کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    15 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

دعوت دین:مخاطب کے مزاج اور فہم کو ملحوظ رکھنے اور شفقت و خیر خواہی کا رویہ اپنانے کی ضرورت

سوال : اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے ہم کچھ ساتھی غیر مسلم لوگوں میں دعوت کاکام کرتے ہیں۔ہم کو اس دوران حیرت ناک کامیابی بھی ملتی ہے اور کچھ اُلجھنیں بھی پیش آتی ہیں۔براہِ کرم ان چند باتوں میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
۱۔ دعوت میں کن موضوعات کو غیر مسلم انسان کے سامنے پیش کرنا مفید ہوگا اور اس بارے میں ہمارا دین کیا رہنمائی کرتا ہے۔
۲۔ کسی غیر مسلم شخص کی طرف سے طرح طرح کے اعتراضات پیش کئے جاتے ہیں،اُن اعتراضات میں اہم اعتراض خود مسلمانوں کی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی زندگی بھی ہے۔ایسے وقت کیا جواب دیا جائے۔
۳۔اسلام کے کسی حکم مثلاً عورتوں کے پردہ اور کسی کو مسلمان بنانا یا جمہوریت کا انکار وغیرہ ،ان کا کیا جواب دیا جائے۔
۴۔ دعوت دیتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جائے۔
ابو ندیم ۔جموں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب : تمام مسلمانوں پر دو فریضے اہم اور لازم ہیں اور ان دونوں فریضوں کی کوتاہی کی بناء پر تمام اُمت طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہے۔یہ دونوں فریضے یہ ہیں :خود اسلام پر عمل کرنا اور غیر مسلم اقوام کو اسلام کی دعوت دینا۔اس وقت اُمت کی اکثریت ان دونوں ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل ہے ۔اس کا نتیجہ پورے عالم کا منظر نامہ ہے۔
دوسری اقوام کو دعوت دینے کے لئے اصول واضح بھی ہیں اور بہت مفصل بھی۔ان میں سے چند یہ ہیں:۔دعوت ِ دین کے موضوعات مخاطب شخص کے مزاج اور علم و فہم کو ملحوظ رکھ کر مقررکئے جائیں ۔سب سے اہم موضوع اللہ کی ذات ِ عالی کا تعارف ہے،اس میں سب سے پہلے سوالات اُبھارے جائیں۔
ہم ،آپ کو اور اس ساری دنیا کو کس نے پیدا کیا۔ زمین سے ہر قسم کا اناج ،پھل،سبزیاں ،درخت ،گھاس اور شکر ،نمک،روئی،جڑی بوٹیاں کون اُگاتا ہے۔سارے جانور کس نے پیدا کئے ۔دن رات کا یہ سارا سلسلہ ،موسموں کی تبدیلی اور اس کے فائدے کون پیدا کرتا ہے۔اس طرح خود انسان کے اندر سوچنے والا دماغ ،دیکھنے والی آنکھیں ،سُننے والے کان ،چلنے کے لئے پائوں،کام کے لئے ہاتھ،ہضم کے لئے معدہ،چبانے کے لئے دانت اور جسم کے تمام اندرونی بیرونی اعضاء کس نے پیدا کئے۔ اس طرح کے سوالات کے جواب میں اللہ کی ذات ِ عالی ،اُس کی قدرت ،رحمت و شفقت کا تفصیل سے بیان کیا جائے اور ساتھ ساتھ قرآن کریم کی وہ آیات، جو ان تمام باتوں کا ایمان افروز جواب ہیں پڑھی جائیں ،اللہ کے وجود ،توحید ،قدرت ،رحمت اور احسانات کا خوب تعارف کرکے اُس کو تسلیم کرنے کی دعوت دی جائے۔سب سے اہم موضوع یہی ہے اور اس کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں۔
