نیاصنعتی پیکیج اُمید افزاء

مقامی سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے

تاریخ    15 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ دنوںجموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کے ذریعہ صنعتی شعبے میں صنعتی نمو ، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کیلئے 28400 کروڑ روپے مالیت کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ پیکیج2021کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی کابینہ نے جموں وکشمیر کیلئے 28400کروڑ روپے مالیت کے صنعتی پیکیج کو6 جنوری کومنظور کیا اور اس کا مقصدمرکزی انتظام والے علاقے میں صنعتی سیکٹر کو فروغ دیکر ساڑھے4 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنا ہے۔منوج سنہاکاکہناتھاکہ جموں وکشمیر میں یہ کثیرالمقاصدصنعتی پیکیج 17 سال تک یعنی 2037 تک لاگو رہے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ مرکز کے منظورکردہ صنعتی پیکیج کے تحت جموں وکشمیر میں 20ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نئے صنعتی پیکیج کے اعلان کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے ایک بار پھرصنعتی نمو ، خوشحالی اور روزگار کے بیج بونے کے لئے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ پیکیج صنعتکاروں کیلئے ایک بڑے ریلیف کا کام کرے گا اور مینوفیکچرنگ یونٹس ، سروس سیکٹر سمیت سیاحت اور آئی ٹی سیکٹر کا احاطہ کرے گا۔ 
گوکہ اس پیکیج کے خد وخال ابھی تک مکمل طور واضح نہیں ہوچکے ہیں تاہم سننے میں یہی آرہا ہے کہ اب صنعتی سیکٹر کو بلاک سطح تک توسیع دی جائے گی اور کوشش کی جائے گی کہ جموںوکشمیر کے دیہات میں بھی صنعتوں کا جال بچھ جائے۔شاید اسی مقصد کیلئے محکمہ صنعت و حرفت مسلسل لینڈ بینک کو توسیع دے رہا ہے اور صنعتی بستیوں کے قیام اور پرانی بستیوں کو توسیع دینے کیلئے حکومت مذکورہ محکمہ کو48ہزار کنال اراضی منتقل کر نے کا منصوبہ رکھتی ہے جس میں سے اب تک 24ہزار کنال اراضی منتقل کی جاچکی ہے ۔منتقل شدہ 24ہزار کنال میں سے16ہزار جموں جبکہ8ہزار کنال کشمیر صوبہ سے ہیں۔محکمہ کا کہنا ہے کہ نجی سیکٹر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے صحت ،تعلیم ،صنعت اور دیگر شعبوں میںمقامی و غیر مقامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور منصوبہ کے تحت حکومت کی کوشش رہے گی کہ زیادہ سے زیادہ صنعتی یونٹ قائم ہوں تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ معیشت کو فروغ دیاجاسکے ۔
بادی النظر میں حکومت کا پیکیج اور پالیسی بہت اچھی لگ رہی ہے اور یہی تاثر ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ ارباب بست و کشاد کو جموںوکشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کی فکر دامن گیر ہے اور حکمران جموںوکشمیر میں صنعتوں کا جال بچھانا چاہتے ہیںتاہم ماضی کے تجربات کچھ اچھے نہیں رہے ہیں۔نئی صنعتی بستیوں کا قیام احسن ہے اور یقینی طو ر پر زیادہ سے زیادہ صنعتی بستیاں قائم ہونی چاہئیں تاکہ آمدن کے ذرائع بڑھ سکیں تاہم اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ ہماری پہلے سے موجود صنعتی بستیوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے اور ان صنعتی بستیوں میں کام کررہے بیشتر صنعتکار سرکار کی عدم توجہی کا رونا رو رہے ہیں۔