موبائل انٹرنیٹ … اب اور کتنا انتظار ؟

تاریخ    12 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


  جموںوکشمیر حکومت  کے محکمہ داخلہ نے8جنوری کی رات کو جاری کئے گئے اپنے ایک حکم نامہ میں اس یونین ٹریٹری میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی میں مزید توسیع کرکے اس کو22جنوری تک بڑھادیا ہے۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اس حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اس بات کے خدشات ہیں کہ پاکستان کی جانب سے افراتفری کی کوششوں میں اضافہ کرنے کے علاوہ عسکری صفوںمیں نوجوانوں کی بھرتی اوردراندازی کی کوششیںبھی ہونگی۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ کے مطابق جنگجویانہ سرگرمیاں جاری ہیں،ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر حالیہ دراندازی کی کوششیں اور اسلحہ کی برآمدگی اس کا ثبوت ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار پر بندشیں جاری رکھی جائیں۔
 انٹرنیٹ رفتار پر قدغن کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اکثر وبیشتر ایسے جواز پیش کئے جارہے ہیں ،جو غیر منطقی لگتے ہیں۔حکومت کا کہنا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ اس وجہ سے بحال نہیں کیاجاسکتا ہے کیونکہ دراندازی کی کوششیں جاری ہیں اور پاکستان کی جانب سے ملک دشمن سرگرمیوں کیلئے اس کا استعمال ہوسکتا ہے ،بالکل بے تُکا سا بیان لگتا ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ چند مٹھی بھر لوگوں کیلئے آپ سوا کروڑ آبادی کو کیسے یرغمال رکھ سکتے ہیں۔مانا کہ کچھ لوگ انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرسکتے ہیں لیکن وہ محدود رفتار کے ساتھ بھی ویسا کرسکتے ہیں ۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ محض اندیشوں کی بنیاد پر کروڑوں لوگوں کوجدید دور کی اس بنیادی ضرورت سے محروم رکھیں۔
سپریم کورٹ نے بھی کشمیر انٹرنیٹ بندش کیس میں حکومت سے کہا تھا کہ غیر معینہ مدت کیلئے انٹرنیٹ پر پابندی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور یہ ضوا بط کے منافی ہی نہیں بلکہ دورِ جدید میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف بھی ہے ۔گوکہ حکومت نے تب کہاتھا کہ انٹرنیٹ بحال کیاجارہا ہے لیکن بعد میںجس طرح محض دو اضلاع میں آزمائشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی بحالی کے ساتھ ہی اس کیس کو نپٹایاگیا ،وہ حیرت میں ڈالنے والاہے ۔ظاہر ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی ٹھوس بیان نہیںدیاتھا تو ایسے میں کیس کو ہی داخل دفتر کرنا عجیب سا لگتا ہے ۔بہر حال عدالتی منطق کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے اور یقینی طور پر حکومتی دلائل سے اتفاق کرکے ہی عدلیہ نے کیس نپٹایاہوگا لیکن حکومت کو عدلیہ کے سابق احکامات کی روشنی میں اب پورے جموںوکشمیر میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔
پہلے ہی مفصل تحقیقی رپورٹوں سے واضح کیاجاچکا ہے کہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے جموںوکشمیر کی معیشت ہی نہیں بلکہ تعلیمی شعبہ کو بے پناہ نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے، ایسے میں ارباب بست و کشاد کو اُن تحقیقی رپورٹوں کو خاطر میں لاتے ہوئے آزمائشی بنیادوں پرفقط دو اضلاع میں فور جی انٹرنیٹ کی بحالی کا چکر ختم کرکے پورے جموںوکشمیر میں برق رفتار انٹرنیٹ بحال کرنا چاہئے ۔بلا شبہ سیکورٹی معاملات پر حکام ہی بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں کیونکہ ان کی معاملات پر عقابی نگاہ ہوتی ہے تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ سیکورٹی خدشات کی آڑ لیکر لوگوں کو اس بنیادی سے مسلسل محروم کرتے رہیں گے ۔ٹیکنالوجی کے دور میں انٹرنیٹ بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور آپ لوگوںکو اس ضرورت سے کب تک یونہی محروم رکھیں گے۔
کورونا وبا جاری ہے ۔تجارت کی چال بے ڈھنگی سی ہے۔ درس و تدریس کا نظام تقریباً مفلوج ہے ۔ای کامرس ٹھپ ہے کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے ۔محدود رفتار کے انٹرنیٹ سے ہونے والے نقصانات کا اگر شمار کرنے بیٹھیں تو فہرست بہت طویل ہوجائے گی اور اس سہولت کو محدود کرنے کے عذرات محدود ہی ہونگے ۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے ہورہے نقصانات کو ملحوظ خاطر رکھ کر حکام بالا اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ادہم پور اور گاندربل اضلاع میں یہ آزمائشی سلسلہ ختم کرکے انٹرنیٹ سروس کو مستقل بنیادوںپر چلانے کے علاوہ جموںوکشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اس سروس کو بحال کیاجائے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دور میں آپ سیکورٹی کے حوالے سے خدشات کو دیگرذرائع سے بھی ایڈرس کرسکتے ہیں۔
اس ضمن میں لیفٹنٹ گورنر سے کچھ مثبت فیصلہ کی امید کی جاسکتی ہے کیونکہ نہ صرف تاحال اُن کا اپروچ مثبت ہی رہا ہے اور اُن کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ اُنہیں عوامی معا ملات کا فہم ہے اور وہ وسیع سیاسی تجربہ رکھتے ہوئے لوگوں کے مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں بلکہ انہوںنے چند روز قبل ہی انٹر نیٹ کے حوالے سے اچھی خبر آنے کی نوید بھی سنائی تھی۔ چونکہ انٹرنیٹ سروس کا معاملہ کورونا وبا کی وجہ سے بند پڑے تعلیمی اداروں کو دیکھتے ہوئے ہمارے مستقبل کے ساتھ براہ راست جڑا ہوا ہے ،تو اُمید راسخ ہے کہ لیفٹنٹ گورنر ترجیحی بنیادوں پرصرف دو اضلاع میں آزمائشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کا ورد کروانے کی بجائے جموںوکشمیر کے عوام کو فور جی انٹرنیٹ سروس فراہم کروائیں گے جس سے وہ اب گزشتہ تقریباًڈیڑھ برس سے محروم ہیں۔

تازہ ترین