دوسرا موضوع۔ حضرت سید المرسلین علیہ السلام کی ذاتِ اقدس کا تعارف کرایا جائے۔آپؐ کے اخلاق ،مخلوقات کے ساتھ آپؐ کی شفقت اور رحم دلی کا تعارف کرایا جائے ۔تورات ،انجیل اور ویدوں میں جو آپ کا ذکر جمیل ہے، اُس کو تفصیل سے بیان کیا جائے ۔انسانوں ،جانوروں بلکہ دشمنوں کے ساتھ اُن کے حُسنِ سلوک کے واقعات سُنائے جائیںاور پھر اُن کو اللہ کی طرف سے پیغام رساں ہونے کی حقیقت سمجھائی جائے پھر دعوت دی جائے کہ وہ مخاطب اُن کو اللہ کا نبی اور زندگی کا رہبر تسلیم کرے اور یہ بات بھی زور دے کر کہی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے اور ہر ہر دین کے سچے نبیوں کی تصدیق کرنے والے تھے نہ کہ اُن کی نفی یا تکذیب کرنے والے تھے،یہ بہت موثر اور مفصل موضوع ہے۔
تیسرا موضوع۔مرنے کے بعد ہم کو کہاں پہنچنا ہے۔اس کے لئے آخرت کی تفصیل ،حساب و کتاب اور جنت و جہنم کی تفصیلات بتاکر کہا جائے کہ جو شخص دنیا بنانے والے ،اس میں انسانوں کو بسانے والے اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گذارے گا وہ جنت میں اور جو شخص نہ تو اُس اللہ کو مانے اور نہ ہی اُس کے حکم اور مرضی کے مطابق زندگی گذارے گا ،وہ جہنم میں جائے گا۔ پھر جنت اور جہنم کی تفصیلات بتائی جائیں اور اس کے لئے بار بار قرآن کریم کی آیات پڑھی جائیں۔ وہ غیر مسلم اگر جنت و جہنم کو سمجھ رہا ہو تو ٹھیک ورنہ اُس کو سورگ اور نرک کے الفاظ سُناکر جنت و جہنم کی حقیقت بتائی جائے،یہ موضوع شوق اور خوف دونوں پیدا کرتا ہے۔
چوتھا موضوع۔یہ کہ دنیا میں جتنے مذاہب ہیں ،اُن میں سے کوئی بھی نہ تو حذف و اضافہ اور تحریف و تبدیلی سے محفوظ ہے اور نہ ہی انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔صرف دین اسلام ہی اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ دیکھئے قرآن کریم محفوظ،حدیث محفوظ ،سیرت ِ نبوی محفوظ اور اُن میں کسی میں کوئی ملاوٹ ،کمی یا زیادتی نہیں ہوئی ہے،اس لئے سچا دین یہی ہے۔اسی کو ماننے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے سے نجات اور کامیابی ہوگی۔اس میں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ہر سچا مذہب جو اللہ نے انسانوں کے لئے بھیجا تھا وہ اپنے وقت ضرور سچا تھا مگر اب وہ اپنی اُس اصل حالت میں نہیں ہے۔اس لئے وہ سچا نہیں رہا۔ دودھ جس وقت گائے بکری سے نکالا گیا اُس وقت وہ اچھا عمدہ تھا مگر اب جب وہ خراب ہوگیا تو وہ قابل استعمال نہ رہا ،یہی حال سب مذاہب کا ہے،صرف اسلام اپنی اصل حالت میں ہے ،لہٰذا اسی کو ماننا چاہئے۔
پانچواں موضوع۔ دنیا میں اچھا سچا اور بہتر انسان وہ ہے جو اپنے بنانے والے مالک کو بھی خوش کرے اور اُس کی ساری مخلوق کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔خالق اور مخلوق دونوں کا حق ادا کرنے والا انسان ہی صحیح سچا انسان ہے ۔اب خالق کا حق کیا ہے،اس کا جواب یہی ہے کہ عبادت کی جائے اور مخلوق کا حق کیا ہے ،اس کا جواب اخلاق اور حسن ِ سلوک ہے۔مخلوق میں انسانوں میں والدین ،اولاد ،بیوی بچے ،رشتہ دار ،پڑوسی اور تمام انسان ہیں اور جانوروں میں ہر طرح خاص کر گھروں کے جانور ،جو ہمارے لئے راحت رساں نفع بخش ہیں ،ان کے حقوق ہیں۔خالق و مخلوق کے حقوق ہر نبی اور ہر مذہب نے سکھائے ہیں مگر دوسرے تمام مذاہب میں شرک داخل ہوگیا اور توحید ختم ہوگئی۔اس لئے اُن مذاہب کے ذریعہ اب خالق کا کوئی حق ادا نہیں ہوسکتا ،اس لئے کہ خالق نے عبادت میں جو کچھ کرنے کو کہا تھا وہ کسی مذہب میں اب باقی نہیں ہے صرف اسلام میں ہے،لہٰذا اسی کو ماننا نجات ہے۔ان موضوعات کے علاوہ اور بہت سارے موضوعات بھی ہیں جو خود بخود دعوت کے کام کے دوران سامنے آتے جائیں گے۔
