بھی۔ دردو غم کی  اسی آہ وزاری میں دو سال گزر گئے۔ 
دونوں بیٹے پہلے پہل ہر ہفتے فون کیا کرتے تھے مگر آہستہ آہستہ دونوں اپنے کام میں اس طرح مصروف ہوگیے کہ سال میں کچھ تین چار بار ہی فون کیا کرتے تھے۔
ایک دن انور میاں نے فون کر کے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اگلے ہفتے اس کی شادی ہورہی ہے تو حفیظہ بیگم کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسو نکل آئے۔
نور محمد پوری رات سسکیاں بھرتا  رہا ۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ کل کا چھوٹا بچہ انور آج ماں باپ کے بغیر ہی شادی رچا رہا ہے اور ماں باپ بھی کتنے بدقسمت کہ اپنی اولاد کی شادی میں بھی مدعو نہ کئے گئے۔
ایک سال بعد مدثر نے بھی اسی طرح شادی کی۔ اس کے لیے آسان تھا کیونکہ یہ فن وہ اپنے بڑے بھائی سے سیکھ چکا تھا۔
نور محمد اور حفیظہ بیگم دونوں اکیلے پڑ گئے۔ "اگر بشیرا نہ ہوتا تو کیا ہوتا "۔ حفیظہ بیگم  یہ سوچ کر سہم جاتی تھی۔ 
نور محمد اکثر بیمار رہتا تھا۔ بشیرا ہر مہینے اسے شہر کے گورنمنٹ میڈکل کالج ہاسپٹل میں علاج کے لیے لے جایا کرتا تھا۔ وقت کی ناقدری ایسی تھی کہ  دو دو بیٹے ڈاکٹر ہونے کے باوجود  بھی نور محمد کو لمبی قطار میں رہ کر ڈاکٹر سے ایپوائنٹمنٹ کےلیے اپنی باری کا انتظار کر نا پڑتا تھا۔ یہ درد بھرے لمحے ایسے تھے جو نورمحمد کے ذہن کو نڈھال کر دیتے تھے،اسے اکثر خون کے آنسو رلانے پر مجبور کرتے تھے۔
سردیوں کا موسم تھا- دمے کا مریض نورمحمد مشکلات میں تھا۔ بشیرا ہر وقت اس کی تیمارداری میں لگا تھا۔ مگر نور محمد کی حالت بگڑتی چلی جارہی تھی ۔وہ رات بھر انور, مدثر اور ہادیہ کو آوازیں دیتا تھا مگر ہزاروں میل دور اس کی آواز کیسے پہنچ سکتی تھی!۔
زندگی کے بے درد اور نہایت ہی سخت لمحے اسے یہ احساس دے رہے تھے کہ وہ اس سفر میں اکیلا پڑ گیا ہے۔ تین دن حالت ایسی ہی رہی اور چوتھے دن نور محمد کا انتقال ہوا۔ 
نور محمد کے جانے کے بعد حفیظہ بیگم دماغی مریضہ بن گئی۔ وہ کئی کئی دن مزاروں اور درگاہوں پر گزارتی تھی۔ بشیرا ہی تھا جو اسے ڈھونڈ کر لاتا تھا۔ شہر کی بھیڑ میں کون اسے پہچانتا، کون اس کا درد جانتا۔  کسے یہ اندازہ ہوتا ہے  کہ یہ وہی حفیظہ بیگم ہے جس نے ہادیہ کی شادی کے دن  ڈیڑھ لاکھ  کا سوٹ پہنا تھا ۔ جو اپنی شادی کے وقت کسی ایکٹریس سے کم نہ تھی۔ وہ شکل و صورت ۔وہ مہک۔ وہ نازونخرے اب ایک پرچھائی بن گیے تھے۔زمانے کے الم نے اسے دھندلا کر دیا تھا۔
 آج اسی حفیظہ بیگم کا انتقال ہوا تھا۔
جب تدفین کا وقت آیا تو قبرستان میں دس بیس لوگ تھے۔ ان میں سے آدھے تو راہ گیر ہی تھے ۔اپنا کہنے والا تو ایک بشیرا ہی تھا۔ نہ اولاد تھی اور نہ کوئی رشتہ دار ۔
میت اٹھائی گئی قبر میں رکھی گئی۔ مٹی ڈالی گئی۔تازہ مٹی میں درخت کی سبز شاخ بھی ٹھونک دی گئی۔
گورکن نے قبر پر چھڑکاؤ کیا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ تدفین میں مصروف لوگوں نے بھی ہاتھ جھاڑے اور دعاء میں شامل ہوگئے ۔یوں نور محمد کے گھر کی آخری نشانی بھی مٹی تلے دب گئی۔
جنازے میں شامل ایک راہ گیر نے مجھ سے سوال کیا۔۔۔
"یہ کون تھی- کس خاندان سے تھی"
میں نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا مگر دل ہی دل میں کہہ دیا
"یہ ایک بدنصیب ماں تھی"
���
میڈکل افیسر شوپیان بلاک
موبائل نمبر؛6005636407‎
 

تازہ ترین