تازہ ترین

عرش ؔصہبائی کا آخری تحفہ

تاریخ    17 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 جموں و کشمیر میں اُردو شاعری کے آفتاب روشن تاب عرش صہبائی، جو 25دسمبر2020کو عالم ادب کو غمزدگی کے اندھیروں میں غرق کرکے اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ اپنے آخری ایام میں بھی نخلِ شعر و ادب کو فروغ دینے میں کس قدر مصروف و متحرک رہے ہیں، یہ اُنکی چند ایسی تخلیقات سے ثابت ہوتا ہے، جو ’’ادب نامہ‘‘ کو انکے انتقال پُرملال کے کئی ہفتے بعد بذریعے ڈاک موصول ہوئی ہیں۔ اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ ان تخلیقات کے موضوع و متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زندگی آخری مرحلوں سے فکری و جذباتی طور کیسے گذر رہے تھے۔ اگرچہ ان غزلیات کے ساتھ مرسلہ خطہ پر 23ستمبر 2020کی تاریخ درج ہے لیکن ذاک کے لفافے پر دسمبر2020کی مہر ثبت ہے اور ادارہ کشمیر عظمیٰ کو یہ لفافہ جنوری2021کے دوسرے ہفتے میں موصول ہوا ۔ ادارہ مرحوم کی ان تخلیقات، جو بظاہر انکی آخری دین لگ رہی ہے، کو ایک امانت اور تحفہ سمجھ کر نذرِ قارئین کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور مرحوم کی اُس وابستگی کو دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتا ہے، جو انہیں اخبار ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ کے ساتھ ہمیشہ رہی ہے۔ خالقِ کائینات مرحوم کو سکون و شانتی نصیب کرے اور اُن کے اہل خانہ اور شائقین ادب کو انکی جدائی برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا کرے۔    (ادارہ)
 
فطرتاً جو فقیر ہوتے ہیں
آپ اپنی نظر ہوتے ہیں
جن کے پہلو میں ہودلِ حساس
سب کے وہ دستگیر ہوتے ہیں
مجھ کو معلوم ہے سیاست داں
کسقدر فتنہ گیر ہوتے ہیں
اُن کا ہوتا نہیں وقار کوئی
لوگ جو بے ضمیر ہوتے ہیں
جن کو ملتی نہیں کبھی منزل
ایسے بھی راہ گیر ہوتے ہیں
کیا بیاں ہو غموں کی اہمیت
غم بڑے دل پذیر ہوتے ہیں
سربہ سر وہ اُترتے ہیں دل میں
شعر جو بے نظیر ہوتے ہیں
کیا اشارے ہیں اُن کی نظروں کے
جیسے ارجن کے تیر ہوتے ہیں
زندگی کو سنوارتے نہیں عرشؔ
جو غموں کے اسیر ہوتے ہیں
 
 
آنکھوں میں جب ٹھہری نیند
اور ہوئی کچھ گہری نیند
خواب میں جب وہ چہرہ ہو
ہوجاتی ہے سنہری نیند
بدل پیش کوئی اس کا
گہری نیند ہے گہری نیند
جب یہ سُنا وہ آئیں گے
کب آنکھوں میں ٹھہری نیند 
لُوٹ لو جتنا لوٹ سکو
لوگ ہیں سوئے گہری نیند
کان نہیں اُس کی آہٹ پر
کیسے کہوں ہے بہری نیند
کسی بھی صورت آتی نہیں
اُکھڑتی ہے جب گہری نیند
جب ہم جی کر تھک سے گئے
سوجائیں گے گہری نیند
انہیں جگانا ٹھیک نہیں
عرشؔ ہیں سوئے گہری نیند
 
 
زندگی کانٹوں بھرا راستہ سہی
ہم بھی چلنے کو کمر بستہ سہی
پھر بھی آنکھوں میں نہیں رنگین خواب
حال اس دل کا بہت خستہ سہی
اک نہ اک دن ہوگا یہِ افشاء ضرور
زندگی اک رازِ سر بستہ سہی
پھر بھی ہیں اہلِ سیاست بے قصور
سُو جرائم سے یہ وابستہ سہی
باوجود اس کے نہیں اس کو قرار
دل تیری یادوں سے وابستہ سہی
وہ حسیں چہرہ کہ جیسے ہو غزل
نظریں بھی اشعارِ برجستہ سہی
اِس پہ ہی رشتہ نہیں ہے استوار
رُوح سے یہ جسم وابستہ سہی
تیز تر کانٹوں سی ہے اس کی چُبھن
زندگی خوش رنگ گلدستہ سہی 
عرشؔ پھر بھی زندہ و تابندہ ہوں
سَو مصائب سے میں وابستہ سہی
 
 
دل پہ تنہائیوں کا پہرہ ہے
دور تک اک سکوت گہراے ہے
کارواں میری آرزوئوں کا
کون جانے کہاں پہ ٹھہرا ہے
اُس کی آنکھوں میں ڈوب جاتا ہوں
یہ سمندر بڑا ہی گہرے ہے
زندگی موت سے الگ ٹھہری
پھر بھی دونوں میں ربط گہرا ہے
وہ نہیں میری زندگی میں جب
زندگی میری کوئی صحرا ہے
اس کا ماحول ہے تبسم ساز
میرے دل میں یہ کون ٹھہرا ہے
میں عجب مرحلوں سے گذرا ہوں 
دل میں جو زخم بھی ہے گہرا ہے
کس طرح یہ وجود میں آئی
زندگی کا یہ راز گہرا ہے
عرشؔ جو سوچ میں ہے تعمیری
میرا جو خواب ہے سنہرا ہے