تازہ ترین

ہندوستان کے لئے فیصلہ کن میچ میں فٹ ٹیم کا انتخاب سب سے بڑا چیلنج

تاریخ    14 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


برسبین // ہندوستانی ٹیم سڈنی میں ڈرا کرانے کے بعد برسبین پہنچ چکی ہے جہاں  اسے  اپنی  ٹیم کے ہوٹل میں سہولیات کی کمی کا سامنا  ہے لیکن اس  مرتبہ  برسبین میں ٹیم انڈیا کو درپیش سب سے بڑا چیلنج 15 جنوری سے شروع  ہونے والے چوتھے اور آخری ٹیسٹ کے کے لئے فٹ الیون کا انتخاب کرنا ہے۔ بارڈر۔گاوسکر ٹرافی کے لئے چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہے اور سیریز کا فیصلہ برسبین میں آخری ٹیسٹ کے ذریعے ہونا ہے۔ اگر ہندوستان برسبین  میں ٹیسٹ جیت جاتا ہے یا کوئی ڈرا کھیلتا ہے تو وہ بارڈر-گاوسکر ٹرافی کو اپنے پاس  برقرار رکھے گا کیونکہ ہندوستان نے19 -2018میں آسٹریلیا سے گزشتہ سیریز دو۔ ایک سے جیتی تھی۔  ہندوستان کی اس وقت سب سے بڑی پریشانی اس کے کھلاڑیوں کا زخمی ہونا ہے۔ سلامی بلے باز  روہت شرما (پہلے دو ٹیسٹ) اورتیزگیندباز ایشانت شرما (پوری سیریز سے باہر) کے بغیر آسٹریلیا پہنچی تھی۔ دونوں کھلاڑی آئی پی ایل میں زخمی ہوئے تھے۔ ایڈیلیڈ میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میں تیزگیندباز محمد شامی زخمی ہوگئے تھے جب کہ میلبورن میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں دوسرے تیزگیندباز امیش یادو زخمی ہوئے اور دونوں  تیزگیندباز سیریز سے باہر ہوگئے۔  بائیں ہاتھ کے اسپن آل راؤنڈر رویندر جڈیجا کے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا سڈنی میں تیسرے ٹیسٹ میں ٹوٹ گیا تھا اور وہ برسبین میں چوتھے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے۔ تیسرے ٹیسٹ میں ، ٹیم کے ٹاپ آرڈر کے تیزگیندباز  جسپریت بمراہ  پیٹ میں کھنچاو کا شکار ہوگئے تھے اور وہ بھی برسبین میں چوتھے اور آخری ٹیسٹ سے باہر ہوسکتے ہیں۔ تاہم  ان کے سلسلے میں باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ اس ٹیسٹ میچ سے باہر ہوں گا یا کھیلیں گے۔ سڈنی ٹیسٹ کے آخری روز ، آف اسپنر روی چندرن اشون کو پسلیوں میں گیند لگی تھی جس کے بعد وہ چیسٹ گارڈ پہن کر کھیلے جبکہ ہنوما وہاری سنگل لینے کے دوران ہیمسٹرنگ انجری  کاشکار ہوگئے۔ تاہم ، ہنوما اور اشون نے 258 گیندوں میں 62 رنز کی ناٹ آوٹ شراکت کے ساتھ ٹیسٹ میچ  ڈرا کرادیا۔ لیکن دونوں کھلاڑی زخمی  ہیں اورسلامی بلے باز میانک اگروال کو بھی چوٹ لگی ہے۔ تیسرے ٹیسٹ میں وکٹ کیپر رشبھ پنت کی کہنی  میں چوٹ لگی تھی جس کے بعد انہوں نے وکٹ کیپنگ نہیں کی اور ردھمان ساہا نے وکٹ کیپنگ سنبھالی تھی۔ تاہم ، پنت نے ہندوستان کی دوسری اننگز میں بلے بازی کرتے ہوئے 97 رنز بنائے تھے۔ اس کے علاوہ بلے باز لوکیش راہل نیٹ پریکٹس میں کلائی کی انجری کے سبب سیریز سے باہر ہوگئے تھے اور انہیں وطن واپس لوٹنا پڑا۔ پہلے تین ٹیسٹ میں راہل کو کھیلنے کا موقع نہیں ملاتھا۔ ہندوستان کے پاس تیزگیندبازی میں اب محمدسراج اور نودیپ سینی کے علاوہ شاردل ٹھاکر اور ٹی نٹراجن رہ گئے ہیں۔ سراج کے پاس دو ٹسٹ اور سینی کے پاس ایک ٹسٹ کا تجربہ ہے۔ شاردل ٹھاکر نے اپنا واحد ٹسٹ 2018 میں کھیلا تھا جبکہ بائیں ہاتھ کے تیزگیندباز نٹراجن کو اپنا ٹسٹ ڈیبیو کرنا ہے۔  اگر اسپن  کے شعبے کو دیکھا جائے تو جڈیجہ  باہر ہوچکے ہیں ، اشون کو چوٹ لگی ہے اور ٹیم  کے پاس  صرف  کلدیپ یادو  ہی ہیں۔ کلدیپ نے اس دورے میں اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا۔ یعنی آخری ٹیسٹ میں ہندوستان کا گیندبازی حملہ کافی ناتجربہ کار ہوگا اور برسبین گراؤنڈ ایسا ہے جہاں ہندوستان نے کبھی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا اور گذشتہ 33 سالوں سے آسٹریلیائی اس گراؤنڈ پر فاتح رہاہے۔ بلے بازی میں ہندوستان کا ٹاپ آرڈر تو ٹھیک ہے جہاں اوپننگ میں اس کے پاس روہت شرما اور شبھمن گل اور تیسرے نمبر پر چتیشور پجارا ہیں۔ چوتھے نمبر پر کپتان اجنکیا رہانے اتریں گے لیکن بلے بازی میں پریشانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ یواین آئی