تازہ ترین

لاک ڈائون اور نسا اعزازات

مِرا نیلگوں آسماں بیکرانہ

تاریخ    14 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈار غلام حسن
یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ابتدائے آفرینش سے تعلیم فرد اور معاشرے کی کُلہم تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے کس قدر ناگزیر رہی ہے ۔ اقوامِ عالم میں جن قوموں نے تعمیر و ترقی میں جھنڈے گاڈ دئے ہیں ، بہر حال تعلیم ہی اس کے لئے سب سے بڑی محرک ثابت ہوئی ہے۔ امریکہ، فرانس ،  برطانیہ ، جرمنی ، جاپان وغیرہ کی تعلیم اور انکا تعلیمی نظام اس قدر دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اسکی دسترس سے باہر نہیں ہے ۔پھر ترقی پزیر ممالک خصوصاًایشیا میں تو تعلیم کی اہمیت و افادیت کئی گُنا بڑھ گئی ہے ۔ لیکن بر صغیر کے کئی ممالک ابھی صد فی صد شرح  خواندگی حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں  اور جو ممالک کسی قدر آگے بڑھنے کی دوڈ میں شامل ہیں ،منفی اور مثبت قوتیں کہیں سدراہ آتی ہیں تو کہیں یہ قوتیں مہمیز کا کام کرتی ہیں ۔ بقولِ ثابق ڈائیریکٹر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی جناب ارتضیٰ کریم : "ہمارے معاشرے میں منفی اور مثبت قوتوں کی کشمکش جاری رہتی ہے ۔ منفی قوتوں کا مقصد حقائق کو مسخ کرکے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنا ہوتا ہے جبکہ مثبت قوتیں اپنے ذہن کے اس زاویے کو استعمال کرتی ہیں جس سے معاشرے میں تعمیر اور تشکیل کا جذبہ پیدا ہو۔ ان دونوں قوتوں کے تصادم میں کبھی کبھی منفی قوتیں اسلئے غالب آجاتی ہیںکہ مثبت سوچ رکھنے والے خاموش رہ جاتے ہیں "
اس تناظر میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینا چاہیں تو زندگی کے تقریباًتمام تر شعبہ جات میں کچھ ایسا ہی رجحان نظر آتا ہے لیکن اس سب کے باوجود کشمیری قوم بحیثیت ِ مجموعی ہر دور میں محنت کش ، تر دماغ اور چرب دست رہی ہے۔ خواہ اسکا تعلق علوم و فنون سے ہو یا ادب سے، تہذیب و تمدن سے ہو یا ثقافت سے یا پھر زراعت سے ہو یا صنعت و حرفت سے، ہر میدان میں کافی مستعد اور کامیاب رہی ہے۔ اس سلسلے میں جدید تعلیم کی تشہیر و فروغ میں پچھلی کئی دہائیوں سے سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کا جال بِچھ گیا ہے اور ہر ادارہ تا مقدور اس روشنی کو پھیلانے میں تن من اور دھن سے سرگرم عمل ہے۔ تاہم وادی میں جو غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی ایک چھوٹی سی کہکشاں آسما نِ تعلیم جدید میں تاباںنظر آتی ہے ،اس میں برن ہال، میلینسن ، اسلامیہ ہائی اسکول سرینگر ، سینٹ جوزیف بارہمولہ اور ویلکن ایجوکیشنل ٹرسٹ سوپور کی تعلیمی خدمات کسی بھی باشعور انسان سے مخفی نہیں ہیں۔ اگرچہ اپنے قیام سے لیکر آج تک ان اداروں کو ہر سطح پر کافی مسائل و مشکلات کا سامنا رہا ہے کہیں سیاسی اُتھل پتھل ، کہیں سرکاری سرد مہری و جانبداری تو کہیں سماجی سطح پر طنز  و تشنیع کے تیر برستے رہے لیکن اسکے برعکس حامیوں، بہی خواہوں اور عاقبت اندیشوں کی بھی کوئی کمی نہیں تھی جنکی پُر خلوص کاوشوں اور کوششوں سے تقریباً دونسلیں جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوئیں ۔ اس پوری کہکشاں میں جو ستارہ سب سے زیادہ روشن اور تابناک نظر آتا ہے وہ شمالی کشمیر سوپور میں واقع ایس آر ایم ویلکن ایجوکیشنل ٹرسٹ سوپور ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ سرینگر کپوارہ شاہراہ پر ڈاک بنگلہ اور سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور کے نزدیک واقع ہے۔  ۲۰۰۰؁ء میں وادی کے سرکردہ تاجر حاجی عنایت اللہ حاجنی نے اپنے مرحوم والدین کی یاد میں انکی وصیت کے مطابق زمین کے ایک بڑے رقبے پر تعمیری ڈھانچہ کھڑا کرکے اسے اسکول کی شکل دیکر باضابطہ طور پر پرائمری سطح سے اس میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کرایا۔ مرور ایام کے ساتھ ساتھ ادارہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا ایک بڑے ادارے کی صورت میں اُبھر کر سامنے آیا۔ آج کی تاریخ میں مذکورہ ادارے میں پانچ ہزار سے زائد طلبہ وطالبات زیور ِعلم سے آراستہ ہورہے ہیں ۔ کئی ہزار طلبہ ملک و بیرونِ ملک بڑے اور مشہور اداروں میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ یہاں نرسری سے بارہویں جماعت تک طلبہ علمی فیض حاصل کرنے کے علاوہ  بی ایڈ کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں ۔ یہ ادارہ لگ بھگ پچاس کنال اراضی پر پھیلا ہوا ہے جس میں بڑی اور مضبوط عمارتیں کھڑی ہیں جو مختلف بلاکوں کے ناموں سے موسوم ہیں ۔ یہاں ایک بہت بڑی لائبریری  ، کئی سائینس لیبارٹریز ، CCTVکنٹرول روم اور آرٹیفیشل اِنٹیلی جینس "Artificial Intelligence"  کے تحت Robotics کی جدید ترین لیبارٹری قائم کی گئی ہے ۔ یہاں تمام مروجہ علوم جیسے سائینس ، ریاضی، تاریخ ،لسانیات کے علاوہ کمپیوٹر اور Coding  وغیرہ کی تدریس کا سلسلہ جاری ہے ۔ نصابی سرگرمیوں کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی یہ ادارہ ترقی کے نئے زینے چڑھنے میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر سال یہ ادارہ ہر میدان میں سرکاری ، غیر سرکاری اور عوامی سطح پر تعریف و تہنیت حاصل کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں ۳۱ دسمبر  ۲۰۲۰؁ء کو NISA  (نیشنل انڈیپنڈنٹ اسکولز الائینس ) کی جانب سے کنگ فشر ہوٹل امبالہ ہریانہ میں تقسیم ِ ا عزاز ی تقریب میں قومی سطح پر مائیکرو انوویشن ایوارڈ’’  "Micro Innovation Award 2020  سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ جن تعلیمی اداروں کو یہ اعزاز ملا، ان میں ہری دھیا بھون دہلی ، ڈی پی ایس اسکول رُدراپور ، سردار پٹیل پبلک اسکول فرید آباداور آسارام ہائر سیکنڈری امبالہ کے علاوہ دیگر کئی تعلیمی ادارے شامل ہیں البتہ وادی کشمیر میں ایس آر ایم ویلکن وہ واحد ادارہ ہے جس نے یہ اعزاز حاصل کیا ۔
 واضح  رہے کہ یہ ایوارڈ مذکورہ اسکول کو سال  ۲۰۲۰؁ء میں عالمی وباء کووِڈ 19۔ کے دوران ورچول موڈ( (Virtual Modeکے ذریعے اپنی بہترین تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور اسکول میں زیر ِ تعلیم طلبہ کو بروقت اور معیاری تعلیمی خدمات بہم پہنچانے کے صلے میں دیا گیا۔ یہ حقیقت بھی اظہرمن الشمس ہے کہ کشمیری طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کئی دہائیوں سے یہاں کی سیاسی افراتفری کی بھینٹ چڑھ گئی  ہے۔ ۲۰۰۸؁ء  ہو ۲۰۱۰؁ء ہو  ۲۰۱۶؁ء ہو یا ۲۰۱۹؁ء ہو یا پھر عالمی  وباء کرونا وائرس کے نتیجہ میں  ۲۰۲۰؁ء کا Lockdown  ہو، ویلکن ایجوکیشنل ٹرسٹ کی انتظامیہ، تدریسی و غیر تدریسی عملہ اپنی بہترین اور معیاری تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں فعال، متحرک اور پیش پیش رہنا اپنا فرضِ اولین سمجھتا ہے۔ سال ۲۰۲۰؁ء کے مارچ سے دنیا بھر میں چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر زندگی کے امکانات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور ساری انسانی سرگرمیاں معطل ہو گئیں ۔ لوگوں کی زمینی ، آبی اور ہوائی نقل و حرکت پر مکمل روک لگ گئی۔ ایسے زندگی کے دو بڑے اور بنیادی (اقتصادی اور تعلیمی) شعبے سب سے زیادہ متاثر رہے ۔ لیکن ویلکن انتظامیہ کی کوششوں سے اول تو اپریل کے مہینے میں اسکول میں تعینات اساتذہ کی جانب سے اسکول ایپ(School App) پر تمام پڑھائے جانے والے مضامین کے نوٹس (Notes) اپلوڈ (Upload)کرنے کے فوراََ بعد ویڈیو لیکچرس کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ بعد ازاں Zoom Appکے ذریعے باقاعدہ نظام الاوقات (Timetable) کے تحت کلاس ورک کا باضابطہ انتظام اور انصرام کیا گیا ۔ یہ سلسلہ اس قدر احسن طریقے پہ جاری رہا کہ اساتذہ اور طلبہ اپنے آپ کو اصلی کلاس رومز میں تصور کرنے لگے ۔ نہ صرف یہ کہ ان کلاسز سے متعلقہ طلبہ مستفید ہوئے بلکہ پس پردہ دیگر اقرباء بھی مستفید ہوتے رہے جسکا اظہار والدین واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے کر چکے ہیں ۔ طلبہ کی حاضری ، ہوم ورک اور دیگر ہدایات واٹس ایپ گروپس کے ذریعے ہی بھیجی جاتی تھیں ۔ غرض Morning assembly سے لے کر سائنس پریکٹیکلز ( Practicals) تک تمام تدریسی و غیر تدریسی امورات 2G نیٹ ورک  کے بیچ بڑی کامیابی کے ساتھ انجام دئے گئے۔ اس پر طرہ یہ کہ تمام امتحانات بھی بطریقِ احسن زوم ایپ اور گوگل ایپ کے ذریعے منعقد کئے گئے اور اساتذہ صاحبان نے موبائل فونوں پر ہی طلبہ کے تمام پرچہ جات کی جانچ کا کام بھی عمل میں لایا اور یوں نتیجے تیار کئے گئے ۔یہ سارا عمل بڑا دشوار ، صبر آزما اور کافی محنت طلب تھا۔ تاہم انتظامیہ کی کاوشوں اور اساتذہ کی کوششوں سے ہی یہ سب ممکن ہو پایا اورانہی کوششوں کی وجہ سے ادارہ اس اعزاز سے سرفراز ہوا۔
رابطہ۔ڈولی گنڈ رفیع آباد ،بارہمولہ
فون۔9596010884