جموں شہر اور ا سکے مضافات میں قائم چند صنعتی بستیوں کو چھوڑ کر پورے جموںوکشمیر میں صنعتی بستیوںکا حال بے حال ہے ۔کہنے کو تو لوگوںنے صنعتیں قائم کرنے کے نام پر ان بستیوں میں زمینیں لے رکھی ہیں لیکن صنعتی بستیوںکی اندر کی کہانی انتہائی حوصلہ شکن ہے کیونکہ بیشتر کارخانے یا تو بند ہوچکے ہیں یا پھر خسارے پر چل رہے ہیں۔جموںوکشمیر کی صنعتی بستیوں کو سب سے پہلے بجلی کی غیر مناسب سپلائی کا مسئلہ درپیش ہے ۔بجلی سپلائی کا حا ل بے حال ہے اور جب بجلی متواتر نہ ہو تو صنعتوں کا چلنا محال ہی ہے ۔
دوسرا مسئلہ صنعتوںکے قیام کیلئے انتہائی تکلیف دہ عمل ہے ۔اب تک تو یہی روایت رہی ہے کہ مقامی صنعتکاروںکو درجنوں این او سیز کے نام پر ستایا جاتا تھا اور وہ تھک ہار کر ایسے منصوبے ہی ترک کردیتے تھے ۔سبسڈی کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور ابتدائی سرمایہ کی فراہمی میں بنک لیت و لعل سے کام لیتے تھے ۔اس پر طرہ یہ ہے کہ خام مال انتہائی مہنگا ہونے کے سبب بیشتر کارخانے ایام طفولیت میں ہی بند ہوجاتے تھے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں پرائیوٹ سیکٹر کبھی پنپ ہی نہیں پایا کیونکہ ماحول موافق نہیں تھا اور نہ ہی حکومتی سطح پر مقامی صنعت کاروںکی حوصلہ افزائی کی جارہی تھی ۔
اب شاید حالات بدل چکے ہیں اور جس بڑے پیمانے پر زمینیں حاصل کی جارہی ہیں اور 48ہزار کنال اراضی کا لینڈ بنک قائم کرنے کا منصوبہ ہے تو بدیہی طور یہی لگ رہا ہے کہ حکومت اب بڑے پیمانے پر یہاں صنعتیں قائم کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے ۔ اخلاقی طور سرکار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس عمل میں مقامی سرمایہ کاری کو ہی ترجیح دے کیونکہ بڑے کارپوریٹ گھرانوں کی آمد سے مقابلہ آرائی کی ایسی دوڑ لگ جائے گی جس میں مقامی چھوٹے صنعتکار پچھڑ جائیں گے اور یوں مقامی صنعتوں کا جنازہ ہی نکل جائے گا۔دکھانے کو تو اُس صورت میں یہاں صنعتیں ہونگیں لیکن وہ مقامی لوگوںکی نہیں بلکہ غیر مقامیوںکی ہونگیں اور وہاں عملی عملداری غیر مقامی سرمایہ کاروںکی ہوگی جبکہ مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ کلاس ڈی نوکریاں ہی مل سکتی ہیں۔
ایسی صورتحال قطعی اطمینان بخش قرار نہیں دی جاسکتی ہے اور اس سے شاید صنعتی پیکیج اور صنعتی بستیوں کے قیام کا بنیادی مقصد ہی فوت ہوجائے گاکیونکہ پیسہ یہاں رُکے گا ہی نہیں اور جموںوکشمیر کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔بلا شبہ صحت یا تعلیم کے شعبہ میں اگر معیاری ادارے قائم ہوں توعوام کا بھلا ہوسکتا ہے لیکن وقت نے ثابت کردیا ہے کہ نجی سیکٹر کی زیادہ تر توجہ اپنے مفادات پر مرکوز رہتی ہے اور اسکے ساتھ منسلک محنت کش طبقے کو ہمہ وقت پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے۔تعمیر و ترقی کی چکاچوند میں اگر مقامی لوگوں کے چولہے ٹھنڈے پڑیں اور صنعتی بستیوں کی چکا چوند میں گرد و پیش تاریکی میں ڈوب جائے تو اُس کو ترقی نہیں کہاجاسکتا ہے ۔اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ مقامی سرمایہ کاری کو ہی پہلی ترجیح دی جائے تاکہ معیشت کا پہیہ مقامی طور ہی گھومتا رہے جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا ورنہ معیشت کا جنازہ نکل جانا طے ہے۔
 

تازہ ترین