کسی غیر مسلم کی طرف سے اسلام پر کوئی اعتراض حقیقی اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔ ہاں! یا تو وہ غلط معلومات کا نتیجہ ہوگا یا غلط فہمی کا اور اگر اسلام میں واقعی کوئی حکم ہے تو اس حکم پر اعتراض کا جواب اُس حکم کی حکمت،افادیت اور منفعت سمجھانا ہے ۔مثلاً یہ کہا جائے کہ اصل جمہوریت تو اسلام میں ہی ہے اور وہ پیغمبر اسلام ؐ نے مدینہ کی ریاست میں پہلے دن قائم کی تھی کہ کسی بھی مذہب والے کو اپنے مذہب سے زبردستی روکا نہیں جائے گا ۔میثاق ِ مدینہ کا خلاصہ یہی ہے ۔ہاں! جمہوریت کا مطلب اگر حلال و حرام کو انسانوں کے اختیار میں دینا قرار دیا جائے تو یہ جمہوریت نہیں ہے۔یہ تو قانون سازی میں اپنے آپ کو خالق کے منصب پر بٹھانا ہے ،اسلام اس کو تسلیم نہیں کرتا ۔ اعتراضات کے جوابات میں بحث و مناظرہ کی فضا ہر گز پیدا نہ ہونے دی جائے ۔دعوت دینے سے پہلے بھی ہدایات ملنے کی دعا کی جائے اور دعوت دینے کے بعد بھی۔ دعوت دیتے ہوئے بہت ہی زیادہ ہمدردی اور شفقت اور خیر خواہی کا رویہ اپنایا جائے،ہر ایسی بات جو مخاطب کو ذہنی اذیت پہنچائے، اُس سے پرہیز کیا جائے۔عورتوں کے حقوق ،حیا ،عفت اور اسلام میں اُن کے تحفظ کی تفصیلات بتادینے سے ہر صاحبِ عقل مطمئن ہوجاتا ہے ۔آخری بات !حق تو یہ ہے مسلمانوں کی بے دینی اور بداخلاقی اور غیر اسلامی زندگی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،اس کا جواب یہ دیا جائے کہ ہم مسلمانوں کی زندگی اپنانے کی دعوت نہیں بلکہ اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سوال:۔قسم کیا ہوتی ہے۔ کن لفظوں سےہوتی ہے۔ اگر قسم ٹوٹ جائے تو کفارہ کیا ہوتا ہے۔ یہ بھی بتائیے قسم کس طرح توٹتی ہے، کفارہ کس کو دینا ہوتا ہے یعنی اس کا مستحق کون ہوتا ہے؟
محمد یوسف میر
سوناواری کشمیر

جھوٹی قسم کھانا گناہِ کبیرہ۔۔ ۔۔ کفارہ ادا کرنا لازم

جواب:۔قسم یا حلف کے شرعی معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ کی قسم کھا کر کوئی شخص کوئی بات کہے۔ مثلاً اللہ کی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا۔ یا یوں کہے واللہ میں یہ کام نہیں کروںگا۔ تو یہ قسم ہے۔ اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ واللہ میں نے یہ کام نہیں کیا ہے حالانکہ اس نے یہ کام کیا ہو۔ تو یہ جھوٹی قسم ہےاور یہ گناہ کبیرہ ہے۔ یا کسی نے کہا اللہ کی قسم میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ اُس نے نہیں کیا ہے تو بھی جھوٹی قسم ہوئی۔ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔مثلاً کسی نے چوری کی ہے مگر اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں نے یہ چوری نہیں کی ہے۔ یا کسی نے نماز نہیں پڑھی ہے مگر جھوٹی قسم کھا کر کہے واللہ میں نے نماز پڑھی ہے۔ یہ حلف کا ذب ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے گناہ کبیرہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گناہ کبیرہ یہ ہیں: شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا، جھوٹی قسم کھانا اور جھوٹی گواہی دینا ۔یہ حدیث بخاری ،مسلم وغیرہ میں ہے ۔قسم کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ کی قسم کھا کر آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی نیت کرے ۔ مثلا یوں کہے۔ واللہ میں تمہارے گھر نہیں آئوں گا۔ یا اللہ کی قسم میں یہ کھانا نہیں کھائوں گا یا قسم بخدا میں تم سے بات نہیں کروں گا یا یوں کہے واللہ میں آج تمہارےپاس ضرور آئونگا۔ یا کہے اللہ کی قسم میں ہر گز یہ کام نہیں کروں گا۔
غرض آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے ایسی قسم کے متعلق قرآن کریم کا حکم ہے کہ اس قسم کی حفاظت کرو۔ یعنی خلاف ورزی مت کرو اور خلاف ورزی یہ ہےکہ جو کام  کرنے کی قسم کھائی پھر وہ کام نہیں کیا۔ یا کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھائی تھی وہ کر لیا۔ مثلاً قسم کھا کر کہا تھا اب نماز نہیں چھوڑوں گا پھر نماز چھوڑ دی تو اس قسم کے توڑنے پر کفارہ ادا کرنا لازم ہے اور کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا دو وقت کے کھانے کی رقم دس مسکینوں کو دینا۔ اگر کسی ایک ہی مسکین کو دینا ہو تو دس دن تک اُسے دو وقت کا کھانا کھلانا۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کسی غریب مسکین مثلاً مسجد میں حمامی ہو یا موذن ہو اوروہ مستحق زکوٰۃ ہو تو اُسے کہہ دیا جائے تم دس دن تک ہمارے گھر میں کھانا کھاتے رہو یا اُسے دس مرتبہ اتنی رقم دی جائے جس سے وہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔
اگر کوئی شخص دس مسکینوں کو کھانا کھلانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اُس کےلئے کفارہ مسلسل تین دن تک روز رکھنا ہوگا ۔ قرآن کریم سورہ مائدہ یعنی پارہ7رکوع2میں  یہ حکم ارشاد ہوا ہے۔
اگر کسی نے کسی خیر کے کام سے رکنے کی قسم کھائی مثلاً قسم کھا کر کہے میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ تویہ قسم توڑ دینا ضروری ہے اور بعدمیں قسم کا کفارہ بھی ادا کرے۔ یا مثلاً کسی نے قسم کھائی کہ میںفلاں کے گھر نہ جائوں گا یہ فلاں اُس بھائی یا بہن یا سسرال یا ننھیال یا دوسرے اقارب میں سے ہو تو چونکہ یہ قسم قطع رحمی کی ہے اور قطع رحمی حرام ہے ۔ا سلئے اس قسم کو توڑ دینا ضروری ہے اور بعد میں کفارہ بھی ادا کرے۔ یا د رہے اللہ کی ذات عالی کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم کھانے سے قسم شرعی نہیں ہوتی۔ مثلاً مسجد یا آستانہ کی قسم ، کسی بزرگ کی قسم، جوانی کی قسم ، بیٹے کی قسم، اپنی قسم، باپ کی قسم،گھٹنے کی قسم، وغیرہ ۔یہ قسمیں شرعاً منع ہیں اور اگر کسی نے اس طرح کی قسم کھائی تو گناہ کیا مگراُس پر کفارہ ادا کرنا لازم نہ ہوگا۔
 

تازہ ترین